افغان امن معاہدہ قریب تر، بھارت کی نیندیں حرام

افغان امن معاہدہ قریب تر، بھارت کی نیندیں حرام
افغان امن معاہدہ قریب تر، بھارت کی نیندیں حرام

  

جوں جوں افغان معاہدہ طے پانے کی خبریں آ رہی ہیں،نریندر مودی سمیت بھارتیوں کی نیندیں حرام ہوتی جا رہی ہیں، پُر امن افغانستان کسی بھی طرح بھارت کو گوارا نہیں، اس انتشار زدہ افغانستان کی آڑ میں بھارت نے معاشی مفادات اٹھائے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کرا کے کمزور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی ہیں۔ یہ افغانستان کا انتشار ہی ہے جس کے پردے میں بھارت یہ الزام لگاتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرا رہا ہے، کیونکہ اس کے افغان طالبان سے رابطے ہیں۔ افغانستان میں امریکی چھتری تلے جتنی بھی حکومتیں بنی ہیں، ان کا جھکاؤ ہمیشہ پاکستان کی بجائے بھارت کی طرف رہا ہے۔ اب بھی افغان صدر اشرف غنی پاکستان پر الزام لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور بھارت کے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ اکثر اوقات تودہ بھارت کی زبان بولتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے بھارت افغانستان کا بہت مخلص دوست ہے۔ مگر اب افغان مسئلہ حل ہونے جا رہا ہے تو بھارت مچھلی کی طرح اس لئے تڑپ رہا ہے کہ اس کی وہاں سے بساط لپیٹی جانے والی ہے۔ نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کو سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ امریکی صدر نے ایک بار بھی ان سے افغان مسئلے کو حل کرانے کے لئے مدد نہیں مانگی،جو متوقع معاہدے کے ضامن ممالک ہیں، ان میں بھی بھارت کا نام و نشان نہیں، گویا اسے مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا گیا ہے۔

.

کہاں وہ خود کو علاقے کا چودھری سمجھتا ہے اور کہاں یہ حالت ہے کہ اسے افغان مسئلے سے ایسے دور رکھا گیا ہے، جیسے کسی شر پسند کو دور رکھا جاتا ہے۔ یہ کشمیر کا مسئلہ اچانک مودی نے کیوں اٹھایا ہے، آخر کیا فوری ضرورت پڑی تھی کہ اچانک کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس کا واحد مقصد یہی ہے کہ بھارت خطے میں ایک انتشار رکھنا چاہتا ہے۔ افغان مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے تو کشمیر کے مسئلے نے جنوبی ایشیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ دنیا امن کے لئے بھارت کی طرف دیکھے اور افغان معاملے سے اسے لا تعلق کرنے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں، اس کے برعکس اسے مناسب کردار دیا جائے تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم نہ ہونے پائے اور وہ اپنی مغربی سرحدوں میں الجھا رہے۔

امریکہ سمیت چین اور روس بھی یہ جانتے ہیں کہ افغان معاہدے کو صرف پاکستان ہی ممکن بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے اور ایک قابل قبول معاہدہ کرانے میں پاکستان کا کردار بہت کلیدی تھا اور رہے گا۔ اس معاملے میں بھارت پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی لئے نریندر مودی کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد غالباً یہ تھا کہ افغان مسئلہ حل ہونے جا رہا ہے تو کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہو جانا چاہئے، لیکن نریندر مودی کے دل میں چھپے چور نے اُلٹا اسے خبردار کر دیا۔ اس طرح تو خطے میں اس کی برتری کا قصہ ہی تمام ہو جاتا۔ اب تو وہ کشمیر کی آڑ میں پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے میں لگا رہے گا۔ خود ہی دہشت گردی کرا کے الزام پاکستان کو دے گا۔ یہ اس کے لئے کوئی نئی کہانی تو نہیں۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اور امریکہ نے افغانستان آنے کے لئے پاکستان سے مدد مانگی تو بھارت کی چھٹی حس بیدار ہو گئی۔

اس نے پے در پے بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کرائے اور الزام پاکستان پر لگا کر مشرقی سرحدوں پر اپنی فوج تعینات کر دی۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی فوج کو چاروں طرف سرحدوں پر لا کر اس کی طاقت کو کمزور کیا جائے۔ اس وقت بھی یہ لگتا تھا کہ جنگ بس ہونے ہی والی ہے۔ امریکہ جو بھارت کو نائن الیون کے بعد بالکل بھول گیا تھا، اپنے افغانستان میں آپریشن کی کامیابی کے لئے بھارت کی طرف متوجہ ہوا اور پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کم کرنے کو کہا۔ اس وقت صورت حال بالکل ویسی ہی نظر آ رہی ہے۔ اب افغان مسئلے کا حل قریب ہے تو امریکہ بھارت سے کسی مدد کا خواہاں نہیں اور ساری مدد پاکستان سے مانگ رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان سے کئی بار گفتگو بھی کر چکے ہیں اور تعاون کے خواہاں ہیں، جبکہ اس ایشو پر ٹرمپ نے مودی کو ایک بار بھی نہیں کہا۔

ایک مضبوط، پُرامن اور اسلامی افغانستان کسی بھی طرح بھارت کے مفاد میں نہیں،یہ پاکستان کے قریب ہو گا۔ اس کی وجہ صدیوں پرانے برادرانہ تعلقات ہیں جو پٹھانوں اور پشتونوں کے افغانوں سے چلے آ رہے ہیں، دونوں ملکوں میں بہترین تعلقات کا مطلب ہے کہ بھارت کمزور ہو گیا ہے۔ سی پیک کے منصوبے نے بھارت کو پہلے ہی اس تجارتی رہگزر سے محروم کر دیا ہے جو چین اور روس تک عالمی تجارت کا مرکز ہو گی۔ گوادر پورٹ کی وجہ سے خلیجی ریاستوں کی اجارہ داری بھی ختم ہو جائے گی اور تیل اسی پورٹ سے دنیا کو سپلائی ہوگا۔ شاید اسی وجہ سے بھارت سی پیک روٹ تک رسائی کے لئے آزاد کشمیر کے خواب بھی دیکھنے لگا ہے۔ یہ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب آنے کے مترادف ہے۔ مقبوضہ کشمیر سنبھل نہیں رہا اور خواب آگے کے دیکھے جار ہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنا اسی خواب کی ایک کڑی ہے تاکہ بھارت کو دنیا سے کٹ جانے کے جو خطرات لاحق ہو چکے ہیں،

ان سے بچا جا سکے۔ مگر یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔ سی پیک تک بھارت کی رسائی پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ طورخم بارڈر کے راستے بھی وہ صرف افغانستان کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔ اس وقت نریندر مودی اور بھارتی قیادت کی حالت ایک جھنجھلائے ہوئے شخص جیسی ہے، جسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ سوا ارب سے زائد آبادی کے ملک کو دنیا میں سائیڈ لائن ہونے سے کیسے بچایا جائے؟ بدامنی کا شکار افغانستان اس لئے بھارت کے حق میں ہے کہ اس طرح سی پیک کو بھی خطرات لاحق رہیں گے اور پاکستان پر بھی دباؤ برقرار رہے گا۔ کشمیر پر قبضہ بھی ایک بڑی گیم کا حصہ ہے تاکہ عالمی طاقتوں کو درمیان میں لا کر بھارت کو آنے والے برسوں میں غیر متعلقہ ملک بننے سے بچایا جا سکے۔

خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں اس لئے نریندر مودی اور ہندو انتہا پسند بھی جی بھر کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ انہوں نے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کا جو ڈرامہ رچایا تھا، وہ الٹا ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ سلامتی کونسل نے اسے مانا ہے اور نہ کشمیریوں نے اسے قبول کیا ہے، حتیٰ کہ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی نریندر مودی کی اس حرکت کو بھارت کے خلاف ایک سازش کہا ہے۔ راہول گاندھی اور غلام نبی آزاد کو سرینگر جانے سے روکنے کا عمل بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے اندر سے نریندر مودی کے اقدامات کو مزاحمت کا سامنا ہے اور حکومت اس سے خوفزدہ ہے۔ افغانستان کے مختلف شہروں میں جو خودکش حملے یا دھماکے ہوئے ہیں، ان میں سو فیصد بھارتی ایجنسی ”را“ کا ہاتھ ہے۔

ان دھماکوں کا مقصد امن منصوبے کو سبوتاژ کرنا تھا، تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ افغانستان میں اسٹیک ہولڈرز صرف طالبان نہیں، کچھ اور گروپ بھی ہیں، لیکن اس کی یہ کوششیں ناکام ہوئیں اور مذاکرات جاری رہے اور اب یہ مرحلہ آ گیا ہے کہ کسی وقت بھی غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کا ٹائم فریم اور افغانستان میں ایک متفقہ حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ بھارت اپنی آبادی کے زور پر خطے میں چودھراہٹ کے جو خواب دیکھ رہا ہے، وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے، کیونکہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی اسٹریٹجک پوزیشن کو منوا کر بڑی طاقتوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان پر انحصار کریں۔ بھارت کی نیندیں اسی لئے حرام ہیں اور بہت جلد دنیا دیکھے گی کہ افغانستان کے بعد مقبوضہ کشمیر بھی بھارت کے ہاتھوں سے نکل گیا۔

مزید :

رائے -کالم -