دریائے ستلج میں سیلابی ریلا ‘ ریسکیو آپریشن تیز ‘ سندھ بے قابو ‘ متعدد بستیاں دریا برد

  دریائے ستلج میں سیلابی ریلا ‘ ریسکیو آپریشن تیز ‘ سندھ بے قابو ‘ متعدد ...

  

وہاڑی ‘بورے والا(بیورو رپورٹ ‘ نمائندہ خصوصی ‘تحصیل رپورٹر ) بھارت کی طرف سے کی جانے والی آبی جارحیت کے نتیجہ میں(بقیہ نمبر54صفحہ7پر )

سیلابی پانی نے ساہوکاکے گردونواح میں درجنوں دیہات و بستیوں میں تباہی مچا ڈالی سیلابی پانی سے کپاس، مکئی، دھان، کماد، سبزیاں و دیگر تیار فصلات تباہ ہوگئیں۔ تاہم سیلابی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے اور آج علی الصبح کالیے شاہ کے مقام سے حفاظتی بندھ ٹوٹ جانے کے باعث متعدد نشیبی دیہات کے زیر آب آجانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ریسکیو 1122، پولیس و مقامی انتظامیہ کی طرف سے سیلاب متاثریں کو محفوظ مقامات پر منتقلی، فلڈ کیمپس میں اشیائے خوردونوش و جانوروں کے چارے سمیت دیگر ممکنہ سہولیات فراہم کی جاری لگیں۔ واضح رہے کہ دریائے ستلج کی دریائی بیلٹ میں بااثر زمینداروں کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں کے دوران بنائے غیر قانونی بندوں کے باعث آبی گزر گاہوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے سیلابی پانی توقع سے کئی گنا زیادہ نقصان کرتا ہوا گزر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آج صبح اسلام ہیڈ ورکس پر پانی آمد اور اخراج 29215 کیوسک ، میلسی سائفن پر پانی کی آمد و اخراج 27727 کیوسک، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 41642 کیوسک اور ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر 36560 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سیلاب سے متاثر ہونے والے زیادہ تر دیہات جو دریا کے مغربی سائیڈ پر واقع تھے وہ ضلع بہاولنگر اور چشتیاں کے علاقہ سے ہیں لیکن بورے والا کی جانب ہونے کی وجہ سے بورے والا کا عملہ امدادی کاروائیاں کررہا ہے۔ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر آنے والے نچلے درجے کے سیلابی ریلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122 کے جوانوں کا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ریسکیو ترجمان کے مطابق اب تک کل 426 افراد جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین شامل ہیں کو مختلف مقامات سے ریسکیو کر کے ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے سیلابی علاقوں سے 121 بکریاں، 9 مرغیوں اور 22 گائے بھینسوں کو بھی ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج 30 ہزار کیوسک کا ریلا ہیڈ اسلام سے گزر رہا ہے اور پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے جس کی وجہ سے متعدد بستیاں زیر آب آگئیں ہیں لیکن صورتحال ابھی تک کنٹرول میں ہے۔دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ، آئندہ چالیس گھنٹوں کے دوران پانی کی آمد پچاس ہزار کیوسک متوقع، محکمہ انہار ذرائع کے مطابق ہیڈ اسلام کے مقام پر گزشتہ روز دریائے ستلج میں پانی کی آمد اور اخراج 29210 کیوسک رہا جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر آمد 41642 کیوسک اور اخراج 31922 کیوسک ہے ہیڈ اسلام کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور آئندہ چالیس گھنٹوں کے دوران پانی کی آمد پچاس ہزار کیوسک متوقع ہے جس سے گردونواح کی متعدد بستیاں زیر آب آنے کا اندیشہ ہے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور متوقع سیلابی ریلے کے لیے انتظامات مکمل ہیں اور ریسکیو اور دیگر محکموں کے جوان ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی نا گہانی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تمام انتظامات مکمل ہیں۔

جتوئی ( نامہ نگار) تحصیل جتوئی کے علاقہ لنڈی پتافی کے مقام پر دریائے سندھ بپھرگیا جس سے دریا سندھ کے شدید کٹاو میں (بقیہ نمبر53صفحہ7پر )

متعدد بستیاں دریا برد جس میں بستی لسکانی، بستی پتافی، بستی سکھانی، بستی کیکہ،بستی گدارہ، بستی ماچھی، بستی واڈو، بستی چانڈیہ، بستی کہیل، بستی مکول، بستی پنجابی اور ہزاروں ایکڑ تیار کپاس کی فصیلیں دریا سندھ کے شدید کٹاو کی زدمیں آگئی ہیں۔ تفصیل کے مطابق معززین علاقہ سردار لیاقت علی خان لغاری ایڈووکیٹ، ارسلان خان لسکانی، جنیند خان، فدا حسین خان لسکانی، پنوں خان، حافظ احمد بخش سعیدی، عابد خلیل لسکانی، خادم حسین خان، جہانگیر بدر،شہاب علی، سعید احمد، منظور احمد لسکانی، ملک شمل اور ڈاکٹر محمد عارف خان صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موضع لنڈی پتافی کے مقام پر عرصہ دو ماہ سے دریا سندھ کا شدید کٹاو جاری ہے جس کی وجہ سے موضع لنڈی پتافی کی متعدد بستیاں تقریبا چھ،سات سو گھر دریا سندھ کی نظر ہوگئے لیکن مقامی سیاستدان ہمیشہ کی طرح وعدہ کرکے اور فوٹو سیشن کرکے چلے جاتے ہیں لیکن آج تک کسی حکومتی سطح پر اور نہ ہی سیاسی شخصیات نے امداد کی اور نہ ہی مقامی انتظامیہ نے فیلڈ ریلیف کیمپ لگایا مقامی لوگ اپنی مدد آپ اپنے قیمتی پکے گھر اپنے ہی ہاتھوں سے تھوڑ کر نقل مکانی کررہے ہیں اور جس میں پکی مسجد جامعہ بھی دریا کی نظر ہوگی اور کپاس کی ہزاروں ایکڑ تیار کھڑی فصلیں بھی دریا برد ہوگی اس موقع پر سردار لیاقت علی خان لغاری ایڈووکیٹ، محمد ارسلان خان لسکانی نے مزید کہا ہے کہ لنڈی پتافی دریا سندھ کے متاثرین کے پاس رہائشگاہ کی متبادل جگہ نہ ہے اورنہ ہی کھانے پینے کی اشیائ موجود ہیں مظلوم اور جانوروں کا چارہ تک نہ ہے مقامی انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ آج تک انہوں نے کوئی وزٹ کیا اور نہ اجتک فیلڈ ریلیف کیمپ لگایا گیا مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نکل مکانی کرنے پر مجبور ہیں اور محفوظ جگہ پر آباد ہونے کے لیے جگہ بھی نہیں ہے انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان خان بزدار سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحصیل جتوئی کے موضع لنڈی پتافی دریا سندھ کے متاثرین کے لیے فوری طورپر انتظامات کیے جائیں اور ان کو محفوظ جگہ مہیا کی جائے اور فوری طورپر فیلڈ ریلیف کیمپ لگایا جائے اس موقع پر مقامی اہل علاقہ بچوں سمیت احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان خان بزدار سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہماری ہاتھ جھوڑ کراپیل ہے ہمیں دریا سندھ کے کٹاو سے مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے سپر بند بنائے منظوری دی جائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو مکمل طور پر دریا سندھ کے کٹاو سے بچایا جائے۔

سیلابی ریلہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -