مقبوضہ کشمیر کے شہری، جاں بلب، بچوں کے لئے دودھ بھی ختم،انسانی المیہ جنم لے رہا ہے

مقبوضہ کشمیر کے شہری، جاں بلب، بچوں کے لئے دودھ بھی ختم،انسانی المیہ جنم لے ...

  

سیاسی ڈائری ملتان

شوکت اشفاق

بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے اور شہروں میں مسلح ریگولر فوج تعینات کرنے پر جہاں پوری دنیا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ہو رہے ہیں وہاں پاکستان میں بھی اس حوالے سے سیاسی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل کی توقع تھی مگر توقع کے مطابق آواز سامنے نہیں آئی اس کی بڑی وجہ اپوزیشن جماعتوں کو کرپشن کے کیسوں اور مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری اور تحقیقات کا سامنا کرنا بھی ہے تاہم کشمیر کمیٹی بھی اس میں کوئی موثر کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آئی ہے دوسری طرف مسلم امہ کی طرف سے جو توقعات تھیں وہ بھی تقریباً اپنی موت آپ مر چکی ہیں ایک گھمبیر صورتحال ہے جو دن بدن خراب ہوتی نظر آرہی ہے حالانکہ یہ بات تو واضح ہے کہ بھارت کے نا صرف خلیج، امریکہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مفادات وابستہ ہیں جو یقینا ہمارے ساتھ نہیں ہیں اس لئے تجارت کے اس دور میں سیاسی اور سفارتی تعلقات ذیادہ اہمیت حاصل نہیں کر رہے ہیں البتہ تجارت کا حجم سفارتی تعلقات میں بہتری کی وجہ ضرور بن رہے ہیں اب ایسی صورتحال میں مسلم امہ بھلا کیا کرے وہ بھارت جیسی بڑی مارکیٹ میں اپنا اثرورسوخ بڑھائے یا مذہب کی بنیاد پر کشمیر کے ایشو پر مخالفت کریں۔ حالانکہ یہ بھی واضح ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب مذہبی اور سیاسی سے زیادہ انسانی ہمدردی کا بن چکا ہے کیونکہ بھارتی افواج کی بربریت نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں لیکن افسوس دکھ اور حیرت یہ ہے کہ کوئی بھی اس حوالے سے موثر آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ ادھرہمارے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اقتدار پر قابض قوتوں کے عزائم خطرناک اور ارادے ناپاک ہیں پاکستان مشکل ترین دور سے گذر رہا ہے، کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کیاجارہا ہے، کشمیری بائیسویں رات کرفیو میں گذار رہے ہیں میرے پاس بہت خوفناک اطلاعات ہیں ہم کشمیریوں کیلئے اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے،کشمیر آزاد ہوگا اور پاکستان بنے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں مسجدوں کو تالے ہیں جمعہ کی نماز کے لئے لوگ نکلنا چاہتے تھے مگر نہیں جا سکے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کا پیغام آیا، ان پابندیوں کے باوجود کشمیروں کا عزم اور حوصلہ بلند ہے جبکہ دنیا مصلحتوں کا شکار ہے۔ اس موقع پر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کی مذمت اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر خصوصی دعا مانگی۔

دوسری طرف سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے اور ظلم وستم ختم کرانے کیلئے عالمی برادری کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے کہ جس طرح کا ظلم و ستم جاری ہے اور بائیس روز کرفیو انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ سابق وزیر اعظم نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے حکومت پر حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روز گاری ان چھوٹے اور کسانوں کے مسائل کے حل کو بھی یقینی بنایا جائے جو آج بدحالی کا شکار ہیں۔گورنر پنجاب چودھری سرور نے بھی کشمیر کے حالات کو خراب قرار دیتے ہوئے مودی حکومت پر سخت تنقید کی جامعہ زکریا ملتان کے کانووکیشن کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے سے باز رہے ہم دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بنیں گے کشمیریوں کی مدد کیلئے پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان تیار ہیں۔ پاکستان کو غربت بیروزگاری،انتہا پسندی اور بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں ترقی بہت ضروری ہے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ملتان میں یکجہتی کشمیر ریلیاں، پشاور میں کشمیر بچاؤمارچ، مسیحی،سکھ اور ہندو برادری نے بھی کشمیری عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا، مودی کے پتلے اور بھارتی جھنڈے نذر آتش کئے گئے۔پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیرترین نے جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی سرد جنگ قرار دیا ہے مرکزی رہنماؤں کے درمیان سرد جنگ کی وجہ سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام تاخیر کا شکار ہو گیا۔ مسئلہ پارٹی رہنماؤں کی اندورنی سرد جنگ کی وجہ سے پیدا نہیں ہونا چاہئے اور تجویز دی کہ خطہ کے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کی خاطر اس سرد جنگ کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ادارہ شماریات پاکستان نے اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ و کمی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق 22 اگست کو اختتام پذیر ہفتہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں 18.91 فیصد اضافہ ہواہے، پیاز،گڑ، چینی، انڈے،گندم سمیت 24 اشیاء مہنگی، 7 سستی ہو گئیں، 53 میں سے 22 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا، ملک کے 17 بڑے شہروں سے 53 اشیاء کے تقابلی جائزہ کے مطابق 24 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہو ئی ہے جبکہ 22 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پیاز، واشنگ سوپ، ڈبل روٹی، ویجی ٹیبل گھی کھلا، صابن، گڑ، چینی، دال چنا، انڈے فارمی، گندم، دال ماش،کوکنگ آئل ٹن، سرخ مرچ پسی ہوئی، چھوٹا گوشت، ویجی ٹیبل گھی ٹن، آٹا خوردنی تیل، چاول، باسمتی، کیلا، دہی، جلانے والی لکڑی، مٹی کا تیل، تازہ دودھ اور بڑے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے، رپورٹ کے مطابق ٹماٹر، برائیلر مرغی، لہسن، ایل پی جی سلنڈر، آلو،دال مسور اور دال مونگ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ چاول اری 6، خشک دودھ، نمک، چائے کی پتی، بڑے گوشت کی پلیٹ دال کی پلیٹ، چائے کا کپ، سگریٹ، کلاتھ، شرٹنگ، لان پرنٹڈ، جارجٹ، مردانہ وزنانہ سینڈلز، الیکٹرک چاجز، گیس چارجز، الیکٹرک بلب، انرجی سیور، ماچس، پٹرول سپر، ہائی سپیڈو ڈیزل اور لوکل کال کی قیمتوں میں استحکام رہاہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -