عمران،بزدار ماڈل

عمران،بزدار ماڈل
عمران،بزدار ماڈل

  

نام نہاد جمہوریت کنٹرول کرنے والوں کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ سیاسی بساط پر ایسے مہرے آگے بڑھائے جائیں جن کے مالی یا اخلاقی سٹیک ہوں،مالی سٹیک سے مراد صرف کرپشن نہیں بلکہ کاروباری مفادات بھی ہیں،اخلاقی سٹیک میں ذاتی کردار اور مخصوص مشاغل آتے ہیں، اس طرح ان مہروں کو محض اشاروں سے چلانے میں آسانی رہتی ہے، نواز شریف نے اپنی پہلی وزرات عظمی کے دوران ہی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رائے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ 1993ء میں ا نکی چھٹی کرا کے بینظیر بھٹو کو دوسر ی مرتبہ وزیر اعظم بنایا گیا،اقتدار کے اصل مالکان اسی وقت یہ کہنا شروع ہو گئے تھے کہ ایک سمجھتا نہیں، دوسری سنتی نہیں۔ اسی وقت یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک تیسری ملک گیر جماعت بھی کھڑی کی جائے۔بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہوسکا۔ عمران خان کو بہت دھوم دھڑکے کے ساتھ انہی دنوں لانچ کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے فرنٹ پر نظر آنے والے اہم سپانسر کچھ وقت کے بعد سنگین الزامات لگا کر علیحدہ ہوتے گئے،عمران خان کے بارے میں جنرل حمید گل،حکیم محمد سعید،عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات نے جو کچھ کہا وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔1996ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو پذیرائی نہیں ملی مگر عمران خان میدان میں موجود رہے،شاید انہیں جلد ہی کوئی موقع مل جاتا مگر ”معرکہ کارگل“کے فوری بعدمشرف کے پاس مارشل لاء کے سوا اپنی بچت کا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔

یہ طویل مارشل لاء ختم ہوا تو عالمی ا ور مقامی حالات اس طرح سے بنے کہ ایک مرتبہ پیپلز پارٹی کو اور ا یک مرتبہ مسلم لیگ ن کو حکومت دینا پڑی،عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان پر ورکنگ بہت دیرسے ہو رہی تھی۔ راولپنڈی بم دھماکے میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد ملک عالمی سطح کی ایک رہنما سے محروم ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی جنرل پاشا نے پی ٹی آئی پر پھر سے کام شروع کردیا۔ کنگز پارٹی میں سب سے پہلے لوٹے ہی جاتے ہیں سو جیسے ہی ق لیگ کی بوری میں سوراخ کیا گیا چودھری برادران بھاگ کر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے در پر حاضر ہو گئے، انہوں نے چودھریوں کو جھوٹی تسلیاں دے کر واپس کردیا۔ الیکشن2013ء سر پر آ نے لگے تو طاہر القادری سے دھرنا دلوایا گیا،عجیب  قسم کے مطالبات تھے۔یہ دھرنا ٹائیں ٹائیں فش ہوا،2013ء کے انتخابات جیت کر مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی تو دوسرے ہی سال عمران خان اور طاہر القادری کو مل کر دھرنا دینے کی ہدایت ملی،عام تاثر یہی ہے کہ 2014ء میں اور بعدازاں جو کھیل کھیلا گیا اسکو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بھی بھر پور حمایت حاصل رہی،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو مائنس کر کے مکمل تا بعدار سیاست کو فروغ دینے کا 90کی دہائی والا منصوبہ 2018ء میں اداروں کی بھر پور مدد سے عملی صورت میں سامنے آیا، تاہم منصوبہ سازوں کوایک کڑوا گھونٹ کو پینا پڑا،وہ یہ کہ پیپلز پارٹی کو فوری طور پر مائنس کرنے کی بجائے سندھ حکومت دینا پڑی،یہ امید باندھی گئی تھی کہ پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے کچھ عرصے بعد ریاستی طاقت سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو تحلیل کر دیا جائیگا،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،اسی وقت طاقتور افسر کھلے عام بناتے تھے کہ فلاں فلاں نا اہل ہوگا,پارٹیاں ختم کردی جائیں گی، نواز شریف تو ایک طرف مریم نواز کو سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا جا تا تھا۔

پوسٹ الیکشن آپریشن شروع ہوا تو پوراآئینی،جمہوری،عدالتی،صحافتی نظام اتھل پتھل کرنے کے بعد بھی مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو پائے،سو اب لگ رہا ہے کہ وہی پرانے شکاری پرانا جال پھینکنے کی تیاری کر رہے ہیں،وزیر ریلوے شیخ رشید نے اطلاع دی ہے کہ اب پھر سے نا اہلیوں کا سلسلہ شروع ہو نے والا ہے کہیں سے بریفنگ لینے کے بعد انہوں نے بڑے کروفر سے بتایا کہ صر ف اپوزیشن ارکان اسمبلی نا اہل ہو نگے،ویسے یہ بات کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کچھ عرصہ پہلے آصف زرداری کی اپنی ہمشیرہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے تصویر کا مزاحیہ کیپشن اس حقیقت کی خوب نشاندہی کر رہا تھا۔جس میں سابق صدر اپنی بہن سے کہہ رہے تھے کہ میری تو مجبوری ہے مگر تم میرا مشورہ مانو، احتساب سے بچنا ہے تو پی ٹی آئی میں شامل ہو جاؤ،یہ ٹھیک ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو اپنے حالات کا ادراک کرتے ہوئے حکمت عملی اختیار کرنے کا حق حاصل ہے،مریم نواز آج اگر یہ کہتی ہیں کہ نواز شریف کو جیل سے نکال کر لندن بھجوانا اس لیے ضروری تھا کہ لیڈر زندہ رہے گا تو کچھ کرئے گا،تو ان کی بات میں وزن ہے،پاکستان میں کسی وزیر اعظم کو جلسے میں گولی لگی،کسی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا،کوئی بم دھماکے میں جان سے گیا،ایسے میں یہ کہنا کہ پاکستان میں نواز شریف مکمل طورپر محفوظ تھے،درست نہ ہوگا خود مریم نواز شریف کے ساتھ نیب پیشی کے موقع پر جو واقعہ پیش آیا وہ بھی سنگین نوعیت کا ہے، کیا پتھر لگنے سے بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ ٹوٹ سکتا ہے یا اس میں دراڑ آ سکتی ہے؟ اب مسلم لیگ ن والے یہ کہہ رہے ہیں کہ گاڑی کو نشانہ بنا کر مریم نواز کو بھی“ پیغام“ دیا، تاریخ بتاتی ہے کہ کسی کی زندگی محفوظ نہیں مگر اسکایہ مطلب بھی نہیں کہ سیاسی قیادت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بکتر بند میں بیٹھ جائے،پاکستا ن کا کونسا بڑا سیاسی رہنما جیل نہیں گیا،خود شریف خاندان نے جیلیں کاٹیں، پاکستان کو جن حالات میں پھنسا دیا گیا ہے ان سے نکا لنے کیلئے کیا بیٹھے بیٹھائے راستہ مل جائے گا۔

نوابزادہ نصر اللہ خان نے کیا خوب کہا تھا:

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں 

کب کوئی بلاصرف دعاؤں  سے ٹلی ہے

یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ حکمران اشرافیہ کو عوام کے دکھ درد یا مسائل سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے،لوگوں کی خواہ چیخیں ہی کیوں نہ نکل جائیں انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،پاکستان کی73سالہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے،حکمران اشرافیہ کو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں،ہاں مگر حالات کی تپش جب خود ان تک پہنچنے لگے تو پھر مختلف راستے تلاش کیے جاتے ہیں جن سے ایک پرانا اور آزمودہ یہ ہے کہ عوام کی توجہ ادھر ادھر غیر متعلقہ باتوں پر مبذول کرائی جائے، نان ایشو کو بڑا ایشو بنا کر بحث چھیڑ دی جائے، جیسے آجکل نواز شریف کی واپسی کو ٹاپ مسئلہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے جیسے وہ جیل توڑ کر گئے ہوں،عام فہم بات ہے کہ مکمل ریاستی آشیر باد کے بغیر نواز شریف کا لندن جانا ممکن ہی نہ تھا۔کبھی کراچی کا مسئلہ کھڑا کیا جاتا ہے کبھی بزدار کو ہٹانے کی بات کی جاتی ہے،کبھی بیرونی خطرات سے ڈرایا جاتا ہے، دراصل منصوبہ سازوں کویقین تھا کہ آزاد میڈیا اور عدلیہ کو قابو کر کے مثبت خبروں اور موافق فیصلوں کے ذریعے کافی وقت نکالا جا سکتا ہے،مگر دوسالوں میں لوگوں کے مسائل اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ انکی توجہ غیر متعلقہ چیزوں تک محدود کرنا ممکن نہیں رہا،

اب بات صرف اس حکومت کی نہیں بلکہ اس کو لانے والوں کی بھی ہو رہی ہے، اب وہ بھی کئی معالات پر الجھاؤ کا شکار ہیں اور ہرگز نہیں چاہتے کہ ان کا نام کسی اور کی وجہ سے خراب ہو یا انکا کردار زیر بحث آئے،اس کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ موجودہ حکومت کو ختم کیا جا رہا ہے،عمران اور بزدار حکومتوں کا یہ ماڈل کم وبیش، 28 سالوں کی پلاننگ اور کوششوں کا نتیجہ ہے، جب حکمران ا شرافیہ پر بھی تنقید ہونے لگے تو دو ہی طریقے ہوتے ہیں یا تو اپوزیشن کو انتقامی کارروائیوں کے ذریعے مزید کچل دیا جائے یا پھر ان کی کچھ باتیں تسلیم کرکے پر امن بقائے باہمی“ کے تحت کچھ اور وقت گزارنے کے اسباب پیدا کیے جائیں،عمران،بزدار ماڈل کا برقرار رہنا،حکمران اشرافیہ کیلئے آئیڈیل سیٹ اپ ہے، غیر سیاسی روبوٹ موجود ہوں تو کوئی وزیر اعظم اداروں کو ان کی پالیسیوں پر مشورہ دینا تو دور کی بات، اشارہ کرنے کی بھی ہمت نہیں کرتا، کوئی وزیر خزانہ بجٹ اور بچت کے معاملات نہیں اٹھاتا، کوئی وزیر اعلی اپنا دماغ استعمال کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، وزیر اعظم عمران خان تو ہیں ہی، عثمان بزدار کا انتخاب بھی خوب ہے، ان کو وزیر اعلی لگانے کے لیے لوٹے میں پرچیاں ڈالی گئیں، کسی خواب نے دیکھا یا پھر کوئی ٹونا ٹوٹکا ہوا،ان سے ہر کوئی خوش ہے، اہم محکموں کے چھوٹے افسر بھی اپنی باتیں منوا لیتے ہیں اور یقیناً کام بھی نکلوا لیتے ہونگے۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

ان دنوں وزاراء کے اوٹ پٹانگ بیانات، آپس میں لڑائیاں، بزدارکی نیب میں پیشی وغیرہ جیسے حربوں کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،“ ڈیوٹی“ میڈیا والے اینکر اور تجزیہ کار بزدار اور بعض وزراء کے خلاف گلے پھاڑتے نظر آتے ہیں،دوسری جانب اسی گروہ کے کچھ عناصر اس مشن  پر ہیں کہ عوام کو بتائیں کہ پاکستان،فوجی،جمہوری اور معاشی حوالے سے دنیا کا نمبر ون ملک بننے ہی ولا ہے،یہ سب کیمو فلاج ہے،عمران،بزدار ماڈل اور حکمران اشرافیہ ایک دوسرے کی انشورنس پالیسی ہیں،ورنہ کسی بھی سیاسی حکمران کو ہٹانا چٹکیوں کا کا م ہے،عدالت سے نوازشریف کی چھٹی کرائی جا سکتی ہے تو بزدارکس کھیت کی مولی ہیں،عمران کو ہٹانا کون سی راکٹ سائنس ہے، پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے ہم تو کہتے ہیں مگر عمران خان ہماری نہیں مانتے یہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو اس ڈرامے کی حقیقت کا علم نہ ہو مگر وہ بھی عمران یا پھر چیئرمین نیب پر تنقید کرکے دبک جاتے ہیں،مانا کہ پاکستان میں سیاست کرنا آسان نہیں ہے، جیلوں کے ساتھ جان جانے کا بھی خطر ہ رہتا ہے،سیاستدانوں کو یہ سب کچھ سیاست میں آنے سے پہلے سوچنا چاہیے، ملک بحران میں پھنس چکا،ننگی کرپشن،نااہلی اور نحوست چھائی ہوئی، حکمران اشرافیہ اپنے معاون میڈیا کے ذریعے یہ باریک کام کرا رہی ہے کہ عوام کوبتایا جائے کہ سب کچھ نا تجربہ کاری کے باعث ہو رہا ہے،حالانکہ نا اہلی سے کہیں گنا زیادہ کرپشن کا سامنا ہے،آٹا چینی سے لے کر زمینوں کے معاملات تک بدعنوانی کے ڈنکے بج رہے ہیں۔حکمران اشرافیہ صرف توجہ ہٹاؤ،وقت ٹپاو پالیسی پر لگی ہوئی ہے،اپوزیشن جماعتوں نے ایسے میں بھی کوئی عملی اقدامات نہیں کرنے تو پھر بہتر ہوگا کہ وہ سب بھی پی ٹی آئی میں ضم ہو جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -