اِک تیری کمی باقی تھی

اِک تیری کمی باقی تھی
 اِک تیری کمی باقی تھی

  



پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوچ کے عہدے کے لیے سابقہ کپتان مصباح الحق کی جانب سے باقاعدہ درخواست جمع کروا دی گئی ہے جس کے بعد کوچ کی خالی کرسی پر ان کے برا جمان ہونے کی پکی مہر بھی لگ چکی ہے بس ایک رسمی کارروائی ہو گی اور انہیں اس منصب پر بٹھا دیا جائے گا۔

لیکن ایک بات یہاں کرتا چلوں کہ قومی ٹیم کی کوچنگ کے لیے ہائی پروفائل کوچ کی بجائے اس شخص کو کوچ لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو لیول ٹو سے ابھی آگے بھی نہیں پہنچے جبکہ ان کے سامنے کوچنگ کے خواہش مند محسن حسن خان،ثقلین مشتاق اور ڈین جونز ایک عرصہ سے اس شعبہ سے وابستہ رہ چکے ہیں تو پھر ان کے آگے مصباح کو کوچنگ کے لیے درخواست دینے کی کیا ضرورت پیش آگئی جس کی خاطر انہوں نے پی سی بی میں اپنا عہدہ تک چھوڑ دیا اور اب وہ کوچ بننے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

میرے خیال میں اتنے سینئرز کھلاڑیوں کی جانب سے قومی ٹیم کے لیے دائر کی جانیوالی درخواستوں میں شاید کوئی اس قابل نہ ہو جتنی درخواست مصباح کی قابل غور تھی لہٰذا ان سینئرز کو اپنی درخواستیں واپس لے لینی چاہیے کیونکہ ان کا ایک مقام ہے،نام ہے اور دنیا انہیں ہیرو کے طور پر جانتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ مصباح الحق ہمارے یا دنیا کے ہیرو نہیں لیکن تجربہ میں وہ اس کام کے لیے باقی تینوں کوچز سے بہت پیچھے ہیں۔

جبکہ بیٹنگ کوچ کے لیے سابقہ ٹیسٹ پلیئر فیصل اقبال اور محمد وسیم کی جانب سے اس منصب کے لیے دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔تو جہاں تک میرا خیال ہے فیصل اقبال اور محمد وسیم بھی کوئی ہائی کوالیفائید کوچ نہیں ہیں تو پھر ان کی دلچسپی کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ان میں سے کسی ایک کو بیٹنگ کوچ لگا دینے میں کیا حرج ہو گا۔

مجھے کیا بلکہ وقار یونس کے پوری دنیا میں موجود فینز کو ان کے قومی ٹیم کے باؤلنگ کوچ کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے دلچسپی ظاہر کرنے پر حیرانگی ہے۔کیونکہ وقار یونس ایک عہد ساز شخصیت کا نام ہے اور میرا خیال یہ ہے کہ انہیں اس منصب پر برا جمان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ بطور کوچ قومی ٹیم کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں اور کھلاڑی ان سے بالکل بھی خوش نہیں یہ اور بات ہے کہ سینئر ہونے کے ناطے یا عظیم کھلاڑی ہونے کے ناطے ان کے سامنے کچھ نا کہتے ہوں جبکہ بہت سے کھلاڑی اپنا کیریئر برباد ہونے کا الزام ان پر لگا چکے ہیں تو پھر انہیں خود ہی سوچنا چاہیے کہ ان کے لیے اس منصب پر فائز ہونے کا کیا فائدہ جہاں آپ سے جونیئر کھلاڑی آپ سے خوش نا ہوں۔

رہ گئی بات ان کے ساتھ دوسرے باؤلنگ کوچ کی درخواستیں جمع کروانے والوں کی تو میرا خیال میں محمد اکرم اس منصب پر برا جمان ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ پہلے بھی قومی ٹیم کے ساتھ بطور باؤلنگ کوچ ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔اب دیر صرف مصباح الحق کے عہدہ سنبھالنے کی ہے جیسے ہی وہ اپنے عہدے پر بیٹھیں گے اس کے ساتھ ہی باقی کوچنگ سٹاف کے نام بھی بتا دیئے جائیں گے۔

اب جبکہ سری لنکا نے پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے تو انہیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان نے ہمیشہ سری لنکا کا ساتھ دیا ہے اور ہمارے موجودہ حالات سری لنکا سے بہت بہتر ہیں۔حالانکہ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد بھی ان کا ٹیسٹ سیریز پاکستان میں کھیلنے سے انکار پر حیرانی ہے۔کیونکہ جتنے دن ان کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے کھیلنے میں لگنے ہیں اتنے ہی دن میں دو ٹیسٹ میچز بھی ہو جائیں گے اس بات کا اظہار ہمارے قومی ٹیم کے مایہ ناز بلے باز سلمان بٹ،کامران اکمل و دیگر بھی کر چکے ہیں کہ سری لنکا نے پاکستان کے ساتھ برا کیا کیونکہ انہیں فول پرو ف سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی اور ان کا وفد بھی یہاں سے مطمئن ہو کر گیا تھا۔

اس سے قبل سری لنکا پاکستان میں کھیل کر جا چکا ہے اور جیسی انہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی وہ بھی اور پی ایس ایل کے موقع پر ٹیموں کو ملنے والی سیکیورٹی بھی قابل دید تھی۔لیکن خیر پی سی بی کا کہنا ہے کہ ہم لنکن بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دسمبر میں بھی لنکن ٹیم ٹیسٹ میچز کے لیے پاکستان آسکتی ہے۔بات تو اچھی ہے کیونکہ اس طرح انہیں مختصر سیریز کے دوران اندازہ ہو جائے گا کہ انہیں ملنے والی سیکیورٹی سے ان کی ٹیم مطمئن بھی ہے یا نہیں اور اگر لنکا ہمارے ملک میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے بھی آمادہ ہو جاتی ہے تو پھر دنیا کو او ر بھی اچھا اور مثبت پیغام جائے گا جس کے بعد یقیناً دوسری ٹیموں کو بھی یہاں آکر کھیلنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنا پڑے گی۔

مزید : رائے /کالم