پنجاب پولیس اور نیا پاکستان (1)

پنجاب پولیس اور نیا پاکستان (1)
پنجاب پولیس اور نیا پاکستان (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکپتن  پولیس نے ایساکیاکام  کردکھایا کہ  جس پر اس کا ڈی پی او لائن حاضر کر دیا گیا۔اس کی اصل حقیقت چند روز میں عیاں ہو جائے گی  مگر پنجاب میں پولیس اور خصوصی طور پر پی ایس پی کلاس جو کر رہی ہے یہ سب کو پتہ ہے۔ہمارے وہ مہا ن اینکرز جو اس معاملے پر ایک پی ایس پی افسر کو ہیرو بنا رہے ہیں ،ان کا  حقیقت میں کبھی ایسے افسروں سے واسطہ نہیں پڑا ہوگا۔وہ کبھی عام آدمی بن کر پاکپتن جیسے دور افتادہ ،پسماندہ اور کم پڑھے لکھے علاقے  کو تو چھوڑیں لاہور میں مجھے کسی تھانے میں جا کر عزت احترام سے واپس آ کر بتا دیں  ۔پنجاب میں تھانہ کلچر اور پولیس کا قبلہ درست کرنے کےلئے ہر حکومت دعوے کرتی رہی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔آج میں پنجاب میں پی ایس پی اور نان پی ایس پی کی بات کروں گا  تاکہ ان دونوں طرز کے پولیس افسروں کا فرق انہیں معلوم ہوجائے ۔نان پی ایس پی میں ڈائیرکٹ بھرتی ہونے والے پروبشنرز انسپیکٹر،سب انسپیکٹرز،اسسٹنٹ سب انسپیکٹرز اور رینکرز  جو کانسٹیبل  بھرتی ہو کر ترقی پاتے ہیں۔
الیکشن 2018ء کے بعد نئے پاکستان کے معرض وجود میں آنے اور نئے وزیراعظم عمران خان  کی طرف سے تبدیلی کے بلند و بانگ دعووں   کی   نوید سننے کے بعد پنجاب پولیس کے رینکر افسران جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک اپنے محکمہ میں ہی ناروا، امتیازی سلوک کا شکار رہے ہیں اُن کے دل میں آس اور امید کے   دیئے روشن ہوئے ہیں۔وہ سمجھ رہے ہیں  کہ نئی حکومت پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور معروضی حالات کے مطابق اس میں تبدیلیاں لانے کے لئے پرعزم ہے چنانچہ اس صورت حال میں شاید اُس جبر و استحصال اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہو جائے جس کا وہ قیام پاکستان سے شکار ہیں اور روزاول سے ہی PSP افسران کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔PSP افسران ہی ان کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں اور ان کا  کیریئر انہی افسران کے رحم و کرم پر ہے ۔کیونکہ وہ دراسل نوکری محکمہ کی نہیں ان پی ایس پی  افسروں کی کرتے ہیں،اس کے علاوہ محکمہ پولیس کی افرادی قوت اور بجٹ پر بھی یہی افسران سانپ بن کے قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔
پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں   میں PSP کیڈر کے علاوہ صوبائی پولیس کیڈر بھی موجود ہے اور وہاں کے رینکرز پولیس افسران اس سے استفادہ کر رہے ہیں جبکہ پنجاب میں پولیس ملازمین و آفیسران کے دیرینہ مطالبہ کے باوجود صوبائی پولیس کیڈر کے لئے عملی   اقدامات  نہیں اُٹھائے گئے جس کی وجہ سے رینکرز افسران جو کہ پنجاب پولیس کا ایک بڑا   حصہ ہیں بے چینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔
  کمپوزیشن کیڈر اینڈ سینیارٹی رولز   1985  کے مطابق وفاقی پولیس سروس اور صوبائی پولیس کیڈر کے پولیس افسران کی تعیناتی 40% اور 60% کوٹہ کے مطابق کی جانا تھی   جبکہ موجودہ صورتحال میں صوبائی کیڈر کے افسران کی مختلف پوسٹوں پر تعیناتی نہ ہونے کے برابر ہے اور تمام پوسٹوں پر پی ایس   پی افسران نے خلاف ضابطہ قبضہ جمایا ہوا ہے اور اپنے کوٹہ سے کہیں زیادہ سیٹوں  پر براجمان ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب دوسرے صوبوں کے مقابلے ایک  خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ ہے جس میں امن و امان کی صورتحال بھی بہت بہتر ہے اور معیاری تعلیمی اور طبی سہولیات کی فروانی بھی PSP افسران کو پنجاب سے باہر جانے سے روکتی ہے۔ مزید برآں سہولیات اور پروٹوکول بھی   زیادہ ہے جس کی بنا پر وہ صوبائی پولیس کیڈر کے قیام کے خلاف ہیں اور اس کی راہ میں بے جا روڑے اٹکاتے ہیں ۔

ایک ASP پولیس سروس کو جوائن کرنے کے  دن سے شمار کر کے چار سال کے اندر اگلے رینک (SP) پر ترقی پا   جاتا ہے اور 12 سال کے مختصر عرصہ میں ASP سے DIG گریڈ 20 تک لازمی پہنچ جاتا ہے جبکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے ذریعے ASI اور SI منتخب ہونے والے پولیس افسران 10/12 سال کے عرصے میں ایک ترقی لے کر SI یا انسپکٹر کے عہدہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ انسپکٹر کو DSP پروموٹ ہونے کے لئے 17/18 سال کا عرصہ درکار ہے۔ یعنی 100 افسران میں سے ایک آدھ افسر ہی DSP کے عہدہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ KPK میں صورتحال اس کے مقابلے میں بہت بہتر ہے جہاں 2006ء میں مختار نامی پولیس افسر بطور ASI بھرتی ہوا 2010ء میں SI اور 2014ء میں انسپکٹر پروموٹ ہوا۔ اس وقت وہ بطور انسپکٹر خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ رینکرز کے ساتھ سراسر زیادتی یہ ہے کہ  پولیس کا سارا کام وہ سرانجام دیں ،اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر خطرناک اشتہاریوں کو وہ گرفتار کریں، گشت وہ کریں ،کورٹ کچہری وہ جائیں جبکہ PSP افسران جو کہ سپروائزی افسر ہیں رینکرز کو سزا دینے اور ان کی بے عزتی کرنے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ جس کی بنا پر رینکر افسران احساس کمتری کا شکار ہیں اور کار سرکار میں دلچسپی نہیں لیتے ۔نتیجتاً پولیس کی اور آل کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور متاثرین میں سے بعض رشوت ستانی جیسی برائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ناامیدی اور مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے کیونکہ پی ایس پی افسران کے سٹیٹس اور سہولیات اور رینکرز کے سٹیٹس اور سہولیات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔(باقی آئیندہ)
 ۔۔۔

مزید :

بلاگ -