پنجاب ، سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی فیس میں 25سے 100فیصد تک اضافہ  سے شہری پریشان

  پنجاب ، سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی فیس میں 25سے 100فیصد تک اضافہ  سے شہری ...

  

لاہور (سٹی رپورٹر)محکمہ صحت نے پنجاب بھر میں دوائیوں کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں علاج اور ٹیسٹ کی فیسوں میں 25 سے 100 فیصد تک اضافہ کردیا تھا جس کے بعد شہریوں کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔اس کے علاوہ شہر کے مختلف نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں پر ان ٹیسٹوں اور سروسز کی فیس کئی گنا زیادہ وصول کی جارہی ہے جس سے عوم کو علاج معالجے کیلئے پریشانی کا سامنا ہے۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرکے مطابق الٹرا ساونڈ کی فیس 100 سے 150روپے، سی بی سی ٹیسٹ کی فیس 100 سے 200روپے،جگر کا ٹیسٹ ایل ایف ٹی کی فیس 160 سے 600 روپے،ای سی جی 60 سے 100،دل کے مریضوں کے ایمرجنسی ٹیسٹ ٹراپ ٹی کی فیس 600 روپے کردی گئی ہے،3 ماہ کی شوگر چیک کرنے کا ایچ بی اے ون سی ٹیسٹ کی فیس 50 سے 350 روپے اور یورک ایسڈ،یوریا،کریٹانائن،بلڈ شوگر،حمل ٹیسٹ 30 سے 60 روپے کر دی گئی تھی۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی ٹیسٹ مفت کیا جارہا ہے جبکہ بیشتر ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈمیں کروائے جانے والے ٹیسٹوں پر کوئی فیس عائد نہیں کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت جہاں غریب عوام کو مفت علاج کی فراہمی کے لیے انصاف صحت کارڈ کا اجرا کر رہی ہے وہیں پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں پر فیس عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ صرف حقیقی غریب اور مستحق افراد ہی زکوۃفنڈ سے مفت ٹیسٹ کروا سکیں اور استطاعت رکھنے والے افراد سے پیشہ وصول کیا جائے۔اس کے علاوہ نئی مشینوں کے استعمال کے سبب بھی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نجی ہسپتال اور لیبارٹریاں بھی شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں جن میں یہی ٹیسٹ کئی گناہ مہنگے کیے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ ادویات کی بڑھتی قیمتوں پرفارماسوٹیکل کمپنیوں نے موقف اپنایا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھنے پر ہوا کیونکہ بیشتر غیر ملکی ادویات کی ادائیگی ڈالروں میں کی جاتی ہے، جو مقامی کمپنیاں ہیں انہیں بیرون ملک سے ادویات کے فارمولے خریدنا پڑتے ہیں۔ ا بھی تک ادویات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس یا کم تو نہیں ہواتاہم پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافے کو ہسپتالوں کا نظام چلانے کے لئے اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا جارہا ہے۔ پنجاب میں دوائیوں کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں علاج، ٹیسٹ اور آپریشن کی فیسوں میں 25 سے 100 فیصد تک اضافہ کرنے کے فیصلہ سے مڈل کلاس اور غریب افراد کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کروانا مشکل ہو گیا ہے۔ ان ٹیسٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد حکومت پنجاب وصول کرے گی۔

فیس عائد

مزید :

صفحہ آخر -