محرم الحرام سکیورٹی، ڈیرہ کو 4زونز،10سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا

  محرم الحرام سکیورٹی، ڈیرہ کو 4زونز،10سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا

  

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ)ریجنل پولیس آفس ڈیرہ میں ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن(ر)فیروز شاہ کی زیر صدرات محرام الحرام کے دوران امن و امان و سیکورٹی کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس کا انعقاد ‘ کمشنر ڈیرہ ڈویژن جاوید خان مروت ،ممبر قومی اسمبلی شیخ محمد یعقوب،سٹیشن کمانڈر ڈیرہ بریگیڈئیر شمریز خان ،ڈپٹی کمشنر ڈیرہ محمد عمیر کے علاوہ دیگر پولیس کے سینئر آفسران و اہلسنت و اہل تشیع برادری کے عمائدین و علماءکرام ،وکلاءبرادری،ڈیرہ کی امن کمیٹی کے اراکین و دیگر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے معزز افراد نے شرکت کی۔ ریجنل پولیس آفیسرڈیرہ کیپٹن(ر)فیروز شاہ نے شرکاءکو پولیس کی جانب سے کیئے گئے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تفصلی طور پر آگاہ کیا۔اس حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر نے کہا کہ محرم الحرام کے سلسلے میں سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیئے ڈیرہ کو 4زون اور 10سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔جن میںتمام تھلہ جات و امام بارگاہوں ،جلوس و مجالس کو فل پروف سیکورٹی مہیا کی جائے گی اس حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اس کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور ڈیرہ سٹی کی تمام چھوٹی بڑی گلیوں پر پولیس کی ناکہ بندیاں لگائیں گئی ہیں اور مزید پویس کی گشت میں اضافہ کیا گیا ہے ۔مجموعی طور پر پورے ضلع میں 6922پولیس آفسران و اہلکاران محرم الحرام کی ڈیوٹی سر انجام دیں گے ۔اسی طرح یکم محرم سے 12محرم الحرام تک شہر کو سکیورٹی حوالے سے فول پروف بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقع نا ہونے پائے ۔اس کے ساتھ ساتھ ریجنل پولیس آفیسر نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا جن کی امداد و محنت سے پچھلے چھ ماہ کے دوران بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں اور پویس و پاک فوج کے مشترکہ آپریشن کے نتیجہ 12انتہائی خطرناک اور بڑے دہشت گردوں کو ہلاک کیا جو مختلف بڑی دہشت گردی کی کاروائیاں کر چکے تھے اور سنگین مقدمات میں مطلوب تھے اور ساتھ ہی اس محرم الحرام میں بھی بڑی کاروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے پاک فوج و ڈیرہ پولیس نے نا صرف ان کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ ان کے برے عزائم کے ساتھ انہیں ہلاک کیا جو کہ اتنے کم عرصہ کے دوران ایک بڑے پیمانے پر انتہائی خطرناک دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا امن کے قیام کے لیے خوش آئین بات ہے اور مز ید بھی اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں جن ضرور کامیابی نصیب ہوگی۔جس کے بعد اجلاس کے تمام شرکاءنے پولیس کی جانب سے محرم الحرام کے ایام خاص کے لیے گئے تمام ترسکیورٹی انتظاما ت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ شہر کے باسی نہایت امن پسند ہیںاور اس شہر میں امن کی خاطر کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور نا ہی مسلک کی بنیاد پر کسی قسم کی مخالفت پسند کرتے ہیں اور ماضی کی طرح آگے بھی محرم الحرام کے حوالے س اور مزید آگے بھی پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کو یعقینی بنائیں گے ۔اہلسنت و اہل تشیع کے عمائدین و علماءکرام نے مل کر اس بات کا عہد کیاکہ ہم ہر سال کی طرح ا س سال بھی جو سابقہ معاہدات ہیں ان کی پاسداری جاری رکھیں گی اور پولیس وسول انتظامیہ کو کسی بھی شکایت کا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔مزید اسی حوالے سے شرکاءکا کہنا تھا کہ اس موقع پر ہمیں باہمی اتحاد و تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بیرونی شر پسند عناصر کو اس شہرکا امن کسی بھی طرح سے خراب کرنے کا مو قع نا مل سکے اور اس شہر کا امن ہمیشہ بحال رہے اس کے ساتھ ساتھ شرکاءنے بھی اپنی طرف سے ریجنل پولیس آفیسر و کمشنر ڈیرہ کو محرم الحرام کے انتظامات کے حوالے سے مختلف مناسب تجاویز بھی پیش کیں جس پر آفسران کی طرف سے عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔جس کے بعد سٹیشن کمانڈر ڈیرہ زشمرز خان نے کہا کہ اس شہرمیں امن و امان کی بحالی و محرم الحرام کی کی سیکیورٹی کے حوالے سے پاک فوج مکمل طور پولیس کے ساتھ تعان کرے گی اور ساتھ ہی ساتھ شہر کے باسیوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں سیکورٹی فورسز و پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں کیونکہ جب تک شہریوں کاتعاون حاصل نہیں ہو گا امن و امان کے خدشات لاحق رہیں گے اور پاک فوج بھی محرم الحرام کے حوالے سے اپنی خدمات سرنجام دے گی۔آخر میں کمشنر ڈیرہ ڈویژن جاوید خان مروت نے کہا کہ اس شہر کے امور درست کرنا ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اس حوالے سے ہم ہر ممکن اقدامات عمل میں لائیں گے اور ہماری کوشش ہے کہ محرم الحرام کے دوران لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کریں اور کم سے کم تکلیف کا سامنا کرنا پڑے ڈیرہ شہر کے لوگ امن کی خاطر ہر قسم کی قربانی دیتے آئے ہیں اور محرم الحرام کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کیے جاچکے ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہے آخر میں قاری خلیل آحمد سراج نے محرام الحرام و شہر میں مکمل طور پر امن و امان کی بحالی کے لیے اجتمائی طور پر دعا کرائی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -