پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ اور عالمی یوم آبادی

پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ اور عالمی یوم آبادی
پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ اور عالمی یوم آبادی

  

2017ء میں کی گئی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار ہے،یعنی ہماری آبادی 21 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اس طرح پاکستان دنیا کا چھٹا (آبادی کے لحاظ سے)ملک ہے۔ 50.8 فیصد آبادی مردوں اور 49.2 فیصد عورتوں پر مشتمل ہے ماہرین کے مطابق 2019ء کے اختتام تک پاکستان کی آبادی میں 43 لاکھ افراد کا اضافہ ہو جائے گا۔ گویا 2019ء کے ہر دن آبادی میں 11 ہزار709افراد کا اضافہ ہو رہا ہے افزائش آبادی کی شرح 2 فیصد سالانہ سے زائد ہے اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افئیرز پاپولیشن ڈویژن کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 2025ء تک افزائش آبادی کی یہ شرح 4.83فیصد سالانہ تک جا پہنچے گی۔

اس بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے ضروریات زندگی کی دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ معاشی نمو کی شرح اس سے کم از کم دوگنی ہو تو اتنے بڑے جم غفیر کے لئے مادی وسائل بہم پہنچائے جا سکتے ہیں لیکن یہاں معاملہ یکطرفہ ہے بڑھتی ہوئی آبادی میں دن بدن غربت کے ماروں کی تعداد بھی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے آبادی میں اضافے کی شرح، معاشی نمو کی شرح سے زیادہ ہے ایسی ہی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ (PPIF)کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے، جس کا مقصد وحید افزائش آبادی کی شرح کو قابو میں لانا طے کیا گیا۔ یہ ادارہ کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنیوں کی طرز پر قائم کیا گیا تاکہ اس کی کارکردگی بہتر سے بہتر رکھنے کے لئے درکار فیصلوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو اور اسے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ معاملات طے کرنے میں بھی آسانی ہو۔ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جواد احمد قریشی کی حسنِ کارکردگی اور ادارے کے لئے بے پناہ محبت کے باعث یہ ادارہ اپنی آب و تاب کے ساتھ طے کردہ اہداف کے حصول کے لئے دن رات کوشاں ہے۔

جواد قریشی ایک جواں عزم و ہمت نوجواں ہیں پنجاب کے معروف اور ہر دلعزیز چیف سیکرٹری جاوید احمد قریشی مرحوم و مغفور کے صاحبزادے ہیں تھوڑے ہی عرصے میں اہم اداروں میں مختلف پوزیشنز پر کام کرتے کرتے تجربہ کار بھی ہو گئے ہیں انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ہماری آبادی کی شرح کو اگر مناسب وقت میں لگام نہ دی گئی تو مستقبل قریب میں یہ ہمارے تمام دستیاب وسائل کو نگل جائے گی اور ہم غربت اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جائیں گے۔ ہمارے موجودہ وسائل سکڑ رہے ہیں ہمیں موجودہ آبادی کے لئے ضروریات زندگی، وسائل، ملازمتیں وغیرہ مہیا کرنا مشکل ہو رہا ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے دستیاب وسائل روز بروز کم ہوتے چلے جائیں گے۔

ان کی باتیں بادی النظر میں درست لگتی ہیں ہم ان کے استدلال کی طاقت بھی مان لیتے ہیں، لیکن کچھ تاریخی حقائق ایک دوسری حقیقت کی طرف بھی اشارے کرتے ہیں۔ چین اور بھارت نے اپنی عظیم الشان آبادی کو ہی بنیاد بنا کر اپنی قومی تعمیر و ترقی کی بنیادیں قائم کی ہیں چین نے ”ایک منہ کھانے والا اور دو ہاتھ کام کرنے والے“ سلوگن کے تحت کام کرنے والے دو ہاتھوں کو بنیاد بنایا اور تعمیر و ترقی کے سفر پر چل نکلے پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے افیونیوں کے عظیم انبوہ نے ”عظیم الشان قوم“ کی شکل اختیار کر لی۔ انہوں نے اپنی آبادی کو ہنر مند اور ہنر کار بنا کر تعمیر و ترقی کی عظیم البحثہ مشین کاحصہ بنا دیا پھر ایک عظیم الشان تبدیلی آئی۔ تعمیر و ترقی کا ایک حیران کن انقلاب برپا ہو گیا چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے ”ون بیلٹ ون روڈ“ منصوبے کے ذریعے تین براعظموں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر حیران کن اور بین الاقوامی برآمدی تجارت کا حجم آنکھیں چندھیانے والا ہے۔ دُنیا کی سپریم طاقت امریکہ اس کے بڑھتے ہوئے اثرات سے حیران ہی نہیں بلکہ پریشان بھی ہے۔ بھارت بھی اپنی کثیرالبحثہ آبادی کو اپنی تعمیر و ترقی کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش بھی اسی صف میں کھڑا نظر آرہا ہے جہاں آبادی باعث رحمت ہے زحمت نہیں، لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم اپنی افرادی قوت کو حقیقی معنوں میں قوت نہیں بنا پائے ہیں۔

پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ کی قیادت ان دلائل سے قائل نظر نہیں آتی بلکہ وہ زرخیزی / فرٹیلٹی میں کمی لانے کی پالیسی پر بڑے منظم اور سائنٹیفک انداز میں گامزن ہے وہ فیملی پلاننگ کے ایسے ذرائع کے فروغ میں لگی ہوئی ہے جو نہ صرف ہمارے علاقائی ماحول اور رسوم و رواج سے مطابقت رکھتے ہیں،بلکہ ان کے اثرات اور نتائج کو جانچا بھی جا سکتا ہے اور انہیں مستقبل میں جاری و ساری بھی رکھا جا سکتا ہے۔

فنڈ کی قیادت(بورڈ) نجی شعبے کی فعالیت سے بھی متاثر نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ پی پی آئی ایف کی اپنے ٹارگٹس کے حصول کی حکمت عملی میں پرائیویٹ سیکٹر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت اور فعالیت کے ذریعے پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ بڑی سرعت کے ساتھ اپنے اہداف کا پیچھا کر رہا ہے۔ مظفر گڑھ میں ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ڈویلپمنٹ سوسائٹی HANDS اور راولپنڈی کے مضافات میں اختر حمید خان ریسورس سینٹر (AHKRC)کے ذریعے 80 ہزارایسی خواتین کو فنڈ کے پروگراموں میں شامل کر لیا ہے، جو شادی کی عمر میں پہنچ چکی تھیں ان خواتین کو پی پی آئی ایف کے مقاصد اور اہداف سے نہ صرف روشناس کرا دیا گیا ہے،بلکہ وہ اس مشن سے متفق ہو کر اس میں شامل بھی ہو چکی ہیں۔ بہاولپور، ملتان اور فیصل آباد میں گرین سٹار اور انٹر نیشنل ریڈکراس کے ذریعے نوجوان مردوں کو بھی پی پی آئی ایف کے اہداف سے روشناس کرایا گیاہے۔ ہیلتھ انشورنس پروگرام کے ذریعے پنجاب کے 8 ضلعوں کے مردوں کو فنڈ کے مقاصد اور اہداف سے نہ صرف آگاہ کیا گیا بلکہ ڈیڑھ لاکھ نوجوان ان مقاصد کے حصول کے لئے سرگرم قرار پائے ہیں۔

فنڈ کے مقاصد اور اہداف کو عام کرنے اور متعلقہ مرد وزن کو فیملی پلاننگ کے لئے آمادہ کرنے کے حوالے سے ابلاغ عامہ کی ایک مربوط و منظم پالیسی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کے مطابق ابلاغ کے مروجہ یعنی روایتی اور غیر روایتی آلات کو بروئے کار لاتے ہوئے پی پی آئی ایف کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ شہریوں تک پہنچانا ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لئے بہتر منصوبہ سازی کر سکیں۔ سوشل میڈیا بھی اس حکمت عملی کا اہم عنصر ہے جسے سائنٹیفک انداز میں استعمال کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کر نے کی کاوشیں جاری ہیں۔ آج کا ”ورلڈ پاپولیشن ڈے“اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے یہ دن انٹر نیشنل کانفرنس برائے پاپولیشن ڈویلپمنٹ (ICPD) کی نگرانی اور یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن (UNFPA)کے تعاون سے منایا جا رہا ہے۔ پی پی آئی ایف کیونکہ " آبادی " کے حوالے سے مرکزی سٹیک ہولڈر ہے اور صوبہ پنجاب میں سرگرم عمل ہے اِس لئے اس دن کو منانے کے اہتمام کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے پاپولیشن ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ اس حوالے سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے آج اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اس قومی فریضے کی ادائیگی کے لئے سرگرم عمل ہیں ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے ان کو مل بیٹھنے اور غور و فکر کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور اس طرح معاملات درست سمت میں آگے بڑھیں اور حکومت کی کاوشیں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -