پیرس میں صدر ٹرمپ اور مودی کی ملاقات

پیرس میں صدر ٹرمپ اور مودی کی ملاقات

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کا تنازع خود حل کر سکتے ہیں، یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جہاں میری ضرورت ہوئی وہاں حاضر ہوں ثالث بننے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بھارتی وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال قابو میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نریندر مودی کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر طویل بات چیت کی ہے، مجھے امید ہے بھارتی وزیراعظم،پاکستانی ہم منصب سے بات کریں گے اور دونوں بہتر نتیجے پر پہنچیں گے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان سے بات کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ کچھ کر لیں گے جو بہت اچھا ہو گا۔اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک مرتبہ پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا اور ٹرمپ کے سامنے ہی ان کی ثالثی کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مسائل دو طرفہ ہیں،اِس لئے کسی تیسرے ملک کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں،دونوں ممالک 1947ء سے پہلے ایک ہی تھے اور مجھے یقین ہے کہ مل جل کر ان معاملات پر بات چیت کر سکتے ہیں اور مسائل کو حل بھی کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے جب سے کشمیر پر ثالثی کی تجویز پیش کی ہے اس کے بعد سے اُن کی پیرس میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ یہ پہلی بالمثافہ ملاقات تھی،اِس لئے اگر وہ چاہتے تو اپنی اس تجویز کو آگے بڑھا سکتے تھے اور مودی کو قائل بھی کر سکتے تھے کہ وہ اُن کی ثالثی پر رضا مند ہو جائیں،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں میں ملاقات کے دوران جو بات چیت ہوئی اس میں یہ بھی طے کر لیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی پیشکش سے دستبردار ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ باہر میڈیا کے سامنے کیا بات کی جائے گی اِس لئے جونہی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر اُن کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ حاضر ہیں تو نریندر مودی نے ایک بار پھر صاف کہہ دیا کہ ”تیسرے ملک“ کی ثالثی کی ضرورت نہیں،پاکستان اور بھارت اپنے معاملات دوطرفہ طور پر خود ہی حل کر سکتے ہیں، کیونکہ ”1947ء سے پہلے وہ ایک ہی تھے“ ایسی چکنی چپڑی باتوں سے ممکن ہے مودی نے صدر ٹرمپ کو شیشے میں اُتار لیا ہو،اِس لئے انہوں نے اُن کی یہ بات بھی مان لی کہ کشمیر کی صورتِ حال مودی کے قابو میں ہے،حالانکہ اب تک جو بھی کشمیر گیا ہے اس نے ریاست کے حالات کے متعلق جہنم کا نقشہ ہی کھینچا ہے اور کانگرس کے صدر راہول گاندھی سے لے کر اُن تمام رہنماؤں تک نے جو اُن کے ساتھ سری نگر ایئر پورٹ تک چلے گئے تھے اور انہیں کشمیر میں جانے نہیں دیا گیا،ایک ہی بات کہی کہ کشمیر کی صورتِ حال بہت خراب ہے اور بڑے انسانی المیے کا خطرہ ہے، کرفیو کی خلاف ورزی پر اب تک دس ہزار سے زیادہ کشمیر ی گرفتار ہو چکے ہیں اگر صورتِ حال قابو میں ہوتی تو اتنے طویل کرفیو کی ضرورت نہ تھی،نہ وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کرنا ضروری تھا دُنیا میں شاید ہی کسی علاقے میں اتنے طویل عرصے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ہو، اِس سلسلے میں صدر ٹرمپ کے پاس بھی معلومات ہوں گی،معلوم نہیں انہوں نے اپنی ان معلومات کا مودی سے تبادلہ کیا یا اُن کی یکطرفہ رپورٹ پر ہی صاد کر دیا کہ حالات قابو میں ہیں۔

درونِ در صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کی ملاقات کا رنگ کیا رہا ہو گا اس کا کچھ کچھ اندازہ اس گفتگو اور لطیفوں اور چٹکلوں سے بھی ہو جاتا ہے جس کا مظاہرہ دونوں رہنماؤں نے میڈیا کے سامنے کیا،مودی تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کو اپنی بہت بڑی کامیابی گردان رہے ہیں اور خود بھی کہہ چکے ہیں کہ اُن سے پہلے والے حکمران جو ستر سال میں نہ کر سکے وہ انہوں نے ستر دن میں کر دکھایا،وہ کشمیریوں کی نسل کشی کا جو منصوبہ رکھتے ہیں اس پر وزیراعظم عمران خان اُنہیں ہٹلر سے تشبیہہ دے چکے ہیں،اِس لئے اس وقت کشمیریوں پر جو گزر رہی ہے اس پر اُن کا دِل کیسے پسیج سکتا ہے اسی لئے انہوں نے صدر ٹرمپ کے سامنے بھی کوئی ایسی تصویر ہی پیش کر دی ہو گی جسے سُن کر انہوں نے میڈیا کے سامنے کہہ دیا کہ مودی کشمیر کی صورتِ حال سے مطمئن ہیں،لیکن جس جس نے ریاست کا دورہ کیا ہے اور جس میں امریکی میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔انہوں نے اس تصویر کے برعکس رپورٹ ہی دی ہے تاہم مودی نے صدر ٹرمپ کو ”ثالثی کی پیش کش“ سے ”مَیں حاضر ہوں“ تک لانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اب صدر ٹرمپ ثالثی کی بات نہیں کرتے،کیونکہ انہوں نے (نہ جانے کیوں)یقین کر لیا ہے کہ دونوں ملک کشمیر کا تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل کرلیں گے۔

مقام حیرت ہے کہ جو تنازع آج تک حل نہیں ہو سکا اور ہرگزرتے دن کے ساتھ اس میں پیچیدگیاں ہی پیدا ہوئی ہیں اب مودی کے تازہ اعلان پر صدر ٹرمپ نے کیسے یہ یقین کر لیا کہ دونوں ممالک دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائیں گے جس سے مسئلہ کشمیر کا حل نکل آئے گا۔جب کہ معروضی صورتِ حال یہ ہے کہ نہ صرف دونوں ملک بلکہ دُنیا بھر کے تھنک ٹینک کشیدگی کو نیو کلیئر خطرے تک بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں،خود بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے نیو کلیئر حملے میں پہل نہ کرنے کا آپشن ختم کر دیا ہے ویسے تو اُن کی پہل نہ کرنے کی بات پر بھی کوئی یقین نہیں کرتا تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ بھارت سے کسی بھی حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن اُن کے تازہ بیان کے بعد تو دُنیا کے کان کھڑے ہو گئے ہیں،لیکن اس تشویش نے عملی اقدامات کی شکل اختیار نہیں کی،سلامتی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس میں کشمیر کو متنازع مسئلہ ضرور قرار دیا،لیکن اس سے آگے بڑھ کر کوئی عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور نہ ہی نیو کلیئر فلیش پوائنٹ کی سطح تک گئے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کی کوئی تجویز سامنے آئی،اس ماحول میں دونوں ممالک کس طرح بات چیت کا آغاز کریں گے اور کیسے ایک پیچیدہ مسئلہ حل کریں گے۔اس پر خود صدر ٹرمپ کو زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ضمن میں اُن کی دِلی ہمدردیاں تو بھارت کے ساتھ ہیں،بس پاکستان کے ساتھ بھی زبانی جمع خرچ برابر رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -