یکساں نصابِ تعلیم کا گورکھ دھندہ؟

یکساں نصابِ تعلیم کا گورکھ دھندہ؟
 یکساں نصابِ تعلیم کا گورکھ دھندہ؟

  

قیام پاکستان سے اب تک تعلیمی استحصالی کا رونا رویا جا رہا ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں تعلیمی نظام کی تقسیم پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے ملک بھر میں رائج سینکڑوں طرح کے نصابِ تعلیم پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے یکساں نصابِ تعلیم کا مطالبہ کرتی چلی آ رہیں ہیں بڑے حلقے کا موقف ہے مغرب ہمارے تعلیمی نصاب کے ذریعے ہمارے معاشرتی بگاڑ کا باعث بن رہا ہے، ہماری نوجوان نسل کو دین سے باغی کر کے بے راہ روی اور بے حیائی کے اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا باعث بن رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک ہونے والے انتخابات میں ہر پارٹی وہ چھوٹی ہو یا بڑی اس کے منشور کا حصہ رہا ہے، ہم اقتدار میں آ کر یکساں نصابِ تعلیم لائیں گے اور ساتھ ہی منشور میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔یکساں نصابِ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے غریب،امیر کی تفریق بڑھ رہی ہے۔ غریب احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ نجی اداروں کی بڑی چین کو قرار دیا جاتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ہر آنے والے دن میں طاقت کا نیا سرچشمہ بن رہے ہیں،مرضی کا نصاب پڑھاتے ہیں، مرضی کی یونیفارم اور مرضی کی فیسیں وصول کرتے ہیں۔ انہی حلقوں کا الزام ہے یہ مافیا کسی نیٹ ورک میں آنے کے لئے تیار نہیں ہیں، حکومتی اتھارٹی کو بھی اکثر چیلنج کرتے نظر آتے ہیں، ان اداروں پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بیرونی قوتوں کے حکم پر ان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے تعلیمی نصاب میں ان کی مرضی کا نصاب بھی شامل کرتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ تحفظات مختلف ادوار میں مختلف انداز میں سامنے آتے رہتے ہیں، موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہماری گزشتہ 24 سالہ جدوجہد کا بنیادی نقطہ یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذرہا ہے اب ہم اقتدار میں آئے ہیں جو72سالوں میں کسی حکومت کے حصے میں نیکی نہیں آئی وہ ہم نہ ممکن کو ممکن کرنے جا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے قوم کو خوشخبری سنائی ہے۔ اپریل2021ء سے یکساں نصاب تعلیم ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور مدارس میں نافذ ہو جائے گا، بظاہر تو اس پر میرے سمیت تمام محب وطن افراد کو شادیانے بچانے چاہئیں، مَیں تو خوشی کے اظہار کے طور پر گزشتہ دو سال میں دو کالم تواتر سے خیر مقدمی لکھ چکا ہوں اب، جبکہ حکومت کے دو سال بھی مکمل ہو چکے ہیں یکساں نصاب تعلیم کے حقائق بھی سامنے آنے لگے ہیں، ساتھ ہی بہت سے سوالات اُٹھ رہے ہیں، پہلا اہم ترین سوال یہ ہے کیا یکساں نصاب تعلیم کا نصاب جو تیار ہو ر ہا ہے اس میں کی گئی تبدیلیوں کے حوالے سے اہلِ علم، دانشور اور ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی سکالر کو اعتماد میں لیا گیا ہے؟

دوسرا سوال وفاقی وزیر تعلیم سے ہے وہ قوم کو کیا خود بتانا چاہیں گے، نیا نصاب تعلیم جو پہلی سے پانچویں تک پہلے مرحلے کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے اس میں آئین پاکستان، قرآن و حدیث، ختم نبوت کے حوالے سے کہاں کہاں اور کتنی کمی اور اضافہ کیا گیا ہے؟ اگر کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا گی تو پھر نئے نصاب پر تحفظات کا اظہار کرنے والوں کو اعتماد میں لینے اور ان کے تحفظات اور اعتراضات دور کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جا رہی۔ ایک اور سوال جو سب سے زیادہ کیا جا رہاہے، سپریم کورٹ نے قومی زبان اُردو کو ہر جگہ نافذکرنے کا فیصلہ سنایا ہے، دفتری زبان بھی اُردو کرنے کا حکم دیا ہے، اُردو کو قومی زبان دفتری زبان بنانے کا مطالبہ بھی اہلِ پاکستان کا درینہ مطالبہ ہے۔ سپریم کورٹ نے قومی زبان نافذ کرنے کا فیصلہ دے کر ابہام دور کر دیا ہے اس کے باوجود نیا تعلیمی نصاب اُردو کی بجائے انگریزی میں بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی ہے؟

سوشل میڈیا پر بڑا چرچا ہے کہ نئے تعلیمی سال اپریل2021ء سے نافذ کیا جانے والا یکساں نصابِ تعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں اور مدارس پر نافذ ہو گا؟ وفاقی وزیر تعلیم اس کی وضاحت کریں اور کھل کر قوم کو بتائیں، حقائق کیا  ہیں اور نیا یکساں نصابِ تعلیم جو اہلِ پاکستان کا خواب تھا اب عمران خان کی حکومت شرمندہ تعبیر کرنے جا رہا ہے۔ سازش ہے یا حقیقت سب پر نافذ ہو گا یا صرف سرکاری اداروں پر؟اگر قوم کی امنگوں کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت امیر غریب کا فرق ختم کرنے کے لئے بڑا اقدام کر رہی ہے تو پھر قوم کو بتایا جائے اُردو کی بجائے میڈیم انگریزی رکھنے کی کیا مجبوری ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود کو قوم کو  سب سے بڑی خوشخبری دیتے ہوئے ان تحفظات کو بھی دورکرنا ہو گا، جس کا سوشل میڈیا پر بڑا چرچا ہے۔یکساں نصابِ تعلیم اہل ِ پاکستان کے لئے نہیں، بلکہ مدارس کے نصاب کو کنٹرول کرنے کے لئے بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کی  تکمیل کے لئے نافذ کیا جا رہا ہے۔قرآن پاک کی لازمی تعلیم تجوید، ترجمہ کے بل کی منظوری کے حوالے سے جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، بل پاس کر کے واپس لیا جانا پوری قوم کے منہ پر طمانچہ ہے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ کیا یہ سب پوائنٹ سکورنگ اور واہ واہ کے لئے تھا یا واقعی قرآن پاک کی تعلیم لازمی کرنے اور اُردو ترجمہ لازمی کرنے کا بِل تھا، وضاحت آنی چاہئے۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

آخر میں پنجاب ٹیکسٹ بورڈ بورڈ کے ایم ڈی راؤ منظور ناصر کی طرف سے پنجاب کے نجی اداروں کو پڑھائی جانے والی کتب میں بڑے پیمانے پر آئین ِ پاکستان، قرآن و سنت،ختم نبوتؐ، صحابہ کرامؓ، اہل ِ بیت اور علامہ اقبالؒ، سر سید احمد خان کی تاریخ کو مسخ کرنے اور بڑے پیمانے پر ردوبدل کرنے کی نشاندہی کا سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے۔ تاریخی شخصیات کی تاریخ ِ پیدائش اور وفات کا درست نہ ہونا لمحہ ئ  فکریہ ہے۔ احادیث میں مرضی کا مواد شامل کرنا اور ختم نبوتؐ کے حوالے سے قرآنی آیات کے ترجمے میں ردوبدل قابل ِ قبول نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی نوٹس لینا چاہئے۔ تاریخی فریضہ انجام دینے والے ایم ڈی ٹیکسٹ بک بورڈ راؤ منظور ناصر کو اتنا اچھا کام کرنے پر ہٹانا  ناقابل ِ معافی جرم ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ایجوکیشن مافیا کی طاقت کا انداز آپ اِس بات سے لگا سکتے ہیں کہ شہباز شریف جیسا طاقتور وزیراعلیٰ اپنے دو ادوار میں ایجوکیشن اتھارٹی نہیں بنا سکا۔ اب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اتھارٹی بنانے کی خوشخبری سنائی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب بھی ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی کو ہٹانے کا نوٹس لیں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی کتب میں ردوبدل کا نوٹس لیں اور حب الوطنی کا ثبوت دیں اور راؤ منظور ناصر کو واپس ایم ڈی کی نشست پر بحال کریں اور غلطیوں والی 100کتب پر پابندی لگانا خوش آئند،بقیہ کتب کی بھی سکروٹنی کی جائے اور غلطیاں درست کی جائیں اور تبدیلیاں کرنے والوں کو  عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -