مقبوضہ کشمیر، اسلحہ واپس لینے پر پولیس اور بھارتی فوج میں جھڑپیں، کرفیو کے باوجود کشمیریوں کا احتجاج، فورسز کی نہتے مظاہرین پر فائرنگ، متعدد زخمی 

مقبوضہ کشمیر، اسلحہ واپس لینے پر پولیس اور بھارتی فوج میں جھڑپیں، کرفیو کے ...

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں مقامی پولیس اسلحہ واپس لینے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوگئی۔ بھارت کی مرکزی حکومت اور فوج کو خدشہ ہے کہ پولیس اہلکار  وں کے دلوں میں کشمیروں کیلئے ہمدردی ہو سکتی ہے اس لئے بھارتی فوج انہیں غیر مسلح کرنا چاہتی ہے  جس کے باعث مقبوضہ کشمیر میں  دو بھارتی فورسز پولیس اور فوج کے درمیان نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے  متعدد جگہوں پر پولیس کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی پولیس نے مزاحمت کی  اور پولیس اور فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مقبوضہ کشمیر کے 30 پولیس افسران نے بتایا کہ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کی حیثیت کو ریاست سے وفاقی اکائیوں میں تبدیل کیا ہے، انہیں دیوار سے لگادیا گیا ہے اور چند کیسز میں نئی دہلی کی جانب سے انہیں غیر مسلح کردیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاستی پولیس فورس کشمیر سے آئینی خودمختاری واپس لیے جانے کے صدارتی احکامات پر حیرت زدہ ہے جس کی وجہ سے افسران کے حوصلے پست ہوگئے ہیں اور اب وہ وفاقی سیکیورٹی فورسز کو رپورٹ کرتے ہیں جو ان کی وفاداری پر اس طرح سوال اٹھاتے ہیں جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ایک افسر کا کہنا تھا کہ 'آخر میں نہ ہم اپنے رہے اور نہ ہی ہم پر اعلی حکام بھروسہ کرتے ہیں دریں اثنامقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت کی جانب سے کرفیو نافذ کیے 23 روز ہوگئے۔مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوئے 23 روز ہوگئے جہاں مودی حکومت کی جانب سے کرفیو کے 23 ویں روز بھی مواصلاتی نظام معطل اور پابندیاں برقرار ہیں۔کرفیو کے باعث کشمیری اشیائے خوردونوش سمیت ضروری سے محروم ہوچکے ہیں جب کہ ادویات کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔قابض بھارتی فوج احتجاج کچلنے کے لیے گھروں میں گھس بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر رہی ہے جب کہ خواتین کی بے حرمتی، چادر اورچار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے تازہ ترین جارحانہ اقدامات اور کشمیری عوام پر ہندو کلچر ٹھوسنے کے خلاف ہزاروں افراداحتجاج کیلئے شمالی، جنوبی اور وسطی کشمیرمیں منگل کو کرفیو اور دیگر پابندیوں کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر کے علاقے صورہ میں قابض فورسز کی طرف سے مظاہرین پر گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال سے بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔ دستکاریوں کی دکان کے مالک سمیر وانی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ کشمیریوں کیلئے یہ زندگی اور موت جیسی صورتحال ہے کیونکہ قابض فورسز نے دانستہ طورپر ان کا کاروبار تباہ اور بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں جبکہ مودی سرکار نے سفاکیت اور بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے گزشتہ 23دنوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شہید ہونے والے کشمیریوں کے ڈیٹھ سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے انکار کردیا تاکہ کشمیر میں ہونے والے قتل عام کے ثبوت دنیا کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔برطانوی خبر رساں ادارے میں شائع کی گئی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک تحقیقی رپورٹ میں ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں، قابض بھارتی فوج نے وادی کے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو مظاہروں کے دوران شہید ہونے والوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے اور زخمیوں کو طبی امداد دے کر فورا رخصت دینے کی سخت ہدایات دی ہیں۔انڈیپینڈنٹ کے لیے رپورٹ مرتب کرنے والے صحافی سے گفتگو میں ایک شہید کے اہلخانہ نے کہا کہ مودی سرکار کا یہ اقدام دنیا کے سامنے کشمیریوں کے نسل کشی کے واقعات پر پردہ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ مودی سرکار کے کشمیر میں طاقت کے استعمال اور کشمیریوں کی نسل کشی کی سند دنیا کے ہاتھ نہ لگ جائے اور مودی سرکار کا مکروہ چہرہ بے نقاب نہ ہوجائے۔عالمی خبر رساں ادارے سے منسلک صحافی نے درجن سے زائد ہسپتالوں کا بھی دورہ کیا، ہسپتال انتظامیہ نے صحافی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے زخمی مظاہرین کو طبی امداد کے بعد فوری طور پر ہسپتال سے رخصت دینے، زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کا ریکارڈ نہ رکھنے اور جھڑپوں میں شہید ہونے والوں کو ڈیتھ سرٹیفیکٹس جاری نہ کرنے کی زبانی ہدایات دی ہیں مقبوضہ کشمیر  میں بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس  نے کام دکھانا شروع کردیا، وادی میں خوف وہراس پھیلانے کیلئے   اغواء اور قتل کی وارداتیں  شروع ۔ پلوامہ کے علاقہ ترال میں میں نامعلوم مسلح  افراد نے ایک شہری  کو اغواء کرکے قتل کردیا۔ نامعلوم  مسلح افراد نے  عبدالقدیر  نامی ایک شخص  کو اغواء   کرکے قتل کیا اور گولیوں سے چھلنی لاش  جنگل میں پھینک دی   دوسری جانب  وادی میں بدستور کرفیو کے باعث  لوگوں کی مشکلات میں اضافہ  جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -