2010ءکے بعد پہلی مرتبہ کشمیر میں وہ کام ہوگیا کہ بھارتی حکومت اور فوج کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے

2010ءکے بعد پہلی مرتبہ کشمیر میں وہ کام ہوگیا کہ بھارتی حکومت اور فوج کے ہاتھ ...
2010ءکے بعد پہلی مرتبہ کشمیر میں وہ کام ہوگیا کہ بھارتی حکومت اور فوج کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے بھارت ہمیشہ سے جھوٹی کہانیوں اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لیتا رہا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی تحریک کو اب دنیا آزادی کی تحریک تسلیم کرنے لگی ہے تو بھارت مزید بوکھلا گیا ہے اور ان نوجوانوں کو دہشتگرد قرار دینے کے لئے جھوٹی کہانیاں گڑھنے لگا ہے۔ ایک ایسی ہی کہانی کشمیر میں دہشتگردی کے اثر و نفوذ کے متعلق تیار کی گئی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں دہشتگرد تنظیموں میں شامل ہونے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010ءکے بعد یہ رجحان اس وقت بلند ترین سطح کو پہنچ چکا ہے اور صرف رواں سال 131 نوجوانوں نے ایسے گرپوں میں شمولیت اختیا رکی ہے جو القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ یہ اعدادوشمار رواں سال جنوری سے لے کر 31 جولائی تک کے ہیں، جن کے مطابق کل 131 نوجوانوں نے دہشتگرد گروپوں میں شمولیت اختیار کی اور سب سے زیادہ نوجوانوں کا تعلق جنوبی کشمیر کے شوپیاں ڈسٹرکٹ سے ہے جہاں سے اب تک 35 نوجوان دہشتگرد گروپوں میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ بھارتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ”انصار غزوة الہند“ میں شامل ہورہی ہے جس کی سربراہی ذاکر راشد بھٹ عرف ذاکر موسیٰ کرتا ہے اور القاعدہ کی حمایت اس گروپ کو حاصل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیری نوجوانوں کی دہشت گرد گروپوں میں شمولیت کا بہانہ بنا کر مزید فوج مقبوضہ کشمیر بھیجنا چاہتا ہے تا کہ اپنی سفاکانہ کاروائیوں میں تیزی لا سکے۔ دہشت گرد گروپوں میں شمولیت کے الزامات کو کشمیری نوجوانوں کی بغیر کوئی وجہ بتائے گرفتاری اور تفتیش کے بہانے لامحدود عرصے تک حراست میں رکھنے کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔