عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر56

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر56
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر56

  

سلطان محمد خان نے تاج و تخت سنبھال لیا تھا ۔ پہلے روز اس پر اپنے بھائی کے قتل کا جو الزام لگاتھا ۔ وہ صاف ہوچکا تھا ۔ دراصل زیادہ تر عمائدین سلطنت کو تو یہ سوچ کر یقین آگیا تھا کہ اگر ننھے شہزادے کے قتل کا حکم سلطان نے دیا ہوتا تو وہ اسے کبھی بھی عین تقریبِ تاجپوشی کے دوران قتل نہ کرواتا۔ وہ اپنی تخت نشینی کے مراسم سے فارغ ہونے کے بعد بھی اس بچے کی جان لینے کی تدابیر پر عمل کرسکتا تھا ۔ اس شیر خوار بچے کو تخت نشین کرنے کا خیال کسی رکنِ سلطنت کے دل میں موجود نہ تھا ۔ بلکہ سب محمد خان کے حامی تھے۔ سلطان تو تخت نشینی سے دور روز قبل ہی ’’ادرنہ ‘‘ آیا تھا ۔ جبکہ فوج کا سربراہ پہلے سے ہی یہاں موجود تھا۔ اگر یہ کام سلطان نے کروایا ہوتا تووہ ان سرداروں سے کرواتا جو ایشیائے کوچک سے ادرنہ اس کے ساتھ آئے تھے۔ اور جن پر اس کو مکمل بھروسہ تھا ۔ ادرنہ میں آتے ہی ایک ایسے سردار کو جو اس کے لیے کوئی مانوس شخص نہ تھا ۔ اس طرح کا حکم دینا معمولی احتیاط کے بھی خلاف تھا ۔ پھر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ’’ینی چری‘‘ کے سپہ سلار نے مرتے دم تک دوبارہ سلطان پر الزام نہ لگایا تھا ۔ یہی باتیں سوچ کر اراکینِ سلطنت مطمئن ہوگئے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر55پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دراصل ینی چری فوج چونکہ سلطنتِ عثمانیہ کی لاڈلی فوج سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے اس فوج اور اس فوج کے سرداروں میں عام طور پر سرکش اور بغاوت کے اثرات پائے جاتے تھے۔ قاتل سپہ سالار نے سلطان کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے یہ حرکت کی تھی۔ اسے توقع تھی کہ سلطان بغاوت کے ڈر سے اس کی جان بھی نہ لے گا۔ اور ہمیشہ اس سے دبا رہے گا لیکن سلطان محمد خان بالکل مختلف مزاج کا شخص ثابت ہوا۔ جو لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ سلطان محمد خان وہی سلطان ہے ، جو چند سال پہلے دوبار ناکام سلطان رہ چکا ہے۔ لہٰذا اب بھی ناکام رہے گا۔ وہ ’’محمد خان‘‘ کے اس اقدام سے خبردار ہوگئے تھے ۔ اورا نہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ سلطان محمد خان اب بچہ نہیں رہا۔محمد خان کی تخت نشینی سے تین سال قبل بازنطینی سلطنت کا آخری فرمانروا ..........بارہواں قسطنطین ، قسطنطنیہ کے تخت پر بیٹھ چکا تھا ۔یہ بھی ’’جان پلیو لوگس‘‘ کی طرح چالاک اور ہوشیار آدمی تھا ۔ اس نے سلطان محمد خان کی تخت نشینی کے بعد ایشیائے کوچک کے سرکش اور باغیانہ خیالات رکھنے والے امیروں کو سہارا دے کر فوراً ایک بغاوت برپا کرادی تھی۔ جس کے سبب سلطان محمد خان کو تخت نشین ہونے کے چند دن بعد ہی ایشیائے کوچک کی جانب متوجہ ہونا پڑا ۔ ابھی سلطان ایشیائے کوچک کے انتظام سے فارغ نہ ہو اتھا کہ شہنشاہِ قسطنطنیہ نے اس کے پاس پیغام بھیجا کہ سلطان ’’مراد خان ثانی‘‘ کے زمانے سے خاندانِ عثمانیہ کا ایک شہزادہ ’’ارخان‘‘ نامی ہماری پاس نظر بند ہے ۔ اس کے اخراجاتِ ضروریہ کے لیے جو رقم سلطانی خزانہ سے آتی ہے اس میں اضافہ کرو۔ ورنہ ہم اس شہزادے کو آزاد کردیں گے۔ اور آزاد کرکے اسے تمہارے خلاف فو ج کشی کرنے میں مدد بھی دیں گے۔

’’ارخان‘‘ ’’بایزیدیلدرم‘‘ کا پوتا تھا ۔ جو بایزید یلدرم کے ان بیٹوں میں سے تھا جو ’’جنگِ انگورہ ‘‘ کے بعد بکھر گئے تھے،ایک کا بیٹا تھا ۔ اس لحاظ سے ’’ارخان‘‘ سلطان مراد خان ثانی ‘‘ کا چچا زاد بھائی بھی تھا ۔قیصرِ قسطنطنیہ چونکہ ’’سلطان محمد خان‘‘ کو ایک کمزور طبیعت کا شخص سمجھتاتھا ۔ اس لیے اس نے اس دھمکی کے ذریعے سلطان سے روپیہ اینٹھنا اور اس کو دبانا چاہا۔ لیکن سلطان محمد خان نے اس کی مطلق پرواہ نہ کی۔ چنانچہ سلطان نے قیصر کے ایلچیوں کو نامراد لوٹا دیا۔ اور دل میں تہیہ کرلیا کہ جب تک عیسائی سلطنت کا قصہ پاک نہ کردیا جائے۔ سلطنتِ عثمانیہ کا قیام و استحکام ہمیشہ خطرے میں رہے گا۔ اس وقت سلطان نے قیصر کے ایلچیوں کو کوئی صاف جواب نہ دیا ۔ اور خود قیصر کے خاتمے کی تدبیریں سوچنے لگا۔

’’قسطنطین ‘‘ ایک جنگجو شہزادہ تھا ۔ لیکن اس نے ’’محمد خان‘‘ کو چھیڑ کر اسی غلطی کو دہرایا جو اس کے پیش رو ’’مینوئیل‘‘ نے ’’سلطان مراد ثانی ‘‘ کے ساتھ کی تھی۔ ’’ارخان‘‘ شہزادہ سلیمان‘‘ کی اولاد میں سے تھا ۔ شہنشاہ نے سلطان محمد خان کو دھمکی تو دے دی ۔ لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ نوعمر سلطان کی قوتیں حیرت انگیز سرعت کے ساتھ ترقی پاچکی ہیں۔ اور بائیس سال کی عمر میں ہی وہ ارادے کی پختگی ،فوجی قابلیت اور ملکی تنظیم و تدبیر میں اپنے سے پہلوں کا حریف بن چکا ہے۔’’سلطان محمدخان ‘‘کے وزیراعظم ’’خلیل پاشا ‘‘ نے قسطنطین کے واپس ہوتے ہوئے ایلچیوں کو اس احمقانہ مطالبے کے خطرات سے آگاہ کیا ۔ اور سفیروں سے کہا ’’تمہارا جنون ’’قسطنطنیہ کو سلطان کے ہاتھوں میں دے کر رہے گا ۔ یورپ میں ’’ارخان ‘‘ کے سلطان ہونے کا اعلان کردو ۔ بے شک اہل ہنگری کو اپنی مدد کے لیے بلا لو۔ جو صوبے تم واپس لے سکتے ہو، بے شک لے لو۔ لیکن بہت جلد تم کو بازنطینی سلطنت کا خاتمہ بھی نظر آجائے گا۔‘‘

جس روز قیصر کے ایلچی سلطان سے ملے۔ اسی روز سے سلطان نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ ’’قسطنطنیہ ‘‘ کو اپنی سلطنت میں شامل کر ے گا۔ ’’سینوپ‘‘ اور ’’طرابزون‘‘ کے علاوہ قدیم بازنطینی سلطنت کے تمام ایشیائی علاقوں پر عثمانیوں کا قبضہ ہوچکا تھا ۔ یورپ میں بھی صرف ’’قسطنطنیہ‘‘ اور اس کے مضافات اس سلطنت سے باقی رہ گئے تھے۔ قیاصرہ کی وہ عظیم الشان سلطنت جو اپنی وسعت اور قوت کے لحاظ سے کبھی دنیا کی تمام سلطنتوں پر فوقیت رکھتی تھی۔ اب تباہی اور بربادی کی آخری حد تک پہنچ گئی تھی۔ اور جہاں تک وسعت اور قوت کا تعلق تھا ، گویا فناء ہوچکی تھی۔ تاہم اس حالت میں بھی ’’قسطنطنیہ ‘‘ کا وجود بجائے خود نہایت اہم تھا ۔ اور قصرِ سلطنت کی یہ پہلی اور آخری اینٹ ہنوز اپنی جگہ پر قائم تھی۔ ترکوں نے جس وقت یورپ کی سرزمین پر قدم رکھا ، اسی وقت سے اس شہر کو فتح کرنے کا حوصلہ ان کے دلوں میں پیدا ہوتا گیا ۔ جوں جوں فتوحات کا دائرہ بڑھتا جاتا تھا ۔ اس کے دلوں میں ارادے کی پختگی اور قوت آتی جاتی تھی۔ اور بالآخر اس کا پہلا عملی اظہار ’’بایزید یلدرم ‘‘ کے عہد میں ہوا۔جب اس نے ’’آبنائے باسفورس‘‘ کے مشرقی ساحل پر ایک مضبوط قلعہ تعمیر کرانے کے بعد’’قسطنطنیہ‘‘ کا محاصرہ کرلیا تھا ۔ لیکن محاصرہ کو چند ہی روز گزرے تھے کہ تیمور ی حملہ نے ’’بایزید‘‘ کو یہ محاصرہ اٹھالینے پر مجبور کیا ۔ اور ’’جنگِ انگورہ‘‘ کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے ’’قسطنطنیہ محفوظ و مامون ہوگیا ۔

’’سلطان مراد خان ثانی ‘‘اگرچہ شہنشاہ سے آویزش پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن خود شہنشاہ کی غداری نے اسے مجبور کیا کہ سلطنت کی حفاظت کے خیال سے سازشوں کے مرکز ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر قبضہ کرکے ہمیشہ کے لیے اس فتنہ کا استیصال کردے۔ مگر سلطنتِ بازنطینی کے ایامِ حیات ابھی کچھ باقی تھے۔ اور ’’سلطان مراد خان ‘‘ کو بھی محاصرہ اٹھاکر اپنی ایک بغاوت فرو کرنے کے لیے جانا پڑا۔

’’سلطان محمد خان‘‘ اچھی طرح جانتا تھا کہ ’’بحر مار مورا ‘‘ کے دونوں ساحلوں پر عثمانیوں کی حکومت ہے۔ اور درمیان میں ’’قسطنطنیہ ‘‘ عیسائیوں کے قبضے میں ہے۔ چنانچہ جب تک ’’قسطنطنیہ ‘‘ رہا۔ سلطان کے ایشیائی اور یورپی حصوں کا تعلق قائم نہیں رہ سکتا۔لہٰذا جہاں اسے عیسائی سازشوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر یلغار کرنی تھی۔ وہاں اپنی سلطنت میں استحکام کے لیے بھی اس کا ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر حملہ ناگزیر تھا ۔ یہ وجوہات تھیں۔ جن کی بناء پر اس نے پہلے روز ہی قسطنطنیہ پر حملے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اوراس طرح اس نے اپنے دورِ حکومت کے سب سے عظیم الشان کارنامے کے لیے تیاریاں شروع کردیں۔

قیصر کے ایلچیوں کے چلے جانے کے بعد سلطان ’’ادرنہ‘‘ واپس آیا۔ اور سب سے پہلے اپنے وزراء ، امراء ، سالاروں اور عمائدینِ سلطنت کا اجلاس طلب کیا ۔ اس اجلاس میں قاسم بھی موجود تھا ۔ سلطان چاہتا تھا کہ اپنے ارکانِ سلطنت کو نہ صرف اپنے ارادوں سے آگاہ کرے ۔ بلکہ ان سے ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر حملے کی منظوری بھی حاصل کرے۔یہ اتفاق تھا یا حسن اتفاق کہ جس دن سلطان نے یہ اجلاس طلب کیا ۔ اسی دن ادرنہ میں شہنشاہ قسطنطنیہ کی ایک اور سفارت پہنچی۔ عین اس وقت جب دربار میں قسطنطنیہ پر حملے سے متعلق گرما گرم بحث جاری تھی۔ وزیر سلطنت نے سلطان کے نزدیک آکر اس کے کان میں قیصر کے ایلچیوں کی بابت بتایا۔ دربار میں کچھ لوگ قیصر کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے حق میں نہ تھے۔ سلطان کو ایلچیوں کی آمد تائیدِ غیبی محسوس ہوئی۔ اور اس نے ان قسطنطینوں سفیروں کو دورانِ اجلاس اپنے دربار میں طلب کر لیا۔ شہنشاہ کے سفیر دربار میں داخل ہوئے تو تمام اہلیان دربار کی نظریں ان کی جانب اٹھ گئیں۔ یہ لوگ بھاری بھرکم جبوں میں ملبوس تھے۔ ان کی گردنوں میں طلائی صلیبیں لٹک رہی تھیں۔ اور سر پر ’’قسطنطنیہ ‘‘ کی مخصوص لمبوتری ٹوپیاں رکھی تھیں۔ شہنشاہ کا سفیر سلطان کے سامنے پہنچ کر شاہی آداب بجالائے بغیر بے ادبی سے کھڑا رہا ۔ سلطان کے اشارے پر سفیر نے شہنشاہ قیصر کا پیغام پڑھ کر سنانا شروع کیا:۔

’’شہنشاہوں کے شہنشاہ قیصرِ قسطنطنیہ ’’قسطنطین دوازدہم‘‘ کی جانب سے سلطان محمد خان کے نام!

سلطان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ بایزید یلدرم ‘‘ کا پوتا اور’’ سلیمان شاہ‘‘ کا فرزند ’’ارخان‘‘ ہماری قید میں ہے۔ جس کے نان نفقہ کے لیے جو رقم سلطانی خزانے سے بھیجی جاتی ہے وہ ناکافی ہے۔ چنانچہ سلطان کو چاہیے کہ وہ اس رقم میں اضافہ کرکے اسے دوگنا کرے۔ بصورتِ دیگر شہنشاہ عثمانی شہزادہ ’’ارخان ‘‘ کو آزاد کرکے ’’سلطان محمد خان‘‘ کے سامنے کھڑا کردے گا۔ شہنشاہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس مرتبہ شہنشاہ کے ایلچیوں کو ناکام و نامراد لوٹایا گیا تو تمام ذمہ داری سلطان پر ہوگی۔‘‘

قیصر قسطنطنیہ کے ایلچیوں کی زبانی قیصر کا پیغام سن کر تمام اہلیانِ دربار آگ بگولہ ہوگئے۔ سلطان کی ترکیب کامیاب رہی۔ اور وہ لوگ بھی جو قیصر کے خلاف نہ تھے۔ اس سفارت کے بعد پیچ وتاب کھانے لگے۔سلطان نے اہلیانِ دربار کی رائے لینے کے بعد شہنشاہ کے ایلچیوں کو نہایت ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکال دیا۔ قیصر کے ایلچی چلے گئے تو دربار میں جاری اجلاس پھر سے شروع ہوا۔ اس مرتبہ سب کی رائے یہ تھی کہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کے لیے زور و شور سے تیاریاں شروع کی جائیں۔ سلطان کو ایک بوڑھے رکنِ سلطنت نے اٹھ کر ایک عجیب مشورہ دیا :۔

’’سلطانِ معظم! سلطنتِ عثمانیہ کے سابقہ فرما نروا بھی قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ ’’ایشیائے کوچک‘‘ سے بغاوت اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اور انہیں ان شورشوں کو دور کرنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ میر ا یہ ناقص مشورہ ہے کہ اس مرتبہ قسطنطنیہ پر حملہ سے پہلے ’’امیر کرمانیا‘‘ کے ساتھ مکمل صلح کرلی جائے .......میرے ذہن میں اس صلح کے لیے ایک تجویز ہے ۔ اگر سلطانِ معظم اجازت دیں تو میں بیان کروں۔

’’اجازت ہے۔‘‘

’’سلطان معظم ! ’’امیر کرمانیا‘‘ کی ایک نوجوان لڑکی ہے۔ اگر سلطان معظم اس کے ساتھ عقد کا ارادہ فرمالیں۔ تو مجھے یقین ہے کہ ’’امیر کرمانیا‘‘ بخوشی یہ رشتہ قبول کر لے گا۔ اور اس طرح وہ ہمیں قسطنطنیہ کے محاصرہ کے دوران پریشان نہ کر سکے گا۔‘‘

سلطان کو بوڑھے رکنِ سلطنت کی تجویز بہت پسند آئی۔ اور اس نے بلا تأمل اس پر عمل کرنے کا ارادہ ظاہر کردیا ۔ اسی اثناء میں قاسم بن ہشام اپنی نشست پر اٹھ کھڑا ہوا۔ اور سلطان سے کچھ عرض کرنے کی اجازت چاہی۔ سلطان نے قاسم بن ہشام کی جانب دیکھا ۔ اور مسکراتے ہوئے بات کرنے کی اجازت دی :۔

’’سلطانِ معظم ! امیر کرمانیا کے ساتھ صلح کرنے کا مشورہ بے حد عمدہ اور بصیرت افروز ہے۔ اسی طرح میری رائے یہ کہ قسطنطنیہ پر حملہ سے پہلے ’’شاہِ ہنگری‘‘ بھی جو ہر دم اس تاک میں رہتا ہے کہ اسے سلطنتِ عثمانیہ سے بدلہ کا موقع ملے۔اگر اس سے بھی صلح کرلی جائے تو ہمارے لیے بہت مفید ہوگا۔‘‘

لیکن اس سے پہلے کہ سلطان کوئی جواب دیتا ۔ ایک نوجوان وزیر سلطنت اپنی نشست سے اٹھا اور عرض کی:۔

’’سلطانِ معظم! محترم قاسم بن ہشام کی عجیب رائے سن کر مجھے حیرت ہوئی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صلیبی جنگ کا سربراہ ہونیاڈے موقع ملنے پر اسلام کے خلاف تلوار نہ اٹھائے گا۔‘‘

وزیر سلطنت کی بات میں وزن تھا ۔ اب سلطان دیگر عمائدین سلطنت کی رائے بھی جاننا چاہتا تھا ۔ چنانچہ سلطان نے اہل اجلاس کو تبصرہ کرنے کی اجازت دی۔ وہی بوڑھا رکنِ سلطنت پھر اٹھا اور کہنے لگا:۔

’’سلطانِ معظم! قاسم بن ہشام کی رائے غیر درست نہیں۔ ہونیاڈے کے ساتھ صلح کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ہونیاڈے خود شہنشاہِ قسطنطنیہ کے خلاف مذہبی اختلاف رکھتا ہے۔ اسی طرح قسطنطنیائی افواج کا سپہ سالار ’’گرانڈڈیوک نوٹا راس‘‘ بھی ہونیاڈے کو مذہبی اختلاف کی وجہ سے ناپسند کرتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دونوں عیسائی ہیں۔ لیکن سلطانِ معظم جب سے عیسائیت دوبڑے مذہبی فرقوں میں تقسیم ہوئی ہے ۔ اس کا مرکزی اتحاد پارا پارا ہو کر رہ گیا ہے۔ دونوں فرقے ایک دوسرے کو کافر ، مرتد اور گمراہ کہتے ہیں۔ ان میں اتنی محبت بھی باقی نہیں رہی کہ کسی تیسرے دشمن مثلاً مسلمانوں کے خلاف کسی محاذ پر متحد ہوسکیں۔‘‘

سلطان بوڑھے رکنِ سلطنت کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا ۔ اسی اثناء میں وزیر اعظم ’’خلیل پاشا ‘‘ پہلی مرتبہ اپنی نشست سے اٹھا ۔ اور کہنے لگا:۔

’’سلطانِ معظم! ہمارے اراکینِ سلطنت کی دانشمندی اگر اسی طرح قائم رہی تو مجھے یقین ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ پر کبھی زوال نہیں آسکتا ۔ اہلِ قسطنطنیہ ابھی تک یونانی قدیم کلیسا کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اور قسطنطنیہ ہی اس فرقے کا مرکز ہے ۔ اس کے برعکس اصل ہنگری نئے فرقے رومن کیتھولک کے ساتھ وابستہ ہیں۔ جس کا مرکز ’’روما‘‘ میں ’’پاپائے روم‘‘ کا کلیسا ہے۔ ان کا یہ نفاق اسلام کے لیے اللہ کی امدادِ غیبی ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ ہم عیسائیت پر ایک آخری اور کاری ضرب لگائیں۔ میں قاسم بن ہشام کے مشورے کی تائید کرتاہوں۔‘‘

اب سلطان محمد خان کے لیے مزید کسی کا مشورہ سننا ضروری نہ تھا ۔ چنانچہ اس نے ایک سفارت تیار کرنے کا حکم دیا ۔ جو ہونیاڈے کے ساتھ صلح کی بات چیت کے لیے روانہ کیا جاتا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح