”آخری فتح سے پہلے“

”آخری فتح سے پہلے“

  



کشمیر زمین پر واقعی جنت نظیر ہے، حقیقت، لیکن یہ ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہوا ہے۔ ہندوستان کشمیر کو ابتداء ہی سے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا چلا آیا ہے۔”جب میری کوئین آف سکاٹس نے کیلے کی بندرگاہ چھین لی تو کہا: ”مرتے وقت میرے دل کو چیرا جائے تو وہاں ”کیلے“ کا لفظ کُھدا ملے گا۔ جواہرلعل نہرو کے الفاظ میں۔”اسی طرح میرے دل میں بھی کشمیر کا لفظ نقش ہے!“ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ یہ ان کے نزدیک موت وحیات کا مسئلہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو گویا کشمیر سے رومانس تھا۔ انہوں نے اسے بانیء پاکستان کے ورثہ کے طور پر قبول کیا، لہٰذا برملا کہا کرتے تھے کہ جب تک ہندو کا انگ انگ نہیں ٹوٹ جاتا،کشمیر آزاد نہیں ہوگا!پاکستان پیپلزپارٹی کا خمیر ہی، اگر کہا جائے، کشمیر کی مٹی سے اٹھا تھا تو یہ کچھ غلط نہ ہے۔ وہ پارٹی، مگر مرحوم ہوچکی ہے اور زرداری خاندان اس کا مجاور! ذوالفقار علی بھٹو کا کشمیر سے عشق کبھی چھپائے نہیں چھپتا تھا۔ نومبر 1967ء میں پارٹی کی داغ بیل ڈالی تو روزِ اول ہی کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا: ”خود اختیاری کے علاوہ کسی اور اصول پر مسئلہ کشمیر کا حل ہرگز قبول نہیں ہوگا“…… کشمیر والی دستاویز میں جو انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے لکھی صاف الفاظ میں تحریر تھا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تصادم کی راہ ناگزیر ہے۔ ہمیں ہر قسم کی سودا بازی سے اجتناب کرنا ہوگا۔ ان کے بقول، کشمیر کے بغیر پاکستان ایسے ہے، جیسے سر کے بغیر دھڑ! بھٹو صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیری عوام گزشتہ بیس سال سے بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ آزادیء کشمیر کی جدوجہد دراصل پاکستان کی خود مختاری کی تکمیل کے لئے جدوجہد ہے.... یہ جدوجہد بڑھتی چلی جائے گی۔ آخری فتح سے قبل بہت سی قربانیاں دی جائیں گی، قطع نظر اس کے کہ یہ قربانیاں کب تک دی جائیں گی، ایک بات واضح ہے کہ فتح، کشمیر کے غیورعوام کی ہوگی!

انڈیا کشمیر پر اپنا غاصانہ قبضہ ہر حال میں کیوں قائم رکھنا چاہتا ہے؟ اس سوال کا جواب ”آزادیء موہوم“ میں ہے، جوان کی ایک یادگار دستاویز ہے! ”Myth of independence“ کا کامل ترجمہ! ہندوستان،کشمیر پر محض اس لئے قابض رہنا چاہتا ہے، کیونکہ کشمیر کی وادی، پاکستان کے جسم کا خوبصورت سر ہے۔ اس پر قبضے سے ہندوستان کی فوجی بالادستی قائم رہ سکتی ہے..... ہندوستان جموں وکشمیر پر اپنا قبضہ رکھ کر روس اور چین کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحدیں برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاکہ اپنی جنگی اہمیت میں اضافے کا طلب گار رہے!“بھٹو صاحب کا موقف بالکل غیرمبہم تھا: ”ہمیں اس بات کو واضح طور پر جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی عالمی طاقت اپنی سیاست کے ذریعے جموں وکشمیر کو پاکستان کے حوالے نہیں کرواسکتی، البتہ ان کی سرگرم مخالفت ہمارے لئے حصول مقصد کو بہت مشکل بنا سکتی ہے۔ اس کے لئے ہمیں ان مملکتوں کے ساتھ، جو غیر جانب دار ہیں، یا ہمارے نقطہء نظر کی مخالف ہیں، ان کے ساتھ اختلافات کم سے کم کرنے ہوں گے“۔

انہوں نے اس موضوع پر صاف شفاف الفاظ میں کہا تھا: اگر پاکستان کمزور پڑ جاتا ہے تو فوری طور پر سب سے زیادہ بدسلوکی کا نشانہ جموں وکشمیر کے مسلمان بنیں گے..... اگر ہندوستان سے تنازعات طے کئے بغیر تعاون شروع ہوا تو کشمیر کے لوگ قدرتی طور پر یہ سمجھیں گے کہ پاکستان نے انہیں ترک کر دیا ہے، اور ان کے لئے ہندوستان جارحیت کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا۔ اگر پاکستان نے اپنی قوت مزاحمت ختم کر دی تو پھر جموں وکشمیر کے نہتے لوگوں سے کس طرح مزاحمت کی توقع کی جا سکتی ہے!“کشمیریوں کی جدوجہد آزادی، ایسا لگتا ہے، آخری مرحلے پر آلگی ہے۔ بھارت کے احمقانہ رویے اور بوکھلاہٹ اس امر کی کھلی دلیل ہے۔ ایک آدمی، گالیاں تب دیتا ہے،جب اس کے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں اور کہنے کو بالکل بھی باقی کچھ نہیں رہتا۔ اسی طرح کوئی ریاست ہتھیار کا اندھا دھند استعمال اس وقت شروع کرتی ہے، جب معاملہ اس کے ہاتھوں سے نکل جانے لگتا ہے۔

غیور کشمیریوں کی فتح، جیسا کہ بھٹو مرحوم نے تخمینہ لگایا تھا، قریب ہے۔ انڈیا کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی انتہا دراصل اہلِ کشمیر کی آزادی کا آغاز ہے۔ دونوں طرف سے کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، شبِ تاریک ختم ہونے کو ہے، اور سپیدۂ سحر نمودار ہوا چاہتا ہے۔ بشرطیکہ پاکستان کسی سطح پر کسی قسم کی کمزوری نہ دکھائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش حوالہء مسرت ہرگز نہیں، بلکہ لمحہ ء فکر ہے! امریکی صدر کی ثالثی کا مطلب؟ کیا ہم کشمیر کی تقسیم پر رضا مند ہو جائیں گے؟ پاکستان کو اس امر کا کس نے اختیار دیا ہے؟ یہ مسئلہ کشمیریوں کی امنگ کے مطابق حل ہونا ہے۔کشمیریوں کی تحریک آزادی میں اب کوئی مداخلت کار نہیں،ہندو کا دردِ سر یہ بھی ہے کہ وہ عملاً کسی کو گُھس بیٹھئے بھی قرار نہیں دے سکتے۔

امریکہ جلدازجلد افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔ اُسے پاکستان کی ضرورت آ پڑی ہے۔ وہ بھارت کی کوئی خاص مدد نہیں کر سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اگر بالفرض پاکستان و ہندوستان رضا مند ہو جاتے ہیں، خطرے کی گھنٹی ہے، کیا ہم کشمیر کے بٹوارے کی تیاری کرنا چاہتے ہیں؟ اے کاش! ہمارے سلیکٹڈ اور الیکٹڈرہنما ہوش کے ناخن لیں۔ کشمیر پر قبضہ بحال رکھنے کی راہ اور چاہ میں ہندوستان اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔ ماضیء قریب میں افغانستان پر تسلط کے دوران جو حال روس کا ہوا تھا، وہی انڈیا کا ہوا چاہتا ہے۔ بھارت کا مقدر مستقبل قریب کے کسی موڑ پر ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا ہے۔ یہ نوشتہ دیوار ہے، جو کسی کے مٹانے سے اب مٹنے والا نہیں!

مزید : رائے /کالم