جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 41

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 41
جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 41

  

حافظ عبداللہ نے چشم زدن میں اپنا ہاتھ تھراتے ہوئے پرنسس کی جانب بڑھایاتو وہ یکایک پیچھے ہٹی ۔حویلی میں ابھی تک ایک دردناک اور دہشت میں ڈوبی چیخ گونج رہی تھی ۔ یوں لگ رہا تھا حویلی کی دیواروں میں سے کوئی بے تاب ہوکر باہر نکلنا چاہ رہا ہے ۔اسکا احساس بھی سبھی کو اس وقت ہوگیا جب دروبام بھی تھرتھرائے ،بالکل زلزلے جیسا جھٹکا تھا ۔دوسرے طالب علموں کے لئے یہ حیرانی کاسبب تھا اور انہیں بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہونے جارہا ہے ۔وہ آیت الکریمہ پڑھنا رک گئے تھے ،ایک د و طالب علموں کے چہروں پر تو خوف دھواں پھیل گیا تھا۔

حافظ عبداللہ نے گہری اور تیز نظروں سے اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا اور مخصوص انداز میں سر اور کاندھا ہلا کر اشارہ کیا ،طالب علم تو جیسے اس اشارہ کو سمجھتے تھے اور اسکا مطلب بھی یہی تھا کہ پڑھائی جاری رکھو،طالب علموں نے نے پھر سے گٹھلیوں پر آیت الکریمہ پڑھنا شروع کردیا بلکہ میں نے محسوس کیا کہ وہ زیادہ تیزی سے پڑھائی کرنے لگے تھے تاہم وہ کن اکھیوں سے حافظ عبداللہ اور سیاہ پرنسس کو دیکھے جارہے تھے ۔ان کا پڑھائی میں میکینکل انہماک تھا اور نظروں میں اشتیاق بھی ،ایسی یکسوئی دیکھ کر میں حیران ہوا۔ 

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں چونکہ ان کے ساتھ نیا تھا ،ابھی ان کے اشاروں کنایوں کو سمجھنے سے قاصر تھا اس لئے میں قدرے تامل سے ان کے ساتھ پڑھائی میں شامل ہوا لیکن میری نگاہ بھی ان دونوں پر تھی ۔حویلی میں ابھی تک خوف و دہشت کی فضا طاری تھی ۔یہ سب کچھ ساعتوں میں ہوا تھا اس لئے سوائے حافظ عبداللہ کے کوئی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ دراصل یہ سب ہوا کیا ہے ؟ 

’’ صرف ایک بار کہوں گا ۔اگر زندگی چاہتی ہو تو اپنی نحوست کا گند اٹھا کر چلی جاو ‘‘ حافظ عبداللہ نے تیز آواز میں بلی کی جانب دیکھا ۔سبھی حیران ہوئے کہ وہ ایک بلی سے کیوں مخاطب ہے ۔جواب میں بلی نے غراہٹ نما میاوں میں جواب دیا ۔ اس لمحہ مجھے محسوس ہوا کہ اسکی میاوں کے پیچھے ایک زبان پوشیدہ تھی اور میرے دماغ میں اس وقت بہت سی آوازیں بازگشت بن کر گونج اٹھی تھیں۔میں نہیں سمجھ پایا کہ میرے دماغ میں یہ کیسا شور سا برپا ہواتھا ۔

’’ کیا بکواس کرتی ہو ۔اگر تم نے شیخ صاحب کی جانب ایک قدم بھی بڑھایا تو اسی وقت تجھے جلا کر راکھ کردوں گا ‘‘ حافظ عبداللہ نے خونخوار انداز میں اسکو تنبیہ کی ۔اسکے ساتھیوں نے شاید اسکا یہ روپ کبھی نہیں دیکھا تھا،وہ بھی چونک اٹھے ۔اس وقت حافظ عبداللہ کا چہرہ فرط غضب سے تمتا رہا تھا ۔

پرنسس نے حافظ عبداللہ کے تحکم کو بالکل در خور نہ سمجھا اور اپنے اگلے پنجے بلند کرکے پچھلے پنجوں پر یوں کھڑی ہوگئی جیسے وہ اس سے لڑنے پر آمادہ تھی ۔اسے حافظ عبداللہ کی مداخلت بہت گران گذری تھی ۔اسکی یہ حرکت دیکھ کر شیخ صاحب نے حافظ عبداللہ کے پیچھے سے نکل کر اسکو ڈانٹنے کی کوشش کی تو حافظ عبداللہ نے ایک ہاتھ سے انہیں اپنے پیچھے کردیا ۔ 

پرنسس نے اپنے دونوں پنجے ہوا میں میں لہراتے ہوئے اپنے سینے پر مارے اور بہت زوردارا نداز میں وہ حافظ عبداللہ پر کود پڑی ۔سب دم بخود ہوکر یہ منظر دیکھنے لگے کہ ایک چھوٹی سی مگر خونخوار بلی اور صحتمند نوجوان کے ساتھ گتھم گتھا ہونے چلی تھی تو یقینی طور پر اسکو اب مر جانا تھا ۔پرنسس کا یہ حملہ حافظ عبداللہ کے لئے جیسے متوقع تھا ۔اس نے پرنسس کو اپنے ہاتھوں پر روکا مگر پرنسس میں اتنی قوت کہاں سے آگئی تھی کہ حافظ عبداللہ کے قدم ڈگمگا کر رہ گئے ۔پرنسس نے حافظ عبداللہ کے ہاتھوں پر زور دار پنجے گاڑھ دئیے اور اسکا منہ نوچنے کی بھی کوشش کی ۔اسی کشمکش میں حافظ عبداللہ نیچے گر گیا اور پرنسس اس کے ساتھ ریچھ کی طرح لپٹ گئی ۔

اس وقت تو سب کی چیخیں ہی نکل کر رہ گئیں جب پرنسس حیران کن طور پر حافظ عبداللہ کو پچھاڑنے لگی اور سکو چت لٹا کر اسکے سینے پر بیٹھ گئی ۔کوئی اسکا تصوّر بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی بلی انسان سے اتنی طاقتور بھی ہوسکتی ہے ۔بلی نے فاتحانہ انداز میں حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا اور پھر اپنا زور دار پنجہ اسکے چہرے پر اس طرح مارتے ہوئے گاڑھ دیا کہ اسکے چہرے کی کھال کسی ماسک کی طرح کھینچنے لگی ۔ اس سے قبل کہ پرنسس اسکا پورا چہرہ نوچ کھاتی ،حافظ عبداللہ نے بلند آواز میں ایک آیت پڑھی،میں بھول گیا ہوں کہ وہ کس سہ پارے کی آیت مبارکہ تھی بلکہ مجھے بعد میں حافظ عبداللہ نے بتایا بھی تھا کہ اس آیت مبارکہ کا عامل اگر بلند آواز میں پڑھ کر اسکو پہاڑ پر بھی پھونک دے تو وہ بھی دہل کر رہ جاتا ہے اور دنیا کی کوئی چیز اس کا وزن نہیں سہار سکتی لیکن بدقسمتی سے میں بھول چکا ہوں کیونکہ میری زندگی میں صرف کچھ عرصہ کے لئے ہی اسلامی علوم کی دنیا میں رہنا لکھا ہوا تھا ،میں پھر اپنی گندی کالی دنیا میں لوٹ گیا تھا ۔

میں آپ کو بتا رہا تھا کہ جیسے ہی حافظ عبداللہ نے پرنسس پر روحانی حملہ کیا وہ قلابازیاں کھا کر کئی فٹ دور جاگری ۔حافظ عبداللہ نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کسی چھلاوے کی طرح اٹھا اور آسمان سے ٹوٹے ہوئے شہاب ثاقب کی طرح پرنسس کے سر پر پہنچ گیا جو دوبارہ سے اپنے پنجوں پر کھڑی ہونے لگی تھی ۔حافظ عبداللہ نے اسکو جھٹ سے اسکی گردن سے پکڑا اور ابھی اسکی گردن مروڑنے ہی لگا تھا کہ شیخ صاحب کی چیخ سنائی دی ’’ ایسا ظلم نہ کرنا ،میری پرنسس کو نہیں مارنا ‘‘

حافظ عبداللہ نے بڑی حیران نظروں سے ان کو دیکھا ’’ آپ جانتے ہیں کہ یہ منحوس کون ہے؟ ‘‘ 

’’ میں یہ جانتا ہوں کہ اسکو مصر سے لایا تھا ۔یہ بلی نہیں میری جان ہے ‘‘شیخ صاحب انکے قریب جا کر بولے ۔

’’ ابھی تو یہ آپ کی جان لینے والی تھی ‘‘ حافظ عبداللہ نے طنزاً کہا 

’’ پھر بھی جو ہوا سو ہوا،اب اسکو چھوڑدو آپ ‘‘ شیخ صاحب نے لجاجت سے کہا ’’ اگر اسکو کچھ ہوگیا تو میں زندہ نہیں رہ پاوں گا ‘‘ 

ایک لمحہ کے لئے تو حافظ عبداللہ شش و پنج میں مبتلا ہوگیا کہ وہ کرے تو کیا کرے ،پھر بولا ’’ٹھیک ہے شیخ صاحب ،میں اسکو چھوڑ دیتا ہوں لیکن اب ہم سب لوگ ابھی واپس جائیں گے ‘‘ 

’’نہیں ،بھائی پہلے آیت الکریمہ کی پڑھائی تو مکمل کرلیں آپ لوگ ‘‘ شیخ صاحب نے کہا ۔

اس لمحہ مجھے حافظ عبداللہ کے چہرے پر تذبذب دکھائی دیا ۔اس نے ایک نظر سیاہ پرنسس کو دیکھا جس کی گردن پر اسکا ہاتھ جما ہوا تھا اور پھر شیخ صاحب کو دیکھنے لگا ۔آخر اس نے پرنسس کی گردن چھوڑنے سے پہلے اسکو مخاطب کیا ’’ تو شرارت کرنے سے باز آجا اور خاموشی سے چلی جا تاکہ ہم اپنی پڑھائی مکمل کرلیں ۔۔۔۔اور ہاں اللہ نے تجھے حسن دیا ہے تو اسکی لاج بھی رکھنا سیکھ لے ‘‘

مجھے یاد ہے حافظ عبداللہ نے سیاہ پرنسس کی گردن چھوڑی تو وہ چھلانگ مارکر دروازے سے باہر نکل گئی ۔ لیکین دروازے سے باہر نکل کر اس نے نگاہ غلط حافظ عبداللہ پر ڈالی ۔ہم سب اس روز آیت الکریمہ پڑھنے اور ختم شریف کے بعد لنگر کھا کر واپس آگئے ۔شیخ صاحب نے راشن کے لئے کافی سارے پیسے بھی دئے تھے اور کھانا بھی دیا تھا ۔واپسی پر سب لڑکے خاموش تھے لیکن مجھے بے حد بے چینی کھائے جارہی تھی۔میں بار بار حافظ عبداللہ کے چہرے اور ہاتھوں کی جلد دیکھ رہا تھا جن پر بلی کے حملوں کا ایک بھی نشان نہیں تھا جبکہ بلی نے ہمارے سامنے اسکا ہاتھ ا ور چہرہ نوچا تھا لیکن اسکے چہرے اور ہاتھوں کی جلد صاف تھی ۔ مسجد میں پہنچ کر اس نے حٖافظ صاحب کو شیخ صاحب کی طرف سے دئیے پیسے دئیے اور پھر کچھ دیر ان کے کان میں کچھ بتاتا رہا ۔اس دوران حافظ صاحب کے چہرے پر حیرت بھی نمودار ہوئی ا ور پھر انہوں نے حافظ عبداللہ کے کاندھے کو بڑے فخر سے سہلاتے ہوئے اسکے سینے پر پھونک ماری ۔

حافظ عبداللہ اس وقت غسلخانوں کی طرف جارہا تھا جب میں اسکے پاس پہنچ گیا ’’ مجھے بتاو یہ سب کیا تھا ؟‘‘

’’ کیا تم نہیں جانتے یہ سب کیا تھا ؟‘‘ اس نے بڑی حیرانی سے میری جانب دیکھ کر سوال کیا تو میں نے سر نفی میں ہلایا ۔وہ غور سے میری آنکھوں میں دیکھنے لگا ’’ اچھا ٹھیک ہے ‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور غسلخانے کے عقب میں واقع دروازے سے لیکر باہر نکل گیا ۔سامنے ایک چھوٹا سا قبرستان تھا جس میں ایک چھوٹا سا مزار بھی تھا ۔اس نے میرا ہاتھ یونہی تھامے رکھا اور اس مزار کے پاس جا اسکے سرہانے بیٹھ گیا ۔مجھے بھی اس نے پاس ہی بیٹھا لیا ۔

’’ تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بتاوں کہ ہوا کیا ہے اور وہ کالی بلی کون تھی؟ ‘‘ میں نے سر اقرار میں ہلایا ۔

’’ یہ جو تربت مبارک ہے ناں ، یہ میرے داد کی ہے ،یہ میرے دادا ہیں ا وراس کالی بلی کے یہ نانا ہیں ‘‘ حافظ عبداللہ نے آہستہ سے یوں انکشاف کیا کہ میں ہڑ بڑا کررہ گیا ۔

’’ کک کیا ‘‘

’’ ہاں ۔وہ سیاہ بلی جسے شیخ صاحب پرنسس کہتے ہیں ،وہ بلی نہیں بلکہ جنّ زادی ہے ،میری منگیتر ہے اور مجھ سے ناراض ہوچکی ہے ۔میں بھی اسکو پسند نہیں کرتا ،شاید آج وہ میرے ہاتھوں سے ماری جاتی لیکن شیخ صاحب نے مجھے اپنے ارادوں سے روک دیا ۔وہ نہیں جانتے کہ اس بلی میں ایک جن زادی کی روح حلول کرچکی ہے ،مجھ پر وہ حملے کرتی رہتی ہے ۔اس نے بھی کئی طرح کے علوم سیکھ رکھے ہیں لیکن اسکی عادتیں اتنی خراب ہیں کہ مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی لیکن میں اپنے دادا اور دوسرے بزرگوں کی وجہ سے اسکو معاف کرتا آرہا ہوں لیکن آج تو اس نے حد ہی کردی تھی ‘‘حافظ عبداللہ کی باتیں میرے لئے کسی دھماکے سے کم نہیں تھیں.(جاری ہے ) 

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /جناتی