فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر504

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر504
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر504

  

فلمی فنکاروں کی کمی پوری کرنے کیلئے اب ٹی وی کے فنکاروں کا سہارا لیا جاتاہے لیکن ٹی وی والے اپنے آپ چاہے کتنے ہی گن گائیں مگر یہ حقیقت ہے کہ فلمی ستاروں جیسی دلکشی او ر کشش ان میں پیدا نہیں ہوسکتی۔کسی بھی رنگا رنگ تقریب میں فلمی ستاروں کی موجودگی اس کی رونق میں چار چاند لگا دیتی ہے۔

یہ تو ہمارے ملک کے فلمی ایوارڈز کی صورت حال ہے۔بھارت کی فلمی صنعت کافی بڑی ہے۔وہاں آٹھ سو سے زائد فلمیں بنتی ہیں جن میں ہندی )اردو(فلموں کی تعداد ڈیڑھ سو سالانہ کے لگ بھگ ہے لیکن وہاں بھی ممتاز اور قابل ذکر فنکار انگلیوں پرگنے جا سکتے ہیں پھر وہاں علاقائی زبانوں کی فلمیں بہت زیادہ ترقی یافتہ اور مقبول ہیں اس لیے ہندی فلموں کے ایوارڈ کے لیے مقابلے میں حصہ لینے والے بہت کم ہوتے ہیں۔’’فلم فیئر ایوارڈ‘‘آج بھی بالی وڈ کے مقبول ترین فلمی ایوارڈز سمجھے جاتے ہیں۔یہ معتبر بھی ہوتے ہیں اور ان کے حاصل کرنے والوں کو واقعی خوش نصیب سمجھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ صدارتی اور دیگر انعامات بھی ہر سال تقسیم کیے جاتے ہیں۔بھارتی فلمی صنعت میں تعلیم یافتہ افراد بہت بڑی تعداد میں ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اب وہاں جاہل اور ان پڑھ لوگوں کا قحط پڑگیا ہے تو درست ہوگا۔وہاں کے اداکار،موسیقار ،فلمساز،ہدایت کار،مصنف اور دوسرے تمام ہنر مند اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔یہ او ر بات ہے کہ تعلیم بھارتی فلمی صنعت کاکچھ نہیں بگاڑ سکی ہے اور وہاں اب بھی بیشتر فلمیں بے تکی،بے مغز اور بے سروپا بنائی جاتی ہیں لیکن ان کے پیچھے بھی تعلیم یافتہ اور شائستہ افراد کا ہاتھ نظر آجاتا ہے۔ہر سال وہاں کچھ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت میں علا قائی زبانوں کی فلمیں بہت زیادہ ترقی یافتہ اور منافع بخش ہیں۔ذہین اور تعلیم یافتہ افراد ان میں کثرت سے موجود ہیں۔تامل،گجراتی،مر اہٹی،بنگالی ادب بہت زیادہ ترقی یافتہ ہے جس کی وجہ سے وہاں عموماًاچھی کہانیاں اور اچھے موضوعات کو فلمایا جاتا ہے۔اپنے علاقوں میں یہ فلمیں بہت زیادہ کامیاب ہوتی اور خوب پیسہ بھی کماتی ہیں۔ہندی)اردو کو اب وہاں ہندی کہا جات ہے(فلموں کے فلم ساز مقبول اور کامیاب علاقائی فلموں کو ہندی میں بنا کر بہت کامیابی اور منافع حاصل کرتے ہیں۔یہ رواج وہاں بہت پرانا ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر503پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قیام پاکستان کے فوراًبعد مدارس کی کامیاب فلمیں جب اردو میں بنائی گئیں تو انہیں بے انتہا پذیرائی حاصل ہوئی یہاں تک کہ مدراسی ہیروئنیں بمبئی کی فلمی صنعت پر چھا گئیں۔مدارس کی فلمی صنعت مالی اعتبار سے بھی بہت آگے بھی۔فلم اسٹوڈیو بہت اچھے اور منظم تھے۔فلم ساز دولت مند تھے۔اس لیے جب انہوں نے بمبئی سے اردو کے مقبول ترین فنکاروں کو مدارس بلا کر فلمیں بنائیں تو نہ صرف بہت زیادہ دولت کمائی بلکہ فنکاروں کو بھی نہال کر دیا۔بمبئی کے قرضہ لے کر فلم بنانے والے فلم ساز ان فنکاروں کو نہ تو اتنا زیادہ معاوضہ دے سکتے تھے اور نہ ہی یک مشت ادائیگی کر سکتے تھے جبکہ مدراس کے فلم ساز ایک ماہ یا ڈیڑھ ماہ کے لیے فنکاروں کی خدمات حاصل کرک کے انہیں تمام معاوضہ ادا کردیا کرتے تھے اور ایک ڈیڑھ مہینے میں انہیں فارغ بھی کر دیا کرتے تھے۔اس کے برعکس بمبئی میں فلمیں سالوں میں بنتی تھیں اور معاوضہ کی ادائیگی بھی فلم بندی کی رفتار کے مطابق اقساط میں کی جاتی تھی۔ایک زمانہ ایسا بھی آگیاتھا جب دلیپ کمار،راج کپور،دیو آنند،مینا کماری،نمی،نرگس جیسے فنکار مدارس کی فلموں میں کام کرنے کو ترجیح دینے لگے تھے۔

ذکر فلم ایوارڈ کا تھا اور بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔فلم ایوارڈز کے سلسلے میں آج بھی بمبئی کے فلم فیئر ایوارڈز ہی بالی وڈ کے معتبر ترین ایوارڈز سمجھے جاتے ہیں۔ان کے مقابلے میں سرکاری ایوارڈز کو بھی زیادہ مقبولیت اور اہبیت حاصل نہیں ہے۔جو نئی دہلی میں منعقد ہوتے ہیں۔فلم فیئر ایوارڈز کے امیدواروں میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے۔جیسا کہ کسی زمانے میں پاکستان میں نگار فلم ایوارڈز کے سلسلے میں ہوتا تھا۔انعام پانے والے خوش نصیب کہلاتے ہیں اور ایوارڈ یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کی قدرو قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔اگرچہ سرکاری ایوارڈز کے مقابلے میں فلم فیئر ایوارڈز کے ساتھ نقد رقم نہیں دی جاتی اس کے باوجوود ان کی اہمیت اور قدرو منزلت فلم بینوں اور فنکاروں کے نزدیک بہت زیادہ ہے۔

بمبئی کی فلمی صنعت میں بھی فنکاروں میں کاروباری رقابتیں ہیں لیکن ایوارڈ سے محروم فنکاروں نے کبھی اوچھے اور عامیانہ بیانات نہیں د ئے ۔غالباًیہ ان کی تعلیم و تربیت اور ایک مہذب ماحول میں رہنے کی وجہ ہے جس سے بدقسمتی سے ہماری فلمی صنعت یعنی لالی ووڈ یکسر محروم ہے۔

ہالی وڈ میں سب سے معتبر اور معروف فلم ایوارڈز ’’آسکر ایوارڈز‘‘ہیں۔یوں تو امریکا ہی میں فلمی نقاد اور دوسرے ادارے بھی ایوارڈ تقسیم کرکتے ہیں پھر دنیا میں مختلف مقامت پر عالمی فلمی میلے منعقد ہوتے ہیں جہاں قابل ذکر فلموں کو ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں۔ان میں کان کے مقام پرمنعقد ہونے والے فلمی میلے اور اس میں تقسیم کیے جانے والے ایوارڈز بھی اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن ’’آسکر‘‘کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔عام طور پر اس میں امریکی فلموں ہی کو شامل کیا جاتا ہے لیکن غیر ملکی زبانوں کی پانچ فلمیں بھی اس کیلئے ہر سال نامزد ہوتی ہیں جن میں سے کسی ایک کو مجموعی طور پر بہترین غیر ملکی فلم کا ایوارڈ دیا جاتا ہے ۔آسکر ایوارڈز کیلئے مختلف ممالک کے فلم ساز اپنی منتخب فلمیں بھیجتے ہیں جن میں سے ’’آسکر‘‘کمیٹی کے ارکان پانچ بہترین فلموں کا انتخاب کرتے ہیں۔ان میں سے صرف ایک فلم کو مجموعی طور پر بہترین فلم کا ایوارڈ دیا جاتا ہے۔کسی پاکستانی فلم کو کبھی آسکر کیلئے نامزدگی کا مستحق نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ سچ پوچھئے تو کسی پاکستانی فلم ساز نے اس مقابے میں اپنی فلم شامل کرنے کی جرات ہی نہیں کی۔اس کے برعکس کئی بار بھارتی فلمیں نامزدکی گئیں لیکن آسکر حاصل نہ کر سکیں۔ہدایت کار محبوب کی فلم’’مدر انڈیا‘‘ بھی اس مقابلے میں شریک ہوئی تھی مگرانعام حاصل نہیں کر سکی۔ اداکار و فلم ساز عامر خان کی فلم ’’لگان‘‘اس مقابلے میں شریک تھی اور نامزد بھی کر لی گئی تھی۔عامر خان نے ایک ہنر مند کاروباری شو مین کی طرح اپنی فلم کی امریکا اور یورپ کے طول و عرض میں بہت کامیابی سے پبلسٹی کی تھی جس پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے ۔انہوں نے اس فلم کے حوالے سے مختلف ملکوں میں خصوصی تقاریب بھی منعقد کیں جن میں بھارتی فلمی صنعت کا بہت چرچا کیا گیا۔بھارتی اخبارات کے مطابق وہ ایک سرکس کے ہمراہ آسکر کی مہم سر کرنے نکلے تھے لیکن تمام ہنر مند اقدامات کے باوجود ان کی فلم’’آسکر‘‘نہ حاصل کر سکی لیکن عامرخان نے اس کی پبلسٹی کیلئے جو حربے استعمال کیے تھے وہ رائگاں نہیں گئے۔یورپ اور امریکا میں ان کی فلم بہت اچھے داموں پر خرید لی گئی خان نے آسکر کا بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دیا لیکن محاورے کے مطابق آسکر کے پارس پتھر کو چھو لینے کی وجہ سے ان کی فلم’’سونا‘‘بن گئی اور انہوں نے ساری دنیا میں خوب دولت اور شہرت کمائی۔اس وقت بھارتی فلمیں ساری دنیا میں دکھائی جاتی ہیں اور خوب کامیاب وکامران ہیں۔فلم سازوں کو اب ’’کماؤ پوت‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ہر سال کروڑوں ڈالر کما کر لاتے ہیں۔ہم اس پر حسرت و یاس کے اظہار کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔ہماری پاکستانی فلمیں تو اب ملک ہی میں دیکھنے کے لائق نہیں سمجھی جاتیں۔باہر کے ملکوں میں ان کی کیا مارکیٹ اور پذیرائی ہوسکتی ہے۔وہی فارسی کا قول ہے کہ تم نے اندر کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے کہ اب باہر والوں کو منہ دکھانے آگئے ہو۔ہمارے فلم سازوں کی ہوشیاری کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے باہر والوں کومنہ دکھانے کی جرات اور کوشش ہو نہیں کی ۔سچ تو یہ ہے کہ جب اپنوں کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے تو باہر والوں کے سامنے کس منہ سے جائیں گے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ