کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت عظامؓ کا رابطہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ

  کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت عظامؓ کا رابطہ کمیٹی بنانے کا ...

  

لاہور (نمائندہ خصوصی) کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت عظامؓ کے سر کردہ رہنماؤں نے باہمی مشاورت کے بعد مرکز ی رابطہ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کر کے اس کا اجلاس 16ستمبر 2020کو لاہور میں طلب کر لیا ہے، مشاورتی اجلاس مولانا عبدالرؤف ملک کی صدارت میں جامع مسجد خضراء سمن آباد لاہور میں ہواجس میں مولانا زاہد الراشدی،مولانا عبدالرؤف فاروقی، عبداللطیف خالد چیمہ اور مولانا فہیم الحسن تھانوی نے شرکت کی۔اجلاس میں محرم الحرام میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا گیا  کہ توہین صحابہ و توہین اہل بیت سنگین ترین جرم ہے اس قسم کی اشتعال انگیزی کرنے والے ملک و ملت کے وفادار نہیں ہوسکتے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ واہلبیت کو کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی قدیم طرز پرمنظم کیا جائے گا۔

 اور اس میں اہل سنت کے تمام طبقات کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا اجلاس میں مولانا عبدالرؤف فاروقی،مولانا زاہد الراشدی،قاری زوار بہادر،علامہ زبیر احمد ظہیر،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ،حافظ عبدالغفار روپڑی،حافظ ابتسام الٰہی ظہیر،علامہ راغب نعیمی،مولانا عبدالرؤف ملک،مولانا عبدالکریم ندیم،مولانا محمد الیاس چنیوٹی،عبداللطیف خالد چیمہ مولانا محمد اشرف طاہر،مولانا عزیز الرحمن ثانی،حافظ محمد امجد کو مرکزی رابطہ کمیٹی کے بنیادی ارکان مقرر کیا گیا جن کی تکمیل و توثیق 16ستمبر کو لاہور میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کی جائے گی۔مجلس عمل کے کنوینر مولانا عبدالرؤف فاروقی نے بتایا ہے کہ  16ستمبر کے اجلاس میں آئندہ کے لا ئحہ عمل کے ساتھ ساتھ مختلف جماعتوں کے سربراہی اجلاس کا بھی فیصلہ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں قانون نافذ کرنے والے سرکاری اداروں کوجانب داری کا طرز عمل ترک کر کے قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنانا چاہیے اور زبان بندیوں اور ضلع بندیوں کے آ رڈر ز میں توازن نظر آنا چاہیے اجلاس کی قرار دادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ اہل سنت کے رہنما ء ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور جمعیت علما ء پاکستان (ن) کے سربراہ مولانا قاری محمد زوار بہادر پر قائم مقدمات ختم کر کے ان کو بلاتاخیر رہا کیا جائے ایک قرار داد میں اسلام آباد اور مختلف شہروں میں توہین صحابہ کے دلخراش واقعات کی شدید الفاظ میں  مذمت کی گئی او ر مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشان عبرت بنایا جائے۔ اجلاس میں برطانوی پارلیمنٹ کے تقریبا ً40ًٍ ارکان پر مشتمل ”آل پارٹیز پار لیمنٹری گروپ فاردی احمدیہ مسلم کمیو نٹی“نے 20جولائی 2020کو پاکستان کے خلاف سنگین الزمات پر مبنی جو انتہائی خطرنا ک رپورٹ جاری کی ہے اس کو مسترد کیا گیا اور حکومت پاکستان اور خصوصاً وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس رپورٹ بارے اپنی پوزیشن واضح کریں اجلاس میں لندن میں پاکستانی سفارت خانے اور سفیرِ پاکستان سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ برطانیہ میں پاکستان دشمن قادیانیوں کی سر گرمیوں پر نظر رکھیں۔اجلاس کے اختتام پر جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ پیر اعجاز احمد ہاشمی کو فون کر کے مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ رابطہ کمیٹی کے لیے اپنے نمائندے کو 16ستمبر کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھیجیں۔اجلاس سے قبل پاکستانی قومی زبان کی تحریک کے سربراہ محمد جمیل بھٹی کی قیادت میں ایک وفد نے مجلس عمل کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے اردو زبان کی قومی حثیت بحال کرانے کے لئے جاری جد و جہد سے آگاہ کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -