بارش سے نقصان،وقت سے پہلے انتظام کریں!

بارش سے نقصان،وقت سے پہلے انتظام کریں!

  

سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے۔ہزاروں افراد نشیبی علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں،بعض  علاقوں میں تو لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔ مون سون کے چھٹے سپیل نے سندھ میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے،ریکارڈ بارشوں کے بعد کراچی میں نالے اُبل پڑے ہیں،روشنیوں کا شہر کئی روز سے پانی میں ڈوبا ہوا ہے، کاروبارِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔نشیبی علاقے تو ایک طرف، شہر کے پوش علاقوں میں بھی پانی گھروں میں داخل ہو گیا،کئی علاقوں کو دیکھ کر تو معلوم ہوتا ہے جیسے کراچی میں سمندر نہیں بلکہ سمندر میں کراچی واقع ہے۔ شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ لیاری ندی کے بند میں شگاف پڑنے سے پانی نے ملحقہ علاقوں کا رخ کر لیا اور کافی تباہی بھی مچائی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پورے سندھ میں سب سے زیادہ بارش کراچی میں ریکارڈ کی گئی۔ ٹھٹھہ، لاڑکانہ، میرپور خاص، نواب شاہ، حیدر آباد، جیکب آباد، مٹھی، سکھر اور نواب شاہ میں بھی بارشوں کے باعث صورتحال خاصی خراب ہے۔ دریائے سندھ کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور وہاں گدو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ میں ”رین ایمرجنسی“ نافذ کی جا چکی ہے۔این ڈی ایم اے کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں بھی بارشیں اپنے زور پر ہیں، کوئٹہ، سبی، لسبیلہ، خضدار، بارکھان، زیارت، قلات، ژوب، کوہلو، بارکھان، آواران موسلادھار بارشوں کی زد میں ہیں،جس کے سبب ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔حب ڈیم میں پانی کی گنجائش صرف پانچ فٹ رہ گئی ہے۔ اب آتے ہیں پنجاب کی طرف تو لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ،راولپنڈی، اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا،جس کے سبب نالہ جموں، نالہ توی، نالہ منارو، نالہ پلکھو میں سیلابی صورتحال ہے۔ رہی سہی کسربھارت نے بغیر اطلاع بگھیار جھیل سے ایک لاکھ کیوسک پانی دریائے چناب میں چھوڑکر پوری کر دی۔دریائے چناب میں بڑے سیلابی ریلے کے خدشے کے مد نظر گوجرانوالہ، حافظ آباد اور جھنگ میں الرٹ جاری کر دیا گیا۔

ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے تمام اداروں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لائیں اور اس مشکل صورتحال میں عوام کے لئے آسانی کا سامان کریں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی پاک فوج کو عوام کی حفاظت اور بروقت امدادی کارروائیوں کی ہدایت کی ہے۔اس کے علاوہ مختلف فلاحی تنظیمیں بھی امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں، باقی لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت بھی جتے ہوئے ہیں۔

بے شک قدرتی آفات روکنا انسان کے بس سے باہر ہیں،لیکن ان آفات  کے مقابلے کے لئے خودکو تیار کرنا تویقینا انسان کے بس میں ہے۔لیکن ہمارے ہاں حکومتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی مصیبت سر پر پڑتی ہے تو ہر طرف شور مچ جاتا ہے، نئے نئے منصوبے شروع کرنے کا دعوی ٰ کیا جاتا ہے لیکن جیسے ہی مصیبت ٹلتی ہے، سارے وعدے اور دعوے بھی ہوا ہو جاتے ہیں۔ہم آج تک بارش کے نقصانات سے بچنے کا کوئی موثر نظام نہیں بنا سکے، نہ ہی اب تک بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام کیا گیا ہے۔لاہور میں زیر زمین بارش کے پانی کو جمع کرنے کا ایک منصوبہ شروع تو ہوا لیکن یہ معلوم نہیں وہ کب تک مکمل ہو پائے گا۔دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جن میں بہت زیادہ بارشیں ہوتی ہیں اور سیلاب کا خطرہ رہتا ہے لیکن وہاں پر اس کے نقصان سے بچنے کے لئے باقاعدہ نظام مرتب کر لئے گئے ہیں۔برازیل، نیوزی لینڈ، چین اور تھائی لینڈ میں بارش کے پانی سے کاشت کاری کا موثر نظام متعارف کر ایا گیاہے، یہاں تک کہ چھتوں پر کاشت کاری کا انتظام بھی کر لیا گیا ہے۔جرمنی میں 1980 سے بارش کے پانی سے بھی سیرابی کا اہتمام ہے، سنگاپور میں نالے اور ندیوں کا وسیع نظام ہوجود ہے، جس کا مقصدسیلاب کی روک تھام اور پانی کی ترسیل ہے۔ کم از کم ان ممالک سے ہی کچھ ’گیان‘ لے لیں۔اس برس توویسے بھی زیادہ بارشیں ہونے کی پیش گوئی کی جارہی تھی لیکن کسی نے اس پر کان دھرنا مناسب نہیں سمجھا۔میڈیا پربار بار یہ بحث ہو تی رہی کہ کراچی کے نالوں کی صفائی کروائی جائے، اگر اس پر بروقت عمل کر لیا جاتا تو آج شائد یہ صورتحال نہ ہوتی۔

 بارش اور سیلاب کی تباہی سے بچنے کے لئے ندی نالوں کی صفائی بر وقت ہونی چاہئے، نکاسی آب کے نظام کوموثر بنایا جائے، ماضیٰ میں تو پانی نکالنے والے ٹرک جگہ جگہ کھڑے نظر آتے تھے اب تو پانی کھڑا رہتا ہے لیکن اس کے نکاس کا انتظام نہیں ہوتا۔پہلا پانی نکلتا نہیں کہ اگلی بارش ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ پورے ملک میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں کا آ غاز ہونا چاہئے، زیر زمین ٹینک بنائیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھی مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہرسال نقصان ہوتا ہے لیکن ہم کچھ خاص سبق نہیں سیکھتے، اب بھی وقت ہے بارش و سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لئے موثر اقدامات کر لئے جائیں تاکہ جانی و مالی نقصان کی شدت کو کم کیا جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -