خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہا ہے،ظاہرہ جاوید

خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہا ہے،ظاہرہ ...

  

چترال (نمائندہ پاکستان)آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے زیرنگرانی کام کرنے والی پراجیکٹ (AQCESS)کی تعاون سے خودکشی کے موضوع پرایک آگاہی سمینار بونی میں منعقدہوا۔سمینار سے آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے رریجنل پروگرام منیجرمعراج الدین،منیجرکمیونٹی پروگرام آغاخان ہیلتھ سروس چترال نصرت جہاں، (AQCESS پراجیکٹ کے پروگرام آفیسرظاہرہ جاوید،کواڈینٹرمیرفیاض اورعلاقے کے عمائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہا ہے، جبکہ اس حوالے سے پورے معاشرے کو سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جس کے لئے معاشرے کے ہرفرد کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ خودکشی کے اسباب اور محرکات پر غور وقت کی اہم ضرورت ہے،ہر سال ضلع چترال میں درجنوں افراد خودکشی کرکے اپنی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں، خودکشی کے تمام واقعات کی مکمل چھان بین کے ساتھ خودکشی کرنے والے افراد کا مکمل ریکارڈ بھی مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجوہات جاننے کے ساتھ ساتھ اس کا مکمل سدباب بھی کیا جاسکے۔مقررین نے کہاکہ آج کل الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی یلغار، غربت اور بے روزگاری، گھریلو حالات، بچوں اور بچیوں کی شادیوں میں ان کی رائے کا شامل نہ ہونا، اولاد اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھنے کے ساتھ معاشرے کے بگاڑ نے جوان سال بچیوں میں اس ناسور اور حرام فعل کے ارتکاب میں مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔ جس کیلئے محکمہ صحت اورمختلف مکتبہ فکرکے لوگ اہم کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔ او راس ناسور کو ختم کرنے کیلئے دنیاوی تعلیم کے ساتھ بچوں کو روحانی تعلیم و بہتر تربیت سے بہرہ ور کرنا ہوگا۔ بچوں اور والدین کے درمیان فاصلے کو ختم کرکے دوستانہ ماحول میں تربیت دیکر بچوں میں اعتماد کو بڑھانا بھی انتہائی ضروری ہے۔عمائدین نے کہاکہ چترال میں خودکشی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں حصول تعلیم کا بہت سخت مقابلہ ہوتا ہے تو اگر کسی طالبعلم یا طالبہ کے کم نمبر آتے ہیں یا وہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں تو والدین کی جانب سے انہیں طعنے سننے کو ملتے ہیں جس کی علاقے میں کافی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس ضلع چترال انتہائی دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں آگاہی پروگرامات،سمینارکرکے خودکشی کے رجحانات کوکم کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -