تارکین وطن کی نظر بندی، 19ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

  تارکین وطن کی نظر بندی، 19ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ...

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) 19ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرلز نے اپنی حکومتوں کی طرف سے لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز جاری ہونے والے انتظامیہ کے اس نئے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت امریکہ میں پناہ کے متلاشی خاندانوں کو غیر معینہ عرصے کے لئے نظربند کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اگر عدالت نے اس قانون کو معطل یا منسوخ نہ کیا تو یہ اکتوبر سے موثر ہو جائے گا۔ کیلی فورنیا کے اٹارنی جنرل بیکرا نے مقدمہ دائر کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”نئے قانون کے ذریعے بچوں کی حفاظت اور خیریت کے حوالے سے انتہائی ظالمانہ طریقے سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے یہ قانون کئی عشرے قبل وفاقی حکومت کی طرف عدالت میں ہونے والے اس سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے جو تارکین وطن بچوں کی غیر قانونی حراست سے منع کرتا ہے۔”وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس مقدمے پر اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ تارکین وطن بچوں کو بیس دن کے بعد چھوڑ دینے کے قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میکسیکو بارڈر پر پناہ حاصل کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ صرف گزشتہ ماہ کے دوران امریکہ کے جنوبی بارڈر سے آنے والے 42ہزار سے زائد خاندانوں کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے زیادہ کا تعلق وسطی امریکہ سے ہے۔ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے محکمے کے پاس اس وقت ٹیکساس میں دو اور پنسلوینیا میں ایک نظر بندی کیمپ ہے جہاں بستروں کی تعداد تین ہزار تک ہے۔ اس وجہ سے نظر بندوں کے لئے گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے انہیں جلد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نئے قانون کا نفاذ ہو بھی گیا تو ان نظر بندوں کو جگہ فراہم کرنا بھی بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

قانون چیلنج

مزید :

صفحہ اول -