کشمیر کے حالات ٹیلیفون پر ڈسکس کرنا ممنوع 

    کشمیر کے حالات ٹیلیفون پر ڈسکس کرنا ممنوع 

  

سری نگر(آئی این پی)بھارت کے مختلف شہروں میں تعلیم یا روزگار کے سلسلے میں مقیم کشمیری وادی میں مواصلاتی نظام کی معطلی کے باعث سخت پریشان ہیں۔ کشمیری شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی مجسٹریٹ دفاتر میں قائم ہیلپ لائن سے فون ملانے سے قبل ہمیں ہدایت دی جاتی ہے کہ کسی کو کشمیر کے حالات سے متعلق ہرگز نہ بتائیں۔ ضلعی مجسٹریٹ دفاتر میں فون کرنے کیلئے آنیوالے کشمیری والدین کا کہنا ہے فون نمبر ملانے سے قبل انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھ لیں لیکن فون پر کسی کو قطعی یہ نہ بتائیں کہ کشمیر میں حالات خراب ہیں۔وسطی کشمیر کے ایک ضلعی مجسٹریٹ دفتر میں دہلی میں اپنے زیر تعلیم بیٹے کو فون کرنے کے بعد ایک ادھیڑ عمر کشمیری نے نام نہ ظاہر کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اس شرط پر فون کرنے دیا گیا کہ میں اپنے بیٹے کیساتھ کشمیر کے حالات پر بات نہیں کروں گا، لہذامیں ان کی ہر شرط ماننے کیلئے تیار تھا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ انہیں ہیلپ لائن نمبر کا انچارج بنایا گیا لیکن یہ واضح حکم ملا ہے کہ اس نمبر کا استعمال کشمیر کی موجودہ زمینی صورتحال کے متعلق معلومات کی ترسیل کیلئے نہیں ہونا چاہیے۔بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد کی ایک یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی سکالر مدثر احمد نے فون پر بتایا کہ تین ہفتے گزرنے کو ہیں لیکن میری والدین یا دیگر اہلخانہ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

حالات

مزید :

صفحہ اول -