الیکشن کمیشن ، مریم نوا ز کے پارٹی عہد ہ رکھنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ مئوخر

الیکشن کمیشن ، مریم نوا ز کے پارٹی عہد ہ رکھنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ مئوخر

  

اسلام آباد ،لاہور(آئی این پی،این این آئی ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کے پارٹی عہدہ کیخلاف کیس کا فیصلہ 3ستمبر تک موخر کر دیا، جو اب 3 ستمبر کو سنایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کے پارٹی عہدہ کیخلاف کیس کا فیصلہ 3ستمبر تک موخر کرتے ہوئے مریم نواز کے پارٹی عہدہ رکھنے سے متعلق کیس میں وکلا کو مزید معاونت کی ہدایت کی ہے ،چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا نے ریمارکس دیئے کہ کیس سے متعلق مزید تفصیلات درکار ہیں، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ دیکھنا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے اور آرٹیکل 62، 63 کے اطلاق پر مزید معاونت درکار ہے۔الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 3 ستمبر تک موخرکردی۔علاوہ ازیںالیکشن کمیشن میں خیبرپختونخواکے بلدیاتی قوانین میں ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کی اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بلدیاتی قوانین میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جمع کرانے کےلئے الیکشن کمیشن سے مذید مہلت دینے کی استدعا کی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ یہ یکطرفہ کیس تھا اور دفتر میں بیٹھ کر فیصلہ دے سکتے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آپ کو جتنا سنا ہے اس سے زیادہ وقت دیا گیا تھا اورآپ جتنی تاخیر کریں گے ہم پر اتنا بوجھ بڑھے گااس موقع پر الیکشن کمیشن کی ممبر خیبر پختونخوا جسٹس ارشادقیصر نے ایڈوکیٹ جنرل سے پوچھا کہ آپ کب تک نوٹیفکیشن جاری کریں گے کیونکہ اگر آپ ادھورا نوٹیفکیشن جاری کریں گے تو اس سے مسائل ہونگے الیکشن کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل کو 12 ستمبر تک کا وقت دےتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخواکے بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہو گئی ہے اوراب ہم خیبرپختونخوامیں بلدیاتی حلقہ بندیاں شروع کر دیں گے ۔

الیکشن کمیشن

لاہور( این این آئی)نیب کے زیر حراست مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز سے تفتیش میں پیش رفت سامنے آئی ہے،ٹیکس کنسلٹنٹ اور چودھری شوگر مل کے اکاﺅنٹنٹ کوبھی طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔نجی ٹی وی نے نیب ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مریم نواز نے 2010 میں 43لاکھ شیئرز مبینہ طور پر چھپائے ۔نیب نے مریم نواز سے ٹیکس ریکارڈ اور ایس ای سی پی کی رپورٹ سامنے رکھ کر تفتیش کی ۔مریم نواز کے روبرو چودھری شوگر مل کی 2009اور 2010کی مالیاتی رپورٹس بھی رکھی گئیں۔ ٹیکس ریکارڈ کے مطابق مریم نواز کے پاس 2009اور 2010میں صرف 9 لاکھ شیئرز تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ایس ای سی پی کے ریکارڈ کے مطابق مریم نواز کے پاس 2009 اور 2010میں54 لاکھ شیئرز موجود تھے۔مریم نواز کے پاس 43لاکھ شیئرز کے ذریعہ آمدن اور وسائل موجود نہیں تھے اور وہ اس حوالے سے وضاحت پیش نہیںکرسکیں۔ن لیگ کی نائب صدر نہیں بتا سکیں کہ 2009 اور2010میںان کے شیئرز اور مالی معاملات میں تضاد کیوں ہے۔ذرائع کے مطابق نیب نے ٹیکس کنسلٹنٹ اور چوہدری شوگر مل کے اکاﺅنٹنٹ کوبھی طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔

اکاﺅنٹنٹ طلبی

مزید :

صفحہ اول -