کیا مودی نے تاریخی غلطی کی ہے؟

کیا مودی نے تاریخی غلطی کی ہے؟
کیا مودی نے تاریخی غلطی کی ہے؟

  

اگلے روز وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ مودی نے اپنے آئین میں دفعات 370 اور 35-A میں ترمیم کرکے کشمیر کی نیم خود مختاری کی حیثیت کو جو ختم کیا ہے تو یہ ان کی ایک تاریخی اور سنگین غلطی تھی۔ اس بلنڈر کی وجہ ان کا حد سے بڑھا ہوا تکبّر ہے اور کشمیریوں کو اب جان لینا چاہیے کہ عشروں تلک انہوں نے جس استصواب رائے کا خواب دیکھا تھا وہ درحقیقت ایک سراب تھا۔ مزید کہا کہ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی نسل کُش پالیسی کا اصل چہرہ دیکھے۔ وقت نکال کر گاہے گاہے اس مسئلے پر غور کیا کرے اور فیصلہ کرے کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نے اپنے اس خطاب میں قوم کو کوئی واضح پالیسی نہیں دی۔ فوج اور حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ آخری حدوں تک جائیں گے ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی اجازت ہمارا وہ مذہب نہیں دیتا جو قیامِ پاکستان کی اساس ہے۔ پاکستان قائم رہنے کے لئے وجود میں لایا گیا تھا، مرمٹنے اور فنا ہونے کے لئے نہیں۔یہ جو جوہری جنگ کی دھمکی ہے خواہ وہ پاکستان کی طرف سے آئے، خواہ انڈیا کی طرف سے،کشمیر کی موجودہ مرض کا کوئی دیرپا مداوا نہیں۔ میں ان سطور میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ پاکستان اور بھارت میں اگر جنگ ہوئی تو پاکستان کی جوہری دہلیز، بھارت کے مقابلے میں جلد آ جائے گی۔ لیکن یہ بھی سوچیں کہ اس دہلیز کے آنے سے پہلے پاکستان کس قیامت سے گزرے گا اور انڈیا کو کس نرگ سے گزارے گا۔

عام تاثر یہی ہے کہ پہلے میزائل چلائے جائیں گے۔ غالب امکان یہ بھی ہے کہ ان پر روائتی وارہیڈز نصب ہوں گے جو روائتی جنگ کی تباہ کاریوں کا منظر تخلیق کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کریں گے۔ لیکن دنیا نے تو یہ مناظر دوسری جنگ عظیم میں بڑی کثرت سے دیکھے ہیں …… 6اگست 1945ء والی تاریخ تو بہت آخر میں آئی۔ اس سے پہلے پانچ بار 6اگست آیا تھا (1940ء، 1941ء، 1942ء، 1943ء اور 1944ء میں) اور ان ایام میں دنیا کے تقریباً سارے ہی براعظموں نے بربادی کے فل سکیل مناظر بھی دیکھے۔ صرف شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا بچے رہے۔ تاہم ان سب نے بھی باقی براعظموں میں جا کر پراکسی وار لڑی اور اپنے لاکھوں کروڑوں سولجرز ہلاک کروائے…… سوال یہ ہے کہ کیا یہی کامیاب جنگی سٹرٹیجی ہے؟……

جنرل سن تزو (545ق م تا 470ق م) قدیم چین کا ایک معروف جرنیل ہو گزرا ہے جس نے جنگ کی سٹرٹیجی پر ایک کتاب The Art of War میں ایسے ایسے عسکری اقوال درج کئے ہیں جو آج بھی اسی طرح قابلِ عمل ہیں جو 2500برس پہلے تھے۔ یہ کتاب دنیا کی تمام بڑی بڑی عسکری درسگاہوں میں پڑھائی جاتی ہے اور تسلیم کیا جاتا ہے کہ جو کجھ جنرل سن تزو نے کہا تھا وہ گزشتہ 24،25 صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بار بار سچ ثابت ہو رہا ہے۔ آج کشمیر کی صورتِ حال کے تناظر میں سن تزو کے یہ ”ارشادات“ پاک فوج کے لئے بھی مشعلِ راہ ہیں …… اس نے لکھا تھا: ”جنگ میں سب سے اہم بات دشمن کی سٹرٹیجی کو بگاڑنا ہے، اس کے بعد اس کے معاہدوں کو توڑنا اور اس کے بعد اس کی فوج پر حملہ کرنا ہے“۔

……ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا نے اس سٹرٹیجی پر 70فیصد تک عمل کر لیا ہے۔ پاکستان کی سٹرٹیجی یہ تھی کہ کشمیر پر اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے، مقبوضہ جموں اور کشمیر میں انڈین آرمی نے جو 8،9 لاکھ فوج اکٹھی کر رکھی ہے اس پر رفتہ رفتہ گوریلا حملے کرکے اس کی تعداد اور اس کے مورال کو پست کرنا چاہیے۔ کشمیر کی مسلم آبادی کو انڈیا کی مرکزی حکومت کے خلاف وقت پڑنے پر تخریبی کارروائیوں کے لئے تیار کرنا چاہیے، کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی مدد جاری رکھنی چاہیے اور اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب انڈیا خود ”عاجز“ آکر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے پر رضامند ہو جائے اور ”کشمیر، پاکستان بن جائے“…… لیکن انڈیا نے بقول سن تزو پاکستان کی اس سٹریٹجی کو اپنے آئین میں ترمیم کرکے بگاڑ دیا!…… اب پاکستان کو نئے حالات میں نئی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہو گی اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان نے جو نئی پالیسی وضع کی ہے وہ ”باہمی خودکشی“ کی پالیسی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہماری یہ نئی پالیسی کسی بھی اعتبار سے انسانی عقل و دانش کی پالیسی نہیں۔ جنگ کی پالیسی تو یہ ہے کہ دشمن کو مارو اور خود کو بچاؤ۔ ہماری فوجی درسگاہوں میں سب سے پہلا جنگی سبق یہی دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں پڑھایا جاتا کہ دشمن کو مارو اور اس کے ساتھ خود بھی مر جاؤ۔

عمران خان صاحب کے ذہن میں اگر یہ خیال ہے تو ان کو اس پر از سرِ نو غور کرنا چاہیے۔ یہ سٹرٹیجی میرے خیال میں ناقص ہے اور قابلِ عمل نہیں۔ جنگ شروع ہوئی تو میزائل وار فیئر کی شروعات کے ساتھ ہی باقی بھاری ہتھیار بھی استعمال ہوں گے۔ ٹینک، توپیں، طیارے، بحری جنگی جہاز اور آبدوزیں وغیرہ سب کی سب بیک وقت اگر لانچ کر دی جائیں گی تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ ”پراسس“ کتنے دن جاری رہے گی؟ کیا پاکستان(اور انڈیا) اپنے سٹرٹیجک اہداف کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہیں گے اور روائتی جنگ کو اسی طرح جاری رکھیں گے، جس طرح دوسری عالمی جنگ میں جاری رہی یا اس سے پہلے اور اس کے بعد کی جنگوں میں جاری رہی؟……

جنرل سن تزو کے مقولے کا دوسرا حصہ ہے: ”دشمن کے معاہدوں کو توڑو“…… دیکھا جائے تو جب کسی جنگ میں پہلی گولی فائر ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی دشمن کے ساتھ کئے گئے معاہدے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یکم ستمبر 1939ء کو جب ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کیا تھا تو یہ معاہدۂ ورسیلز کی تنسیخ ہی تو تھی۔ اس کے بعد کون سا معاہدہ تھا جو اس جنگ میں توڑا نہیں گیا؟ ایک مقولہ یہ بھی ہے کہ آج تک دنیا کا کوئی معاہدہ ایسا نہیں جو توڑا نہ گیا ہو۔پاکستان تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ہندوستان نے اپنے آئین کی دو شقیں توڑ کر ان تمام معاہدوں کو منسوخ کر دیا ہے جو1947ء سے لے کر اب تک کئے گئے تھے۔وہ سندھ طاس کا معاہدہ ہو یا تاشقند کا، اب پاکستان کسی معاہدے کی پاسداری کا پابند نہیں ہو گا۔ جب یہ معاہدے توڑ دیئے گئے تو پھر کا ہے کو سلامتی کونسل کا رخ کیا اور اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا؟

کہا جا رہا ہے کہ انڈیا نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے کشمیر کے مسئلے کو انٹرنیشنلائز کر دیا ہے!…… کیا یہی انٹرنیشنلائزیشن ہے کہ مودی جہاں جاتے ہیں ان کو سونے کے ہار زیبِ گلو کئے جاتے ہیں۔دُنیا کی واحد سپر پاور کا تاجدار جب مودی کو ملتا ہے تو ان کی ”جپھی“ کا بُرا نہیں مناتا۔آج کے اخباروں میں ٹرمپ اور مودی کی وہ تصویر تو آپ نے دیکھی ہو گی جس میں ٹرمپ نے اپنا دایاں ہاتھ مودی کی طرف بڑھا کر منہ کیمرے کی طرف کیا ہوا ہے اور وہ مودی جو پاکستان کے لئے مغرور اور متکبر شخص ہے وہ ٹرمپ کے ہاتھ پر اپنے دونوں رکھ کر ان کو بڑی عاجزانہ، تابعدارانہ اور ملتجیانہ نظروں سے دیکھ رہا ہے۔وہ چیز جسے میڈیا میں ”جسمانی زبان“ (Body Language) کہا جاتا ہے وہ مودی کے رخِ روشن کے ہر بُنِ مو سے عیاں اور نمایاں ہے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو انٹرنیشنلائز کیا یا نہیں کیا،لیکن مودی نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے، کشمیریوں کو پابندِ سلاسل کر کے،5اگست سے آج تک کرفیو کا نفاذ کر کے، کشمیری خواتین کی عصمتیں تار تار کر کے اور اپنی سینا کو کشمیریوں پر ہر طرح کا ظم و ستم روا رکھنے کا اذن دے کر اپنے موقف کی ”صداقت“ کو ضرور انٹرنیشنلائز کر دیا ہے! پہلے عرب امارات اور بحرین میں طلائی نیکلس گلے میں ڈلوا کر اور پھر فرانس میں G7سمٹ کے اجلاس میں ٹرمپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر مودی نے ثابت کر دیا ہے کہ انڈین اقدامات ”برحق“ ہیں اور پاکستان کا واویلا ”صدا بصحر“ا ہے!

جنرل سن تزو کے اس مقولے کا آخری حصہ ہے:”دشمن کی فوج پر حملہ کر دو۔“ یعنی پہلے اس کی سٹرٹیجی بگاڑو پھراس کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کو توڑو اور پھر اس کی فوج پر حملہ کر دو!……خدا لگتی بات یہ ہے کہ سن تزو نے پاکستانی حکومت اور پاک فوج کو آئنہ دکھا دیا ہے کہ آخری آپشن صرف ”حملہ“ ہے۔جنگی سٹرٹیجی کا پہلا آپریشن حملہ ہے،دوسرا ’دفاع‘ ہے اور تیسرا ’پس قدمی‘ ہے۔ پاکستان کی جنگی بائبل (GSP)میں ایک کتاب”Operations of war“ کے نام سے موسوم ہے اور ملٹری درسگاہوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کا پہلا آپریشنل سبق ”حملہ“ ہی ہے۔ اور اگر دو متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جائیں، بین الاقوامی رائے عامہ بے بس ہو جائے، اپنے پرائے آپ کا ساتھ چھوڑ جائیں تو یہ کہنا کہ:”دنیا خواہ ہمارے ساتھ ہو یا نہ ہو، ہم آخری دم تک لڑیں گے اور کشمیریوں کا ساتھ دیں گے“تو یہ عزمِ صمیم ویسے تو ایک عزم عظیم ہے اور اسے پورا بھی کرنا چاہیے لیکن اگر یہی کچھ کرنا ہے تو چپکے چپکے کیجئے، کشمیریوں کو ہلہ شیری دینے کا کوئی فائدہ نہیں،ان کو معلوم ہے کہ پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ لیکن ان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان ان کے ساتھ اکیلا کھڑا ہے، باقی ساری دُنیا اور سارا عرب و عجم ہندوستان کے ساتھ ہے۔ ایسے میں پاکستانی تزویر کاروں (Strategists) کو اپنی سٹرٹیجی نئے سرے سے وضع کرنی ہو گی۔ اور میڈیا پر جو کچھ بار بار دہرایا جا رہا ہے اس سے گریز کرنا ہو گا……بس بہت ہو چکا……اب اس گریباں دریدگی کی بجائے دشمن کی گریباں گرفتگی کی سبیل کرنی چاہئے!

مزید :

رائے -کالم -