سرگودھا، ذہنی مفلوج شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6افراد کوقتل کر کے خودکشی کرلی

  سرگودھا، ذہنی مفلوج شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6افراد کوقتل کر کے خودکشی کرلی

  

سرگودھا(بیورو رپورٹ) سرگودھا کے نواحی علاقہ چک خانہ کالونی تھانہ لکسیاں کی حدود میں سفاک شخص نے اپنے ہی خاندان کے چھ افراد کو فائرنگ کرکے قتل اورایک کوشدید زخمی کرکے خودکشی کرلی،دلخراش واقعہ کے بعد گاؤں کی فضا سوگوار ہوگئی، مقتولین اور قاتل کو سپردخاک کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ نور دین کا اپنے بھائی اکبر خان سے جھگڑا ہوا جس پر اس نے فائرنگ کرکے اکبر خان اس کے بیٹوں قلم دین، جمال خان سمیت تین خواتین جن میں شاہو بی بی،شائتہ بی بی اور برنگ بی بی کو قتل کردیا، ایک بھتیجا شدید زخمی ہو گیا،قاتل نے واردات کے بعد خود کو بھی گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اطلاع ملنے پر ڈی پی او سرگودھا حسن مشتاق سکھیرا پولیس کی بھاری نفری سمیت موقع پر پہنچ گئے، ڈی پی او کی نگرانی میں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے مڈھ رانجھا ہسپتال منتقل گیا۔ سات افراد کی المناک موت کے واقع سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ وزیر اعلیٰ اورا ٓئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی جبکہ آر پی او فضال احمد کوثر کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی ٹیم نے کارروائی شروع کردی ہے،ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ ملزم کی ذہنی حالت مشکوک تھی تاہم ٹیم دیگر مختلف پہلوؤں پر مصروف عمل ہے، دوسری جانب پوسٹمارٹم کے بعد نعشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ ایک ساتھ 7 جنازے اٹھنے پر ہر طرف کہرام مچ گیا۔ ایڈیشنل ایس پی ملک واجد کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

6افرادقتل

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں کچرا اٹھانے کے معاملے پر میئر نے مصطفی کمال کو گاربیج پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کرکے اگلے روز معطل کردیا۔میئر کراچی وسیم اختر نے سوموار کوچیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال کو گاربیج پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا تھا۔مصطفی کمال نے سوموار کو اصغر علی شاہ سٹیڈیم میں کے ایم سی افسران کا اجلاس طلب کیا تھا تاہم کوئی افسر اجلاس میں شرکت کیلئے نہ پہنچا جس پر اجلاس منسوخ کرنا پڑا۔مصطفی کمال نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ میئر کراچی ان کے باس ہیں اور باقی سب لوگوں کے وہ باس ہیں جبکہ انہوں نے چیئرمین ڈسٹرکٹ سینٹرل اور دیگر چیئرمینوں کو ہدایت کی تھی کہ انہیں شہر کے معاملات پر بریفنگ دی جائے۔مصطفی کمال کو اختیارات سونپنے کے بعد گزشتہ روز میئر کراچی نے انہیں معطل کردیا۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ مصطفی کمال کو بد تمیزی پر معطل کیا وہ کام کے بجائے سیاست چمکارہے ہیں لہٰذا اگلے احکامات تک وہ معطل رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ مصطفی کمال میونسپل کارپوریشن کے ماتحت آتے ہیں، انہوں نے میری نیک نیتی پر مبنی اقدام کو سیاست کی بھینٹ چڑھادیا، وہ اس قابل نہیں اور بدتمیز بھی ہیں، انہیں میڈیا پر ڈرامے کی بجائے ہیڈ آفس آکر ہمیں منصوبہ بتانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے چیئرمین ڈسٹرکٹ سینٹرل کی حدود میں مداخلت کی۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ مصطفیٰ کمال نیک نیتی سے لوگوں کی مدد کریں گے اورمیں نے کراچی کے مفادات اور لوگوں کے ریلیف کیلئے نیک نیتی سے ایک حکم جاری کیا کیونکہ وہ رضا کارانہ طور پر کہہ رہے تھے کہ 90 روز میں کراچی صاف کردیں گے، افسوس ہوا کہ میری نیک نیتی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا اسے سیاست میں تبدیل کیا گیا۔وسیم اختر نے مزید کہا کہ مصطفی کمال ہیڈ آفس آکر جوائننگ دیتے اور اپنی90 دن کی پلاننگ ہم سے شیئر کرتے کہ وہ کس فارمولے کے تحت شہر صاف کریں گے لیکن وہ بلدیہ میں چائنا کٹنگ پر لگ گئے، کوئی بھی ان کے ماتحت نہیں آتا بلکہ وہ خود کے ایم سی کے ماتحت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مصطفی کمال کوئی نیب کے آدمی نہیں جو اکاؤنٹس منگوارہے تھے، ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے انہیں معطل کیا ہے۔میئر کراچی وسیم اختر کے اعلان کے بعد مصطفیٰ کمال کی بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

مصطفی کمال/معطل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -