امیر خطے کے غریب ماہی گیر

امیر خطے کے غریب ماہی گیر
امیر خطے کے غریب ماہی گیر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دنیا میں جس جس ممالک کے لئے سمندری راستے موجود ہیں وہ قوم اپنے اوپر ناز کرتی ہے ، ایک ہم ہی ہیں اتنی بڑی ساحلی پٹی اور سمندری حدود کے باوجود دو وقت کی روٹی اور آسان زندگی کے لئے محروم ہیں۔ ساحل بلوچستان کے نوّے فیصد افراد ماہی گیری کے پیشہ سے منسلک ہیں۔ وہ انتہائی جانفشانی اور سخت محنت کرکے اپنی روزی روٹی حاصل کرتے ہیں۔ شعبہ ہائے ماہی گیری سے جڑے لوگ سمندر کی بے رحم موجوں سے لڑ کر سمندر کی تہہ میں جاکر اپنی روزی کے ساتھ ساتھ ملکی زرمبادلہ کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ان لوگوں کی زندگی میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئی۔ آج اکیسویں صدی میں یہ لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس دور میں بھی اس پیشہ سے جڑے لوگ تمام تر زندگی کے بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہیں۔ نہ سمندر میں ان کی زندگی محفوظ ہے اور نہ ہی زمین کے اوپر انہیں کوئی اچھی زندگی نصیب ہے۔ 
بلوچستان کے ماہی گیروں کو ان تمام تر مسائل کے ساتھ ایک مسئلہ بھی درپیش ہے کہ سمندر میں ان کے شکار کرنے کی حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ کرنے والوں کا سامنا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کے مطابق غیر قانونی ٹرالرز سمندر میں آکر ان کے شکار کی حدود کی خلاف ورزی کے ساتھ سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جس سے کئی اقسام کی مچھلیاں بلوچستان کے ساحل سے نایاب ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ بیس لاکھ مقامی ماہی گیروں کا روزگار شدید خطرے سے دوچار ہے۔ 
بلوچستان میں بسنے والے ماہی گیروں کی کوئی مستقبل نظر نہیں آتا ہے ، کئی کئی نسلیں شعبہ ہائے ماہی گیری سے تباہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ ماہی گیروں کے بچے غربت و بیروزگاری کی وجہ سے چائلڈ لیبر کے شکار ہیں۔ غربت بلوچستان کے ساحلی شہروں میں جبری مشقت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کیونکہ اس ساحلی پٹی میں کوئی انڈسٹریز یا صنعتی یونٹ سرے سے موجود نہیں ہے۔ دیگر ذرائع روزگار نہ ہونے سے مجبوراً لوگ خود بھی اور بچے سمندر کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مقامی ماہی گیروں کو شکایت ہے کہ ملک کے حکمرانوں نے ان کو آج تک لیبر قوانین کے مطابق لیبر کا درجہ نہیں دیا ہے جو کہ خود قانون ساز اداروں کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ اگر حکومت چاہے وہ ماہی گیری کی شعبہ کو ترقی دے کر ماہی گیروں کی زندگی اور روزگار کے تحفظ کے لئے قانونی سازی اور ان پر عمل درآمد یقینی بنا سکتی ہے ، جس سے نہ صرف ماہی گیر برسرروزگار ہوں گے ، بلکہ ملک سے بیروزگاری کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ ملک میں زرمبادلہ بڑھانے کے لئے ماہی گیری کا شعبہ بہت اہم ہے ۔بشرطیکہ حکومت اس طرف دھیان دے۔ بلوچستان کی ساحلی علاقوں میں جیٹی کی تعمیر اور ان کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکام کا بنیادی فرض ہے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -