جنر ل اسمبلی ، انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کا معاملہ اٹھائینگے : وزیر خارجہ 

    جنر ل اسمبلی ، انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کا معاملہ اٹھائینگے : وزیر ...

  

اسلام آ باد( سٹاف رپورٹر ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آ گاہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ23 دن سے، دن رات کرفیو جاری ہے ذرائع مواصلات پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ حقائق دنیا سے پوشیدہ رہیں،بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں ابھی حقائق کو پوری طرح بے نقاب ہونا ہے لیکن جو اطلاعات اب تک مل رہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں،پوری وادی جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے،9ستمبر کو ہیومن رائٹس کمیشن کا اجلاس شروع ہو رہا ہے ،اجلاس میں ساری صورتحال کو وہاں پوری طرح اجاگر کریں گے،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلے کو اٹھانے کے لئے پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے ،بھارت کی شدید مخالفت کے باوجود سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا ہماری بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے اس اجلاس سے بھارتی موقف کی تردید ہوئی کہ یہ مسئلہ ہمارا اندرونی ہے،پاکستان نہتے کشمیریوں کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی معاونت جاری رکھے گا۔شاہ محمود قریشی نے کمیٹی کو ہندوستان کی طرف سے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، صدر سیکورٹی کونسل، سیکریٹری جنرل او آئی سی ،ہیومن رائٹس کمشنر کو بھارتی اقدامات سے پہلے اور بعد میں خطوط ارسال کئے اور انہیں اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا ۔بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ تئیس دن سے، دن رات کرفیو جاری ہے ذرائع مواصلات پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ حقائق دنیا سے پوشیدہ رہیں ۔پاکستان اور کشمیری عوام ان بھارتی اقدامات کو پہلے ہی یکسر مسترد کر چکے ہیں جبکہ ہندوستان میں بھی ایک بڑا سیاسی طبقہ ان اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔راہول گاندھی کی قیادت میں گیارہ رکنی وفد جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وہاں کے دورے کا متمنی تھا اسے سری نگر ائیرپورٹ سے وآپس دہلی بھیج دیا گیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا واضح موقف کل اپنے خطاب میں پوری قوم کے سامنے رکھا ۔پاکستان ، نہتے کشمیریوں کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی معاونت جاری رکھے گا ۔چیرمین قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ نے اس ساری صورتحال پر اراکین کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرنے پر وزیر خارجہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

شاہ محمودقریشی

 اسلام آباد (نیوزایجنسیاں ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیلجیم کے وزیر خارجہ ڈیڈیئر رائنڈرز سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیلجیم وزیر خارجہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 23 یوم سے جاری کرفیو اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیاہندوستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں ۔ہندوستان نے ان یکطرفہ اقدامات سے پورے خطے کا امن داو¿ پر لگا دیا ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال سے ہمیں ایک نیا انسانی المیہ جنم لیتا دکھائی دیتا ہے ۔بیلجیم کے وزیر خارجہ نے اس ساری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے کو جلد از جلد دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان شروع دن بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی رہا ہے لیکن بھارت نے اس حوالے سے ہمیشہ منفی طرز عمل کا مظاہرہ کیا ۔بیلجیم کے وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں فریقین سے بات کرنے اور اپنا سہولت کارانہ کردار ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ دوسری طرف برطانیہ کے 5 رکنی پارلیمانی وفد کی ایم پی خالد محمود کی سربراہی میں وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے ،بھارت اپنے یکطرفہ اقدامات سے پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے،رات کی تاریکی میں گھروں پر ریڈ کرکے نوجوان اور بچوں کو جبراً اغواء کیا جا رہا ہے خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل کرفیو کی وجہ سے خوراک اور ادویات کی شدید قلت کی اطلاعات ہیں ،ہم بین الاقوامی برادری کو مطلع کر چکے ہیں کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ کی طرز پر "فالس فلیگ آپریشن "یا کوئی اور ناٹک کر سکتا ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے اور مظلوم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی معاونت کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ منگل کوبرطانیہ کے 5 رکنی پارلیمانی وفد کی ایم پی خالد محمود کی سربراہی میں وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔دوران ملاقات مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے تبادلہ ء خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ 

مزید :

صفحہ اول -