صوبے اور عوام کے مفاد میں تلخ ،مشکل اور سخت فیصلے بھی کرنا پڑے تو کریں گے،بد عنوانی کا خاتمہ کر کے منفی تاثر ختم کیا جائے گا:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال

صوبے اور عوام کے مفاد میں تلخ ،مشکل اور سخت فیصلے بھی کرنا پڑے تو کریں گے،بد ...
صوبے اور عوام کے مفاد میں تلخ ،مشکل اور سخت فیصلے بھی کرنا پڑے تو کریں گے،بد عنوانی کا خاتمہ کر کے منفی تاثر ختم کیا جائے گا:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ہم نے صوبے کی تعمیروترقی کے  وژن اور عزم کے ساتھ حکومت سنبھالی ہے،عوام کو اس حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں جن پر پورا اترنے کے لئے بھرپور صلاحیتیوں کو بروئے کار لایا جائے گا، گڈ گورننس کا قیام عملی طور پر ممکن بنایا جائے گا،بدعنوانی کا خاتمہ کرکے صوبے کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کیا جائے گا، صوبے اور عوام کے مفاد میں تلخ ،مشکل اور سخت فیصلے بھی کرنا پڑے تو کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق نومنتخب صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے عملی اقدامات کے ذریعہ ثابت کرنا ہے کہ موجودہ حکومت دیرینہ مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے،کابینہ سب سے بڑا اور بااختیار فورم ہے جہاں جو بھی فیصلے ہوں گے ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بیوروکریسی سے بہت سی توقعات ہیں،ہم ایسے اچھے افسران کی ٹیم منتخب کریں گے جو صوبے کی ترقی کا عزم رکھتے ہوں اور انہیں ماضی میں نظرانداز کیا گیا ہو، تمام امور میں شفافیت یقینی بنائی جائے گی، نظام میں بہتری لانے کے لئے ضروری قانون سازی کی جائے گی محکموں اور اداروں کو سیاسی اثروروسوخ اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرتے ہوئے مضبوط بنایا جائے گا اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے کیونکہ ماضی میں ہماری استعدا د کار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ محکموں اور اداروں میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے، ادارے قواعد وضوابط اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں گے تو اس کے مثبت اثرات عوام تک پہنچیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اراکین کابینہ پر زور دیا کے وہ اپنے قول وفعل کے ذریعہ عوام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ہم مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں، محکموں کی الاٹمنٹ کے بعد وزراء اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی بہتر بنائیں اور محکمے کے ترقیاتی وانتظامی امور کی نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ ہر ماہ تمام محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، بہترین کارکردگی کے حامل افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ کمزور کارکردگی کے حامل افسران حکومت سے کسی قسم کی توقع نہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد کابینہ میں توسیع کی جائے گی اور کابینہ کا اجلاس ہر ہفتہ منعقد کیاجائے گا جس میں ایجنڈے میں شامل نکات کے علاوہ دیگر امور کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ