تما م سرکاری تعلیمی ادارے ایس او پیز کے تحت 15ستمبر کو کھلیں گے، خلیق الرحمان 

تما م سرکاری تعلیمی ادارے ایس او پیز کے تحت 15ستمبر کو کھلیں گے، خلیق ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)مشیر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا برائے محکمہ اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری تعلیمی ادارے حکومتی ایس او پیز کے تحت 15 ستمبر سے کھل جائیں گے۔اس حوالے سے تمام تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ امسال صوبے کے 128 کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ یکم ستمبر سے صوبے کے بی ایس کالجز میں بی ایس چار سالہ پروگرام کے داخلے پہلی مرتبہ آن لائن سسٹم کے ذریعے کئے جارہے ہیں۔اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن سے میرٹ اور انصاف کی بالا دستی قائم ہوگی۔سرکاری تعلیمی اداروں میں غریب اور نادار ذہین طلبا ء کواحساس پروگرام کے تحت سکالر شپ دئیے جارہے ہیں۔ سرکاری کالجز کا معیار بہتر ہورہا ہے۔ کالجز میں نئے سیشن کے آغاز سے پہلے اساتذہ کی کمی کافی حد تک پوری کردی جائیگی۔ اسی سال 1900 نئے کالج اساتذہ کی تقرری کی جائیگی۔ ایٹا کو مذید فعال بنایا جارہا ہے۔لیبارٹری اسسٹنٹ کی اپ گریڈیشن کے لئے کیس تیار کیا جائیگا۔ لیب اسسٹنٹ کی تمام جائز مطالبات کی منظوری کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ہائیر ایجوکیشن خیبر پختونخوا کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد نے صوبائی صدر سعید الرحمن قریشی کی قیادت میں مشیر اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں لیبارٹری اسسٹنٹس ایسوسی ایشن کے وفد نے مشیر اعلیٰ تعلیم کو اپ گریڈیشن سمیت دیگر مطالبات پیش کئے۔ مشیر اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے وفد کو مطالبات کی منظوری کی یقین دھانی کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کورونا اور ملکی معیشت کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی حکومتیں بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود محکمہ اعلیٰ تعلیم نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اساتذہ کے لئے پانچ درجاتی فارمولا منظور کرکے ان کا دیرینہ مطالبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشکلات پرقابو پانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔ کالجز کا معیار بہتر بنانے کے لئے کثیر فنڈز بجٹ میں مختص کردیا گیا ہے۔ جس سے کالجز میں تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیگی۔ عرصہ دراز سے بند کالجز کو اسی سال کھول رہے ہیں۔ سٹاف کی تعیاتی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ کامرس کالجز کو ازسر نو اصلاحات کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ کامرس نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے ہم آہنگ بنایا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -