ڈینگی کی بھی نشاندہی ہو گئی

ڈینگی کی بھی نشاندہی ہو گئی

  

ابھی کورونا کی وبا ختم نہیں ہوئی تھی کہ موسمی وبا ڈینگی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ہمارے سٹاف رپورٹر کے مطابق لاہور میں ڈینگی کے چھ مریض سامنے آ چکے ہیں اور متعدد مقامات سے ڈینگی لاروابھی ملا ہے، جسے ضائع کر دیا گیا۔ ڈینگی کا مرض ایک  خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے،اس میں بخار اور نزلے جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ ماضی میں اس نے وبائی شکل اختیار کی اور متعدد اموات بھی ہوئی تھیں، تاہم موثر حکمت عملی اپنا کر اس پر قابو پا لیا گیا۔ اس کے لئے نہ صرف شہر میں سروے کا اہتمام کیا گیا، بلکہ شہریوں کے لئے آگاہی مہمیں بھی چلائی گئیں کہ وہ پانی کھلا نہ چھوڑیں بلکہ ڈھک کر رکھیں کیونکہ ڈینگی لاروے کی پیدایش صاف پانی میں ہوتی ہے۔اس کے لئے دکانوں، فیکٹریاں اور گڑھوں کی بھی پڑتال کی گئی اور لاروے کو ضائع کیا گیا۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی سطح پر انسداد ڈینگی شعبہ بھی بنا دیا گیا،جو بروقت سروے کے علاوہ جراثیم کش سپرے بھی کرتا تھا، خصوصاً جیسے ہی برسات کا موسم آتا، اس عملے کو سرگرم کر دیا جاتا تھا، تاہم اس بار اس میں کورونا کے زور کے باعث تاخیر ہو گئی، چنانچہ اس کا نتیجہ ڈینگی لاروے کی پیداوار کی صورت میں نکلا۔اس سال بارشیں بھی زیادہ ہوئی ہیں اور جگہ جگہ پانی جمع ہے،اِس لئے ڈینگی مچھر کی افزائش کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔ابھی تو صرف چھ مریض ہی سامنے آئے ہیں لیکن اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو تعداد میں اضافہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس وقت ازحد ضرورت ہے کہ سروے اور سپرے کا سابقہ سلسلہ بحال کیا جائے، تشہیری مہم کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ یہ مرض پھیل نہ سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -