کٹھ پتلی

کٹھ پتلی
 کٹھ پتلی

  

لوگ منہ بھر بھر کر گالیاں نکالتے ہیں، بات بات پر کوستے ہیں، گرجتے ہیں برستے ہیں، اس کا ذکر سنتے ہی آگ بگولہ ہوجاتے ہیں، ان کا بس چلے تو اس کی تکابوٹی ایک کردیں، اسے بیچ چوراہے الٹا لٹکادیں، کیونکہ اس کے ہاتھوں لوگوں کا جینا اجیرن ہوگیا ہے، وہ سکھ کی سانس لینا بھول گئے ہیں، ان کا آرام، ان کی راحت ان سے چھن گئے ہیں۔

لوگ سر اپا احتجاج ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی موجودگی میں کسی کا بھلا نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ دونوں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر اس کو بددعائیں دیتے ہیں کہ جس نے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے، ہر شے ان کی پہنچ سے دور کردی ہے، انہیں گھروں میں بند کردیا ہے، ہر قسم کی معاشی سرگرمی دیوار کے ساتھ جا لگی ہے، زندگی ایک بوجھ بن گئی ہے، بوجھ بھی وہ جو اُٹھائے اُٹھتا نہیں ہے اور گرائے گرتا نہیں ہے، بلکہ گرتا ہے تو اپنے ساتھ گرانے والے کو بھی لے جاتا ہے۔

لوگوں کا ماننا ہے کہ اسے ایک سازش کے تحت جتوایا گیا ہے، جس کی جیت سے ہمسائیوں نے بھی توقع باندھ لی تھی۔ شروع دن سے اس کی ایک ہی رٹ رہی ہے کہ وہ کچھ نیا کردکھائے گا، جغرافیہ اور تاریخ بدل دے گا۔ اس شوق میں کہ وہ تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے اس نے اتنا بڑا قدم اٹھالیا ہے، یہ قدم خود اس پر بھاری پڑسکتا ہے۔

وہ بات کرتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ بکھیرتا ہے تو اس کے مخالفین کے زخموں پر نمک چھڑکاجاتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ خود اس نے کبھی کچھ کیا نہیں ہے اور اب وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی کچھ نہ کریں اس لئے وہ ایسے اقدامات کررہا ہے، جس سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے، لوگ اس کی پالیسی پر نالاں ہیں، انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کیسے اس سے پیچھا چھڑوایا جا سکتا ہے۔

اس کی عوام دشمن ذہنیت کے پیچھے ایک تاریخ چھپی ہوئی ہے، وہ پہلے دن سے اپنے مفاد کو آگے رکھ کر چل رہا ہے، کوئی جیتا ہے یا مرتا ہے، اس کی بلا سے۔ افسوس تو یہ ہے کہ طاقتور لوگ اس کے پیچھے ہیں،بلکہ اس کی آڑ میں لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں، ان کی زندگی کو اجیرن بنا رہے ہیں، اس کو سامنے دکھا کر پیچھے سے عوام پر فائر کھولے ہوئے ہیں،ایسا ہی ان طاقتوں نے دیگر ایسی کٹھ پتلیوں کے معاملے میں بھی کیا تھا، اب انہیں ایک آئیڈیل کٹھ پتلی مل گئی ہے، جتنا وہ اسے نچاتے ہیں اتنا ہی وہ لوگوں کو نچاتا ہے، جتنی اس کی اپنی زندگی اجیرن ہوتی ہے اتنی ہی وہ لوگوں کی زندگیاں اجیرن کرتا ہے،اسے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے، لوگوں کے لئے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے، دوائیوں تک ان کی رسائی نہیں ہے، وہ گھروں میں بند ہو کر بیٹھ گئے ہیں، کیونکہ باہر گلیوں میں عفریت گھوم رہا ہے جو لوگوں کو کھانے کے درپے ہے، جس کے نزدیک انسانی زندگیوں کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے، جس نے لوگوں کو نسل، رنگ، مذہب اور زبان کے نام پر بانٹ رکھاہے۔

اس کے نزدیک انسانوں کی کچھ اہمیت نہیں، وہ لوگوں کوجیتے جی مار کر ہنستا ہے، کھلکھلاتا ہے، ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ اڑاتا ہے، اس نے سب کو رام کیا ہوا ہے، ہر کوئی اس کے گلے میں سونے کے ہار ڈالنے کو بے تاب ہے،اس نے لوگوں کو تقسیم کردیا ہے،بھائی کو بھائی کے سامنے کھڑا کردیا ہے!

اس نے سوسائٹی کو تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، انٹرنیشنل میڈیا چیختا رہ گیا، اس کے کارٹون بنا بنا کر تھک گیا، اس کے درپردہ عزائم کی تفصیلات گن گن کر تھک گیا، یہ الگ بات کہ اس کے اپنے ملک کے میڈیا کے دانت دکھانے کے اور تھے اور کھانے کے اور البتہ اس کی برائیاں زباں زدعام ہونے کے باوجود وہ جیت کر دوبارہ آگیا ہے اور اس نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے، وہ ہندوتوا فلسفے کا قائل اور آر ایس ایس کی متعصبانہ سوچ کی علامت ہے، اس کی طنزیہ ہنسی میں وہ زہر بھرا ہوا ہے جس کی تاب لانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس کو Times میگزین نے Divider-in-Chiefکا خطاب دیا تھا، مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی، اس کے لانے والوں کو لمحہ بھر بھی خیال نہ آیا کہ اس کے آنے سے لوگوں کی زندگیاں کس قدر مشکل ہو جائیں گی!

پورے خطے کے عوام اس کے ہاتھوں تنگ ہیں، وہ نفرت، تعصب، دھونس دھاندلی اور من مانی کی علامت بن چکا ہے، کشمیری اس کے ظلم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، مودی مردہ باد!

مزید :

رائے -کالم -