دریاؤ کی صورتحال قدر ے بہتر، اب سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں، ڈی جی ڈیز اسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

دریاؤ کی صورتحال قدر ے بہتر، اب سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں، ڈی جی ڈیز اسٹر ...

  

لاہور (سٹی رپورٹر) صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی طارق مسعود فروکہ کا کہنا ہے کہ اب دریاؤں کی صورحال قدرے بہتر ہے۔ اس وقت سیلاب کا کوئی زیادہ خطرہ نہیں ہے تاہم مشرقی دریا جو انڈیا کی طرف سے پاکستان میں آتے ہیں ان میں پانی کا بہاؤ جب زیادہ ہوتا ہے تو پاکستان میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد کسی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ گزشتہ دنوں سیلابی صورتحال میں ستلج کے قریب صرف تین زمین دارہ بند ٹوٹے ہیں۔ ہر پل اور بند کی ایک لائف ہوتی ہے اگر اس کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو وہ اپنی مقررہ مدت سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور ان کی بحالی کیلئے فنڈز کی بہت کمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ”پاکستان“ سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ طارق مسعود فروکہ کا کہنا تھا کہ پل یا بند کا ٹوٹنا ایک قدرتی عمل ہے اس میں کسی کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ ہر پل اور بند کی اپنی ایک مقررہ مدت ہوتی ہے جس میں وہ قائم رہتا ہے اور اگر ان کی بحالی کا کام وقت پر کیا جائے تو یہ زیادہ وقت بھی نکال جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں فنڈز کی کمی کے سبب اس کام پر توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں دو قسم کے بند تعمیر کیے جاتے ہیں ایک پروٹیکشن بند اور دوسرا زمین دارہ بند۔ پروٹیکشن بند ادرے کی جانب سے بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی کا کٹاؤ ہو اور کسی بھی آبادی کو سیلابی صورتحال میں نقصان سے بچایا جا سکے جبکہ زمین دارہ بند مقامی لوگ خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنی من پسند جگہ پریہ بند قائم کر لیتے ہیں جو سیلابی ریلے میں ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس دفعہ بھی دریائے ستلج کے ساتھ ساتھ لوگوں کے بنائے تین زمین دارہ بند ٹوٹے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ راوی، ستلج اور بیاس ان تین مشرقی دریاؤں کے حقوق انڈیا کے پاس ہیں وہ ان دریاؤں کا پانی روک کر رکھتے ہیں جس کے بعد ان دریاؤں سے ملحقہ زمین پاکستان میں سوکھ جاتی ہے اور لوگ اس زمین پر پہلے کچے اور پھر مضبوط مکان تعمیر کر لیتے ہیں ان جب انڈیا ان دریاؤں کا پانی کھولتا ہے تو یہ آبادیاں اس کے ساتھ ریلے میں بہہ جاتی ہیں۔ محکموں کی جانب سے جب ان لوگوں کو روکا جائے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ ہمارے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے اور مظلوم بنتے ہیں جبکہ ہماری جانب سے مون سون سے قبل ہی سروے مکمل کر کے ممکنہ سیلابی ریلے سے متاثر ہونے والی آبادیوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔محکمہ اپنا کام بھرپور طریقے سے کر رہا ہے جو ہر ضلع کے لحاظ سے پلاننگ بھی کرتا ہے اور لوگوں کو اس پر آگاہی بھی فراہم کرتا ہے تاہم لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حالات کو سمجھیں اور ہمارا ساتھ دیں۔ اس کے بر عکس جہلم، چناب اور سندہ کے قریب رہنے والے لوگ بات ماں لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دریا پاکستان کے زیر انتظام ہیں اور یہ دریا اکثر بھرے رہتے ہیں۔

ڈی جی ڈیزاسٹر مینجمنٹ

مزید :

صفحہ اول -