خیبرپختونخوا، پولیو مہم، منکر مان گیا، قطرے پی لئے، چار سدہ میں پھر انکار

خیبرپختونخوا، پولیو مہم، منکر مان گیا، قطرے پی لئے، چار سدہ میں پھر انکار

  

خیبرپختونخوا میں پولیو کی صورت حال خطرے کی گھنٹی بجاتی دکھائی دے رہی ہے، اکثر علاقوں میں تو حالات خاصے دگرگوں ہیں جبکہ بعض مقامات پر والدین یا ملکان، مشران کی طرف سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار نے معاملات گھمبیر کر دیئے ہیں۔ اگر چہ صوبائی حکومت اس حوالے سے خاصی تگ و دو کر رہی ہے لیکن کوئی ٹھوس نتائج تا حال برآمد نہیں ہو سکے اور آئے روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ سر اٹھاتا دکھائی دیتا ہے۔ جو تازہ ترین رپورٹ موصول ہوئی ہے اس کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیو کے مزید 8 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 44ہوگئی ہے پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 66 ہوگئی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے دو روز قبل وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کی صاحبزادی کو پولیو کے قطرے پلا کر صوبے میں انسدادپولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کیا، اس موقعہ پر انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے، عوام ویکسین کے خلاف پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں، اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر صوبے اور ملک کو پولیو فری بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ صوبے کے 29 اضلاع میں 47 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کیلئے 16800 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 13884 موبائل ٹیمیں، 1222 فکسڈ ٹیمیں،1792 ٹرانزٹ ٹیمیں اور902 رومنگ ٹیمیں شامل ہیں۔ 3922 ایریا انچارج تعینات کئے گئے ہیں جو مہم کی نگرانی کریں گے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پولیو ویکسین کے سب سے بڑے مخالف نے خود قطرے پئے۔پیر کے روز پشاورمیں وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو مہم بابر بن عطا نے انسداد پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے شخص نذر محمد کو بھی پولیو کے قطرے پلائے۔ یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ بے بنیاد پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر چارسدہ میں پولیو مہم کے پہلے روز بڑی تعداد میں والدین نے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکارکردیا، وجہ اس کی یہ بتائی گئی ہے کہ چارسدہ میں مہم کے آعاز کیلئے ضلعی ہیلتھ آفس چارسدہ نے کوئی اگہی مہم نہیں چلائی تھی۔

افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لئے کی جانے والی کوششیں فوری طور پر بار آور ثابت نہیں ہو رہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی امن دشمن کارروائی سر اٹھا رہی ہے، اگر چہ طالبان نے بھی دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا ہے لیکن افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا تسلسل تا حال جاری ہے، نقصان اس کا یہ ہو رہا ہے کہ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحدی علاقوں میں بھی امن و امان مخالف سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں، جب کابل اور گرد و نواح میں گزشتہ ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات رو نما ہوئے تو خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی اس کی بازگشت سنی گئی۔ افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب چیک پوسٹ پر دھماکے میں 4افراد زخمی ہوئے۔دھماکہ پاکستانی قونصل خانے سے 200میٹر دور چیک پوسٹ پرہوا،عملہ محفوظ رہا اور اس دوران ایک افغان فوجی بھی زخمی ہوا۔ اس کے اگلے ہی روز ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن کلاں میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق درابن کلاں چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں قریب کھڑے دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہوگئے۔

بی آر ٹی سمیت صوبے میں ترقیاتی منصوبے تا حال کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں اور نئے منصوبے شروع کرنا تو کجا، پرانے منصوبوں پر سرد مہری سے حکومت خود پریشان دکھائی دے رہی ہے اور یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ بعض اعلیٰ افسران اپنے مخصوص مقاصد کے تحت ان منصبوبوں کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے یا روڑے اٹکا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے بھی اس صورت حال کا سخت نوٹس لیا ہے اور ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے متعلقہ حکام کے پیچھے ڈنڈا لے کر چڑ گئے ہیں۔ گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے زیر تکمیل منصوبے جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے اور کہا کہ اس سلسلے میں کوئی تساہل یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکاری افسر اور اہلکار عوام کو ریلیف دینا شروع کریں اور ان کی یہ عوام دوست سرگرمیاں دکھائی بھی دینا چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں صوبائی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ سرکاری محکموں کی کارکردگی پر نظر بھی رکھیں اور میڈیا پر اس کی مناسب تشہیر بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے سوات ایکسپریس وے کے دوسرے فیز کی جلد تکمیل کے احکامات بھی صادر کئے اور کہا کہ چکدرہ سے سوات تک فزیبلٹی کی تیاری جلد مکمل کی جائے اور اس شاہراہ کو سیاحوں کے لئے جلد از جلد کھول دیا جائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -