اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 24

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 24

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چلتے چلتے جب رات آدھی سے زیادہ بیت گئی اور دب اکبر کے برج کے سیارے مشرق کی طرف کافی جھک گئے تو میں نے سوچا تھوڑی دیر رک جانا چاہیے کہ شاید پیچھے سے آتا ہوا کوئی قافلہ مل جائے جو شہر سے میرے فرار ہونے کے بعد کارواں سرائے سے چلا ہو ۔۔۔ میں ایک ٹیلے کی اوٹ میں ہو کر بیٹھ گیا۔ میرا دل بے چین تھا اور میں اڑ کر اپنی محبوبہ روکاش کے پاس پہنچ جانا چاہتاتھا لیکن میرے پاس اس بے تاب خواہش کو پورا کرنے کے لئے کوئی وسیلہ نہیں تھا۔

میں ان ہی خیالوں میں گم تھا کہ مجھے صحرائی رات کی ساکت خاموشی میں گھنٹیوں کی دھیمی دھیمی آواز سنائی دی۔ پہلے تو میں سمجھا کہ یہ میرے وہم اور تخیل کی کارستانی ہے۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ صحرا کی خاموشیاں اپنے اندر کئی اسرار لئے ہوئے ہیں اور کبھی کبھی رات کے سکوت میں ریت کے بھنور گہرے گڑھوں میں گرتے ہیں تو عجیب قسم کی پر اسرار آسیبی آوازیں پیدا ہوتی ہیں لیکن گھنٹیوں کی آواز قریب آرہی تھی۔ میں ٹیلے کی اوٹ سے نکل کر پیچھے دیکھنے لگا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 23پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے نیم روشن رات میں ایک اونٹ آتا نظر آیا جس پر ایک آدمی سوار تھا۔ یہ اکیلا شتر سوار کون ہوسکتا ہے؟ یا تو کوئی ڈاکو ہے۔ یا سرکاری ہرکارہ ہے۔ میں نے اپنا چہرہ پگڑ کے پلو میں آنکھوں تک چھپالیا۔ جیسے صحرا میں سفر کرنے والے مسافر اکثر کیا کرتے ہیں۔ شتر سوار میرے قریب آگیا تھا۔ اب اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا۔ میں نے اس کے لباس سے اندازہ لگا لیا کہ یہ شاہی ہرکارہ نہیں ہے۔ اس نے دیوتاؤں کا نام لے کرمجھے سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ میں نے اسے بتایا کہ مسافر ہوں۔ قافلے سے بچھڑگیا ہوں ۔ منوچہر جھیل کے علاقے میں رہتا ہوں۔ وہاں جانا چاہتا ہوں۔ شترسوار نے کہا۔ میں ہڑپہ جا رہا ہوں۔ تمہیں راستے میں اتاردوں گا۔ اس نے مجھے اپنے اونٹ پر پیچھے بٹھا لیا اور روانہ ہوگیا۔ اونٹ کے گلے میں گھنٹیاں بندھی تھیں جو چلتے وقت راگنیاں بکھیر رہی تھیں۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں صحرا میں سانپ پکڑنے آیا تھا؟ کیونکہ میرا لباس سپیرے کا تھا۔ میں نے یوں ہی کہہ دیا کہ ہاں ۔۔۔ گاؤں سے سانپ پکڑنے ہی قافلے کے ساتھ نکلا تھا کہ ایک جگہ اتر کر ذرا دور چلا گیا۔ واپس آیا تو قافلہ جا چکا تھا۔ اس نے کہا کہ مجھے قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کبھی قافلے سے دور نہیں جانا چاہیے۔ میں نے اسے بہانا بنا کر کہا کہ گاؤں میں میری والدہ گھر میں اکیلی رہتی ہے۔ مجھے اس کی بہت فکر ہے۔ ذرا اونٹ کی رفتار تیز کر دو تو مہربانی ہوگی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے اونٹ سے محبت کرتا ہے اور اسے کبھی نہیں دوڑاتا۔ لمبا سفر ہے۔ یہ اسی رفتار سے چلے گا۔ میں چپ ہوگیا۔

جب میں قبرستان سے چلا تھا تو میرے شاہی لبادے کی جیب میں سونے کے چند سکے تھے جو میں نے قصداً رکھ لئے تھے کہ راستے میں کام آئیں گے۔ میں نے جیب سے سونے کا ایک سکہ نکال کر اسے دیا اور کہا کہ ار وہ مجھے جلدی پہنچا دے گا تو میں اسی طرح کا ایک اور سونے کا سکہ دوں گا۔ یہ موہنجودڑو کا سب سے قیمتی سکہ تھا اور اس زمانے میں اس سکے کے عوض ایک اونٹ خریدا جا سکتا تھا۔ شتر سوار بڑا خوش ہوا اور یہ کہہ اس نے اونٹ کو دوڑانا شروع کر دیا کہ تمہاری والدہ کے خیال سے رفتار تیز کیے دیتا ہوں ورنہ دولت کا مجھے اتنا لالچ نہیں ہے۔

اونٹ کی رفتار تیز ہونے سے سفر جلدی طے ہونے لگا۔

اسی رفتار سے دوڑتے ہوئے بھی ابھی دو دن کا سفر باقی تھا۔ رات ڈھل گئی صبح کا اُجالا چاروں طرف پھیل گیا۔ چونکہ ہم قافلے والی شاہراہ پر سفر کر رہے تھے اس لئے جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ ایک چھوٹا سا نخلستان آگیا ہے جہاں کھجوروں کے ٹھنڈے جھنڈوں کے نیچے ایک چشمہ بہہ رہا تھا۔ شتر سوار نے یہاں اونٹ بٹھا دیا۔ ہم ہاتھ منہ دھو کر تازہ دم ہوئے۔ میرے سفر نے جھولے میں سے خشک مچھلی اور مکی روٹی نکال کر میرے سامنے رکھ دی۔ مجھے نہ بھوک تھی نہ پیاس۔ پھر بھی اس کا دل رکھنے اور اپنا بھوک پیاس نہ لگنے کا راز چھپانے کا خیال سے اس کے ساتھ کھانے لگا۔ سورج کے طلوع ہونے کے گھوڑی ہی دیر بعد انتہائی گرم لوچلنے لگی اور صحرا کی ریت اور ٹیلوں کی ڈھلانوں سے سینک اٹھنے لگا۔ نخلستان کی ٹھنڈی چھاؤں میں میرا ساتھی لمبی تان کر سوگیا۔ اونٹ لمبی گردن اٹھائے جگالی کر رہا تھا اور میں بے قرار سے ٹہل رہا تھا۔ میں بڑی آسانی سے اس آدمی کا اونٹ بھگا کر لے جا سکتا تھا لیکن یہ بد دیانتی تھی مگر یقین کریں کہ میں اپنی محبوبہ روکاش سے ملنے کی تمنا میں یہ بددیانتی بھی کر گزرتا اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ اس جہنم کی تپش میں اونٹ دوڑتے دوڑتے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

ناچار مجھے شام ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔ شام ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے دھوپ کا رنگ پھیکا پڑ گیا اور ریت کے ٹیلوں کے سائے لمبے ہوگئے تو ہم نے ایک بار پھر اپنا سفر شروع کردیا۔ خدا خدا کر کے آخر وہ مقام آگیا۔ جہاں سے مجھے منوچہر جھیل کے جنگل کی طرف جانے کے لئے الگ ہونا تھا۔ میں نے سونے کا دوسرا سکہ بھی اپنے محسن کو دے دیا اور اس کا شکریہ ادا کر کے صحرائی کارواں کے راستے سے ہٹ کر جھیل منوچہر کی طرف روانہ ہوگیا۔ یہ سارا دس کوس کا فاصلہ تھا اور ریت کے اونچے اور دور تک گئے ہوئے ٹیلے کے سئے میں آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ راستہ میر اجانا پہچانا تھا۔ اس سے پہلے بھی دو ایک بار میں ہڑپہ کے کاہن اعظم کے ساتھ یہاں سے گذر چکا تھا۔

ٹیلہ ختم ہوا تو چھوٹی جنگلی جھاڑیوں اور سکت ریت کی ٹیکریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ میں تیز دھوپ میں بھی دن بھر سفر کرتا رہا اور جب دھوپ ڈھلنے لگی تو دور سے مجھے منوچہر جھیل کے جنگلوں کے جھنڈ دکھائی دیئے۔ میرا دل خوشی سے اچھل پڑا۔ ان جھنڈوں میں کسی جگہ میری روکاش بے چینی سے میری راہ دیکھ رہی ہوگی۔ میں دیوانہ اور دوڑنے لگا۔ ریت سخت تھی۔ میرے پاؤں اس میں دھنس نہیں رہے تھے مگر میری چمڑے کی جوٹی ٹوٹ گئی۔ میں نے اسے ایک جھاڑی میں پھینک دیا او رننگے پاؤں ہی دورنے لگا۔ نہ میرا سانس پھولا اور نہ میرے پاؤں میں چھالے پڑے اور میں منوچہر جھیل کے جنگل میں داخل ہوگیا۔

یہ کریٹر اور مختلف قسم کے کانٹے دار درختوں کا جنگل تھا۔ میرے قدم تیزی سے منوچہر جھیل کی طرف اٹھ رہے تھے۔ یہ جھیل گھنے درختوں والے جنگل کے بیچ میں کوسوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ جھیل سے پہنچ کر میں جنوب مشرق کی جانب ان ویران بھٹوں کی طرف آیا جہاں میں نے الکندہ کو روکاش کے ساتھ چھپنے کے لئے کہا تھا۔ یہ تھوڑے تھوڑے فاصلے بنائے گئے تین بھٹے تھے۔ جہاں کسی زمانے میں مٹی کی ٹائیل نما اینٹوں کو پختہ کیا جاتا تھا مگر جھیل کے کنارے ایک بیماری پھیلنے کی وجہ سے ان بھٹوں میں کام کرنے والے مزدور بھاگ گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھٹے کھنڈر بن گئے۔ ان کے اندر وہ زمین دوز بھٹیاں اب بھی تنگ گڑھوں اور سرنگوں کی شکل میں موجود تھیں جہاں کبھی آگ دہکائی جاتی تھی۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ ان تمام سرنگوں کو کھنگال ڈالا مگر الکندہ اور روکاش کہیں دکھائی نہ دیں۔ میں نے انہیں جگہ جگہ آوازیں دیں لیکن مجھے سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ ملا۔ میری حالت اس ہرن کی سی تھی جو اپنی ہرنی کی تلاش میں جنگل میں بھٹکتا پھر رہا تھا۔

کریٹر کے درختوں کی گھنی شاخوں میں سے دھوپ چھن چھن کر آرہی تھی۔ میں نے ایک بھٹے کے کھوہ کے باہر گھوڑوں کے سموں کے نشان بھی دیکھے جو بھٹے کے کھوہ میں جا رہے تھے۔ کھوہ کے اندر گہرا اندھیرا تھا۔ میں ننگے پاؤں تھا۔ میرا ایک پاؤں اندھیرے میں کسی سخت پیز پر پڑا۔ میں اسے اٹھا کر کھوہ سے روشنی میں لے آیا۔ میرا دل اچھل کر حلق کے قریب آگیا۔ یہ روکاش کا موتیوں کا ہار تھا جو اس روز اس نے اپنے گلے میں پہن رکھا تھا۔ جب میں نے اسے الکندہ کے ساتھ مندر سے فرار کر وایا تھا۔ تو کیا روکاش؟ اس سے آگے میں نہ سوچ سکا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار