ماضی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے پارسا

ماضی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے پارسا
ماضی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے پارسا

  

سوال تو شیدے ریڑھی والے کا بھی درست ہے کہ جو لوگ پارٹیاں بدل بدل کر ہمیشہ اقتدار میں رہے اور آج بھی اقتدار میں ہیں، وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو بری طرح لوٹا۔ شیدے ریڑھی والے نے وزیر ہوا بازی کا کہیں یہ بیان سن لیا تھا کہ جنہوں نے پچھلے تیس برسوں میں ملک کو لوٹا ہے، وہ واجب القتل ہیں۔ وہ یہ پوچھ رہا تھا کہ غلام سرور خان پچھلے تیس برسوں میں خودکتنی مرتبہ اقتدار میں رہے کیا جو فتویٰ انہوں نے دیا ہے، وہ خود بھی اس کی زد میں آتے ہیں یا نہیں بس انہی باتوں سے مجھے گمان ہوتا ہے کہ شیدے ریڑھی والے جیسے عوام کا سیاسی و فکری شعور بہت بلند ہو چکا ہے مگر ہمارے سیاسی رہنما ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ عوام دولے شاہ کے چوہے ہیں، ان کے دماغ سکڑے ہوئے ہیں، انہیں جیسا کہیں گے مان جائیں گے، سوال کریں گے نہ ماضی کا کوئی پنڈورا کیس کھولیں گے۔ حالانکہ اب حالات وہ نہیں رہے۔ ایک گدھا ریڑھی چلانے والا بھی موبائل لئے پھرتا ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے ملک میں کون کیا کر رہا ہے اور کیسے کیسے گل کھلا رہا ہے۔ غلام سرور خان ابھی تو اپنا وہ داغ بھی نہیں دھو سکے جو انہوں نے قومی اسمبلی اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں پی آئی اے کے پائلٹوں کی بابت دیا اور جس کی وجہ سے پی آئی اے پر یورپی یونین نے پابندی لگائی۔ اب وہ یہ فتویٰ دے بیٹھے ہیں کہ پچھلی حکومتوں کے کارپردازان کرپشن کی وجہ سے واجب القتل ہیں۔

یہ رسمِ بد بھی ہمارے ہی ملک میں موجود ہے کہ اگر آپ پچھلی حکومت کے وزیر یا مشیر رہے ہیں اور نئی حکومت کے بننے پر اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں تو آپ کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ آپ دودھ کے دھلے قرار پاتے ہیں اور یہ استحقاق بھی حاصل کر لیتے ہیں کہ جس حکومت میں رہ کر آپ نے خود بھی موج میلہ کیا ہے، اس پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیں۔ کرپشن کا کوئی ایسا الزام نہ چھوڑیں جو آپ کی لغت میں موجود ہو۔ اس روایت کی وجہ سے ملک میں احتساب کا عمل ہمیشہ متنازعہ رہا ہے اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ نیب کو وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر جب مشرف کابینہ اور عمران کابینہ کے چہروں کی تصویریں ساتھ ساتھ لگائی جاتی ہیں تو سوائے مشرف اور عمران کے سب چہرے وہی موجود ہوتے ہیں، جو پہلے تھے۔ وزیر توانائی عمر ایوب خان بھی آج کل پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو معیشت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں حالانکہ ماضی میں وہ ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں البتہ ان میں یہ خوبی ہے کہ جب بھی کشتی ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے، سب سے پہلے چھلانگ لگا دیتے ہیں ہاں اگر وہ ایسا کرتے کہ وفاداری اس وقت بدلتے جب اقتدار میں ہوتے اور یہ نعرہ لگاتے کہ وہ لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھ نہیں چل سکتے تو ان کی بات میں وزن بھی ہوتا۔ نوازشریف سے سارے فوائد اٹھانے کے بعد آج نوازشریف پر قومی خزانہ لوٹنے کا الزام لگانا کیا سیاسی منافقت کے زمرے میں نہیں آتا۔

اس حمام میں شیخ رشید بھی موجود ہیں کیا زمانہ تھا کہ نوازشریف کے پنج پیاروں میں شامل ہوتے تھے۔ اس قدر پیار تھا کہ ان کی خوشنودی کے لئے بے نظیر بھٹو پر بھی شخصی حملے کرتے تھے۔ جی بھر کے وزارتوں کے مزے لوٹے، اثاثے بنائے، جب برا وقت آیا تو آنکھیں پھیر کے دوسری طرف دیکھنے لگے۔ آج ان کی صبح و شام گفگتو یہی ہوتی ہے کہ نوازشریف اور زرداری نے ملک کو لوٹ کر کنگال کر دیا ہے جن تیس برسوں کی وہ بات کرتے ہیں ان میں تو ان کا پاؤں بھی اقتدار کی مسند پر رہا ہے کیا وہ خود کو بھی اس صف میں شامل کرتے ہیں جنہوں نے ملک کو برباد کیا۔ آخر وقت پر کنی کترا کے نکل جانا، بزدل کہلاتا ہے لیکن ہماری سیاست میں اسے ذہانت سمجھا جاتا ہے۔ آپ کس کس کا نام لیں گے، یہ فواد چودھری جو پیپلزپارٹی کے گن گاتے تھے۔ اس کے ساتھ باہم شیر و شکر تھے۔ آمریت کے دور میں بھی پنج پیارے بنے رہے، آج کل سارا نزلہ ماضی پر گرا کے حکومت کی معاشی محاذ پر ناقص کارکردگی کا دفاع کرتے ہیں کیا انہیں صرف اس لئے معاف کر دیا جائے کہ وہ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے کیا یہ فارمولا درست ہے کہ جیسے چاہو مزے اڑاؤ لیکن برا وقت آنے سے پہلے اپنی پارٹی چھوڑ کر اقتدار میں آنے والی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔ کسی دوسرے جمہوری ملک میں بھی کیا ایسا ہوتا ہے۔ کیا یہ قبائلی معاشرہ ہے کہ آپ معتوب قبیلے کو چھوڑ کر جب مقتدر قبیلے میں آ جائیں گے تو محفوظ قرار پائیں گے۔ پھر نیب آپ کی طرف دیکھے گا اور نہ ایف آئی اے کو جرأت ہو گی کہ آپ بتائیں پچھلی حکومت میں رہ کر کیا مفادات حاصل کئے۔

انتخابات سے پہلے جہانگیر ترین کے جہاز کا بڑا شہرہ تھا جس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ جہاں جاتا ہے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کی پرواز کا حصہ بنا دیتا ہے۔ خود جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نامی ایک فرضی تنظیم بنا کر جس طرح جنوبی پنجاب کے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کو توڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ بعد ازاں یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ ان میں کئی ایک تو اپنی کرپشن کی وجہ سے نیب کا شکار بننے والے تھے۔ آج کے وفاقی وزیر خسرو بختیار بھی ان میں شامل تھے۔ اب نیب کے پاس ان کی کرپشن کے ثبوت تو موجود ہیں لیکن آگے بڑھنے کی طاقت نہیں۔ نیب ملتان نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی تو اس کیس کو ہی اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ چینی سکینڈل آیا تو بڑے ناموں میں خسرو بختیار کا نام بھی شامل تھا۔ انہیں صرف اتنی ”سزا“ دی گئی کہ ایک وزارت لے کر دوسری وزارت کا قلمدان سونپ دیا گیا اب وہ بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا۔ یہ دعویٰ کرنے سے پہلے انہیں اس بات کا تو جواب ضرور دینا چاہئے کہ ان کے اثاثوں میں جو اربوں روپے کا اضافہ ہوا، وہ کس طرح اور کس دور میں ہوا۔

وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ یہ کہتے ہیں مرجاؤں گا کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو این آر او نہیں دوں گا، کسی ستم ظریف نے اس پر یہ گرہ لگائی ہے سوائے انہیں جو تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔ آج اپوزیشن بجا طور پر یہ الزام دیتی ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے اردگرد کرپٹ لوگوں کو جمع کر رکھا ہے جن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں لیکن نیب ان پر اس لئے ہاتھ نہیں ڈالتا کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آج خواجہ برادران مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں تو ان کے خلاف نیب کے تمام مقدمات قصہئ پارنیہ بن جائیں لیکن ایسا ہونا  نا ممکنات میں سے ہے،کیونکہ خواجہ سعد رفیق ایسا کوئی قدم اٹھا کر اپنی سیاست کو داغدار نہیں کر سکتے، بارد گرشیدے ریڑھی والے کی یہ بات بالکل درست ہے کہ جو لوگ ماضی میں اقتدار کا حصہ رہے ہیں اور آج بھی حکومت میں شامل ہیں، انہیں کم از کم یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ماضی کے حکمران واجب القتل ہیں کیونکہ ماضی کے حکمران تو وہ خود بھی تھے اور جی بھر کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے۔

مزید :

رائے -کالم -