بلند عمارتوں کی تعمیر، سول ایوی ایشن کا اعتراض!

بلند عمارتوں کی تعمیر، سول ایوی ایشن کا اعتراض!

  

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام ترقیاتی اداروں اور صوبائی حکومتوں کو ایک خط کے ذریعے کہا ہے کہ فلائٹ آپریشن میں سہولت اور مشکلات سے بچانے کے لئے ہوائی اڈوں سے15کلومیٹر کے حلقے تک اونچی عمارتوں کی تعمیر سول ایوی ایشن کی منظوری کے بغیر نہ کی جائے۔سی اے اے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایر پورٹس کے آپریشن میں اونچی عمارتوں کی وجہ سے رکاوٹ آتی ہے اور حادثات کا خطرہ رہتا ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کا یہ خدشہ بجا ہے اور خصوصی طور پر ہنگامی حالات میں تو یہ اور بھی زیادہ پریشانی کا باعث ہو گا،اِس لئے یہ لازم ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے زرعی اراضی کی بچت کے لئے بلند عمارتوں کی تعمیر پر زور دیا اور حال ہی میں ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں یہ منظوری دی گئی ہے کہ 23منزلہ تک عمارتیں تعمیر کی جا سکتی ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے شہروں میں ہوائی اڈوں کے اردگرد آبادیاں بن چکی ہیں،ابھی تک یہاں کوئی زیادہ بلند عمارتیں تو نہیں بنیں۔ تاہم سات منزلہ تک شاپنگ پلازے اور ہسپتال تو بنا لئے گئے ہیں، ان میں سے کئی ایک پندرہ کلو میٹر کے رقبے کے اندر بھی آتے ہیں۔دُنیا بھر میں ہوائی اڈوں کی تعمیر کا رجحان شہروں سے زیادہ فاصلے پر ہے اور ان کے اردگرد عمارتوں /آبادیوں کی ممانعت بھی ہوتی ہے،لیکن ہمارے قریباً سارے ہوائی اڈے شہری علاقوں میں واقع ہیں اورجو کبھی شہر سے باہر بھی تھے وہاں بھی اب نئی آبادیاں پہنچ گئی ہیں۔ اکثر اوقات جہازوں کی لینڈنگ کے وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ طیارہ گھروں کے اندر اُتر رہا ہے۔سول ایوی ایشن کی اس فکر انگیز تجویز کی یوں بھی افادیت نظر آتی ہے کہ ابھی ایک روز قبل لاہور میں لینڈنگ کے وقت لندن سے آنے والے طیارے کے ساتھ پرندہ ٹکرا گیا اور انجن کو نقصان پہنچا،اگرچہ طیارہ بخیریت لینڈ کر گیا،اگر اردگرد آبادی اور اونچی عمارتیں ہوں گی تو پرندے بھی بڑھ جائیں گے،اِس لئے سول ایوی ایشن کے اس خط پر غور کر کے جائزہ لینا اور آئندہ تعمیرات کی منظوری کی پالیسی بنانا چاہئے۔ویسے ایل ڈی اے نے ایک عمارت کا نقشہ منظور کرنے میں آٹھ سال لگا دیئے اگر اس رفتار سے منظوریاں ہوں گی تو زیادہ خدشات نہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -