کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی جاری، روزانہ مظاہرے ہوتے ہیں

کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی جاری، روزانہ مظاہرے ہوتے ہیں

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم کا عرصہ تو دہائیوں پر مشتمل ہے تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے قبضہ مستحکم کرنے کے لئے غیر آئینی اور بین الاقوامی قواعد و وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی۔ 5اگست کو کئے جانے والے اس اقدام کو آج 23روز ہو گئے اور کشمیری خود اپنے دیس اور گھروں میں قید ہیں اور مقبوضہ کشمیر کو جیل میں منتقل کر دیا گیا نو لاکھ بھارتی فوجی ان پر تعینات ہیں، گھروں میں راشن، بچوں کا دودھ اور ادویات تک ختم ہو چکیں لیکن کسی کو باہر نہیں جانے دیا جاتا۔ پوری دنیا میں اس صورت حال پر احتجاج ہو رہا ہے لیکن مودی کابینہ کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔

پاکستان میں بھی مسلسل احتجاج اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ ہو رہا ہے اور تمام جماعتیں اور طبقات اپنی اپنی جگہ مظاہرے کر رہے ہیں، تاہم اجتماعی صورت حال پیدا نہیں ہوئی کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف آمنے سامنے ہیں۔ وزرا کوئی موقع نہیں جانے دیتے، جب تنقید نہ کریں۔ جبکہ دوسری طرف سے بھی جواب آتا رہتا ہے۔ گزشتہ اتوار کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ تیکنالوجی چودھری فواد حسین لاہور آئے اور انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا دورہ کیا اور وہاں ایک نئی ایپ کا بھی افتتاح کیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا بنیادی موضوع تو کشمیر تھا تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) بھی نشانے پر رہیں، انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ جنگ خواہش ہو ہی نہیں سکتی لیکن یہ ممکن نہیں کہ جارحیت کا مقابلہ نہ کیا جائے اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم بھی جواب دیں اور بڑھنے والے ہاتھ کو توڑ دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سابق وزیراعظم اور سابق صدر محمد نوازشریف اور آصف علی زرداری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ حضرات ”پلی بارگین“ بھی کر سکتے ہیں لیکن صاحبزادوں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ نوازشریف کے صاحبزادے تو ساری رقم باہر لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ یوں تنقید کا یہ سلسلہ رکا نہیں اور جاری ہے حالانکہ فریقین یہ بھی مانتے ہیں کہ قومی اتفاق رائے ضروری ہے لیکن عملی طور پر محاذ آرائی ہی جاری ہے۔

پاک بھارت کشیدگی کے باعث تجارت تک معطل ہے لیکن وفاقی حکومت کرتارپور راہداری منصوبہ مکمل کرنا چاہتی ہے اور وہاں کام نہیں روکا گیا۔ وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ یہ سکھوں کا متبرک مقام ہے اور انہی کے لئے کرتارپور راہداری کا فیصلہ ہوا، اب اگر بھارت بھاگ بھی جائے تو ہم اس کی تکمیل کرکے اسے کھولیں گے کہ سکھ اپنے مقدس مقام کو دیکھ سکیں، جبکہ بھارتی جنتا پارٹی کے ایک اہم رہنما سبرامینم نے اپنی حکومت سے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری نہ کھولی جائے۔ اس کے باوجود تکمیل ہو گی اور بروقت کی جائے گی۔

عوامی اور سرکاری لاپرواہی کے نتیجے میں بھارت کی طرف سے ستلج اور راوی میں سیلابی پانی چھوڑنے سے بہت زیادہ نقصان ہوا اور جنوبی پنجاب تک اثرات ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ دیر کے بعد سیلاب کی صورت بننا ہے لوگوں نے دریا کے اندر ہی گھر اور فیکٹریاں بنا لی تھیں اور اب سب کو پریشانی کا سامنا ہے، فصلیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

عیدالاضحی کو گزرے بیس دن سے زیادہ ہو گئے لیکن تاحال سبزیوں، فروٹ اور اشیاء ضرورت کے نرخ واپس اپنی سطح پر نہیں آئے اور عیدالاضحی والی زیادتی اب بھی جاری ہے اور کوئی بھی سبزی ایک سو روپے فی کلو سے کم نہیں نرخ اس سے زیادہ ہی ہیں، انتظامیہ کی طرف سے بار بار دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن ضرورت اور رسد کو مدنظر نہیں رکھا جاتا کہ منافع خور قلت پیدا کرکے ہی ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں مریم نواز، محمد شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثناء اللہ،خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے خلاف مقدمات کی سماعت لاہور کی احتساب اور اینٹی نارکوٹکس عدالت میں ہو رہی ہے۔ جب بھی ان کی تاریخ سماعت ہوتی ہے تو ”سخت حفاظتی“ انتظامات شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں کہ عدالتوں کو جانے والی سڑک بند کر دی جاتی ہے۔ ٹریفک کا رخ موڑنے کی وجہ سے ٹریفک جام معمول ہے، اس کو بہتر انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ عوام کو تو پریشانی نہ ہو۔

جماعت اسلامی کا یوم تاسیس

جماعت اسلامی ایک منظم دینی سیاسی جماعت ہے جو فرقہ بندی سے ماورا ملکی حالات کے مطابق کام کرتی ہے۔ جماعت کو قائم ہوئے 78سال بیت گئے اب 78ویں سالگرہ منائی جا رہی ہ ے۔ ان دنوں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ہیں جو دوسری بار منتخب ہوئے ان کی پالیسی اور حکمت عملی کے مطابق جماعت اپنے آزاد پروگرام کے تحت کام کر رہی ہے۔ سالگرہ یا یوم تاسیس کے حوالے سے تقریبات جاری ہیں۔ منصورہ لاہور میں مرکزی تقریب ہوئی۔امیر جماعت سراج الحق نے خطاب کیا اور تنازعہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بھارت کے متعصبانہ، ظالمانہ عمل کی مذمت کی اور حکومتی پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -