وادی میں کرفیوکے 23روز مکمل ،انسانی المیہ جنم لینے کاخطرہ، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شہرشہر مظاہرے

وادی میں کرفیوکے 23روز مکمل ،انسانی المیہ جنم لینے کاخطرہ، کشمیریوں سے اظہار ...
وادی میں کرفیوکے 23روز مکمل ،انسانی المیہ جنم لینے کاخطرہ، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شہرشہر مظاہرے

  

لاہور (خرم رفیق سے)مقبوضہ کشمیر میں فاشسٹ مودی سرکار کی جانب سے کرفیوکے نفاذ کو 23دن گزر چکے ہیں ۔ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق معصوم اور بے گناہ کشمیری عوام کوشدید مشکلات کاسامنا ہے ، خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتاہے لیکن قابض ریاستی دہشت گرد انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور وہ کشمیریوں کوجبر سے دبانے کی پالیسی پر بے شرمی اور ڈھیٹائی سے عمل پیراہے ۔

کرفیوکے 23ویں دن بھی مقبوضہ کشمیر میں شہری کرفیو کی پروا نہ کرتے ہوئے کئی مقامات پر گھروں سے نکلے اور قابض ریاستی دہشتگرد فورسز کا سامنا کیا ۔ یہ اطلاعات ہیں کہ قابض فورسز کی شیلنگ اور تشدد سے کئی کشمیری زخمی ہوئے اور درجنوں مزید افراد کوگرفتار کرلیا گیا ۔وادی میں ایک ڈاکٹر کوبھی قابض فورسز نے گرفتار کرلیا جس نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر قابض انتظامیہ کی طرف سے کرفیونہ اٹھایا گیا تو موذی امراض میں مبتلا سینکڑوں افراد مرجائیں گے ۔ کشمیری ڈاکٹر کی اس گفتگو کے چند لمحوں بعد ہی اس کوگرفتار کرلیا گیا جبکہ ایل او سی پر دہشتگرد بھارتی فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کرکے جان بوجھ کر آزاد کشمیر کی سو ل آبادی کونشانہ بنایا جس سے ایک معصوم بچی سمیت دو افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے ۔

مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ سندھ میں ہندو برادری نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی ،ریلی میں شریک بچیوں نے ٹیبلو پیش کرکے مودی سرکار کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو اجاگر کیا ۔ ریلی میں شریک ہندو برادری کے افراد نے ہاتھوں میں بینرز اٹھارکھے تھے جن پر کشمیریوں کی حق خو د ارادیت کیلئے نعرے درج تھے ، شرکاءکشمیر بنے گاپاکستان کے نعرے لگاتے رہے ۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د ، کراچی ، لاہور ، پشاور اور مظفر آباد سمیت پاکستان اور آزاد کشمیرکے چھوٹے بڑے شہروں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا جن میں مقررین نے کشمیروں کے حق خود ارادیت کیلئے تقاریر کیں اور بھارت کی فاشسٹ پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی ۔

عالمی شہرت یافتہ پاکستان نژاد باکسر عامر خان نے بھی لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر عامر خان نے کشمیری رہنماﺅں اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ کشمیر کے سفیر بن کر دنیا بھر میں جائیں گے اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے ۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم کے ہر ہفتے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے فیصلے کی توثیق کی گئی اور کابینہ کے ارکان نے اس فیصلے کوسراہا ۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو ساری قوم بارہ بجے سے لیکر ساڑھے بار ہ بجے تک کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے باہرنکلے گی اورہرہفتے ایک دن کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائیگا۔ وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی چودھری فواد نے کہا کہ بھارت کے لئے پاکستان کی فضائی حدود بند کرنے پر غور کیا جارہا ہے ، شروعات بھارت نے کی ہیں اور اب اس کو انجام تک ہم پہنچائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی شروعات کو انجام تک پہنچانے کا مطلب مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی ہے ۔ وزیر برائے ہوابازی چودھری غلام سرور خان نے بھی فواد حسین کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کیلئے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کا فیصلہ آئندہ24گھنٹوں میں متفقہ ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -