ایرانی طالبہ کو احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر 7سال قید کی سزا

ایرانی طالبہ کو احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر 7سال قید کی سزا
ایرانی طالبہ کو احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر 7سال قید کی سزا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تہران (این این آئی)ایران میں ایک عدالت نے اکیس سالہ طالبہ کو جامعہ تہران میں مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں قصور وار قرار دے کر7 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پریسہ رفاعی جامعہ تہران میں آرٹس کی طالبہ ہے ،اس کو قومی سلامتی کے منافی اجتماع منعقد کرنے ،نظام کے منافی پروپیگنڈا اور نقضِ امن کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزا سنائی گئی ۔ان کے وکیل سعید خلیلی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس سزا کو غیر منصفانہ اور نامناسب قرار دیا ۔انھوں نے کہا کہ میرے نزدیک ان الزامات میں سے کوئی بھی طالبہ کو کسی جرم کا قصور وار قرار دینے کے لیے منطقی اور قانونی جواز کا حامل نہیں ہے۔ مقدمے میں بیان کردہ مبینہ جرائم کا تعلق دسمبر کے اوائل میں جامعہ تہران میں طلبہ یونین کے ایک مظاہرے سے ہے۔انھوں نے ڈارمیٹری کھلنے کے اوقات سمیت اپنے مطالبات منوانے کے لیے یہ مظاہرہ کیا تھا مگر ان کے یہ تمام اقدامات آئین میں بیان کردہ حقوق اور قانون کے فریم ورک کے عین مطابق تھے۔
رپورٹ کے مطابق جامعہ تہران میں احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر 45 طلبہ و طالبات کو حراست میں لیا گیا تھا اور وہ سب اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ان میں سے 2 کو اب تک8،8 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔البتہ اس مضمون میں ان کے کیسوں کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔