کراچی، بارشوں کا 53سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، شاہراہیں، گلیاں، بازار ندی نالوں میں تبدیل، بسیں کاریں اور کنٹینر کھلونوں کی طرح پانی میں تیرتے رہے، ملک بھر میں چھتیں، دیواریں آسمانی بجلی گرنے سے 22افراد جاں بحق، آج پھر بارش کی پیش گوئی  

                کراچی، بارشوں کا 53سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، شاہراہیں، گلیاں، بازار ...

  

کراچی سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)کراچی میں موسلا دھار بارش کے بعد پانی کے ریلوں نے شہر کا حلیہ بدل دیا، پانی کا بہاؤ اپنے ساتھ کنٹینر،کار، بسیں  کھلونوں کی طرح بہا لے گیا۔شہر کے ساتوں انڈر پاس  پانی  میں ڈوبنے کے  بعد انہیں ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔شارع فیصل پر نرسری کے قریب یونیورسٹی کی بس پانی میں پھنس گئی، مسافر کود کر کناروں تک پہنچے، ایم اے جناح روڈ پر سیکیورٹی کیلئے رکھے گئے کنٹنیرزبھی بہہ گئے۔آئی آئی چندری گر روڈ بھی تالاب بن گئی، سندھ ہائی کورٹ اور پاسپورٹ آفس کے قریب سڑکوں پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہونے سے گاڑیاں خراب ہوگئیں، لوگ کمر تک پانی میں منزل کی تلاش میں خوار ہوگئے۔شہر میں بارش کا نصف صدی کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا، رواں ماہ اب تک 442 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے، 53 سال پہلے جولائی 1967 میں کراچی میں 429 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ کراچی میں بارش کا سلسلہ جمعرات کی صبح شروع ہوا جو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا۔ملیر، قائدآباد، نیشنل ہائی وے، شارع فیصل، لیاری، آئی آئی چند ریگر روڈ، صدر، اولڈ سٹی ایریا، قیوم آباد، کورنگی، نارتھ کراچی، اورنگی ٹاؤن، راشد منہاس روڈ، یونیورسٹی روڈ، حسن اسکوائر، نمائش، گرو مندر، لانڈھی، گلشن حدید، ملیر اور ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں میں صبح سے ہی تیز بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس سے ان علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کحتا ہو گیا۔موسلا دھار بارش سے شہر کی اہم شاہراہوں پر ایک بار پھر پانی جمع ہوگیا ہے جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔کلفٹن، پنجاب چورنگی، کے پی ٹی، مہران، ناظم آباد، لیاقت آباد اور ڈرگ روڈ انڈر پاسز میں پانی بھر گیا جس سے انڈرپاسز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔کراچی میں آج کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے واقعات میں 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کیمطابق دو افراد ڈوب کر جاں بحق ہوئے اور ایک شخص کو کرنٹ لگا۔ موسلا دھار بارش نے شہر کے بیشتر علاقوں کو ڈبو دیا، شاہراہیں، گلیاں، بازار ندی نالوں میں تبدیل ہوگئے، بیشتر علاقوں کے مکینوں نے گھر کی چھتوں پر پناہ لے لی۔ بارش کے بعد کے الیکٹرک کے 400 فیڈرز ٹرپ کرگئے۔ موسلا دھار بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے کمر کمر تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شاہراہیں، گلیاں، بازار، ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ موٹر سائیکلیں، گاڑیاں، منہ زور پانی کے رحم پر کرم پر ہیں۔ بیشتر علاقوں کے مکینوں نے گھر کی چھتوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ایم اے جناح روڈ، تبت سینٹر کے قریب بھاری کنٹینروں کو پانی میں تیرتا دیکھ کر شہری حیران ہو گئے۔ شہریوں کی کنٹینرز کو مصروف شاہراہوں سے ہٹانے کی کوشش بے سود رہی۔ ملیر، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، پی ای سی ایچ سوسائٹی سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند ہو گئی۔اورنگی ٹاؤن، نیو کراچی، لائنز ایریا، پی آئی بی کالونی، ملیرسٹی رفیع گارڈن میں بجلیہے۔ محمودآباد، منظورکالونی، لیاقت اشرف کالونی سمیت دیگر علاقے بھی متاثر ہیں۔ کے الیکٹرک ذرائع کا کہنا ہے متعدد فیڈرز حفاظتی اقدامات کے تحت بند کئے گئے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کو ملیر میں سکول کی عمارتیں خالی کرانے کی ہدایت کر دی۔ مراد علی شاہ نے کہا شہر قائد میں بارش سے تباہی کی صورتحال پیدا ہوگئی، ملیر اور سکھن ندی میں طغیانی، لوگ پھنسے ہوئے ہیں، لوگوں کو فوری ان سکولوں میں منتقل کیا جائے۔مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا سکولوں میں فراہم کی جائیں، کچے مکانات میں رہنے والوں کو زیادہ پریشانی ہے طوفانی بارش کے باعث لاہور اور اسلام آباد سے کراچی پہنچنے والی پی آئی اے کی ایک پرواز 40 منٹ چکر کاٹنے کے بعد لینڈ کر سکی جب کہ دوسری  کراچی ائیرپورٹ پر اترنے کی ناکام کوشش کے بعد فیول ختم ہونے کے خطرے کے پیش نظر سکھر لینڈ کر گئی۔سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق بارش تھمنے کے بعد اب کراچی کا جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پروازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔دریں اثناسندھ میں بدترین بارشوں کے بعد پاک فوج کی، کراچی اور حیدر آباد کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ دادو میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جوانوں کو فارورڈ مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہکی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے مختلف میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری صوبے کے مختلف کئی علاقے زیر آب آگئے، کراچی میں آرمی فلڈ ایمرجنسی کنٹرول سینٹر قائم کردیا گیا۔ کنٹرول سینٹر بارشوں سے متاثرہ افراد کی مدد کررہا ہے۔ شہر قائد کے ضلع وسطی کے علاقہ گلبرگ،لیاقت آباد اور نیو کراچی میں میڈیکل کیمپ بھی کام کررہا ہے، بارش اور سیلابی پانی سے متاثرہ دس ہزار افراد کو کھانا فراہم کیا گیا  ایم نائن نادرن بائی پاس کے قریب آرمی انجیئنرز نے بند کی تعمیر مکمل کرلی، اارمی انجینیئرز نے پانی کا بہاؤ روکنے کے لیے ان علاقوں میں بند بھی قائم کردیئے ہیں، کے الیکٹرک گرڈ اسٹیشن، سعدی ٹاؤن اور ملیرکینٹ میں پانی نکالنے کے لیے آرمی انجینئرز نے تین پلانٹ لگادیئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق قائدآباد کے قریب ملیر ندی کاشگاف بھر دیا گیا ہے، پاک فوج کی کشتیاں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔۔ پاک بحریہ کے سی کنگ ہیلی کاپٹر نے کورنگی،قائد ا?باد اور کوٹ شفیع محمد علاقوں کا فضائی جائزہ لیا ہے۔ حیدرااباد میں لطیف آباد کے مقام پر ریلیف اور میڈیکل کیمپ بنادیا گیا ہے۔ متاثرہ افراد کو کھانا بھی فراہم کیا جارہا ہے۔

 بارشیں 

لاہور، کراچی،اسلام آباد  (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں شدید بارشوں نے ہر چیز ڈبو دی، گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں میں بدل گئیں۔ چھتیں، دیواریں اور آسمانی بجلی گرنے سے 22افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ لاہور سمیت پنجاب کے متعد اضلاع میں بھی شدید بارش، چترال میں سیلاب متعدد گھروں کو بہا کر لے گیا۔سرگودھا میں نشیبی علاقے ڈوب گئے۔ گلیوں اور بازاروں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا۔ کرنٹ لگنے اور چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔پنڈدادن خان میں دیوار گرنے سے دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ حافظ آباد میں آسمانی بجلی نے بچے سمیت تین افراد کی جان لے لی جبکہ دو زخمی بھی ہوئے۔  کراچی میں ۱۱افراد جاں بحق ہو گئے فیصل آباد، منڈی بہاؤ الدین، ظفر وال اور چشتیاں میں بھی جل تھل ہو گیا۔اپر چترال میں سیلابی ریلے میں پل بہہ گیا۔ وادی کیلاش کے گاؤں رمبور میں سیلاب کی زد میں آ کر چار مکان تباہ ہو گئے۔ ریشن گول نالہ میں پانچ گھر ریلے میں بہہ گئے۔ بیس سے زائد گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ڈیرہ بگٹی میں چھت گرنے سے بچہ زخمی ہو گیا۔ چٹ ڈیم میں دراڑ پڑ گئی۔ ندی کا بند ٹوٹنے سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔ سیہون میں سعید آباد ٹاؤن کمیٹی آفس ڈوب گیا۔میرپور خاص میں بھی بارش کے باعث گلی اور محلوں میں پانی کھڑا ہے۔ پنگریو کے قریب ایل بی او ڈی سیم نالے میں شگاف پڑ گیا۔ پاک فوج نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ادھر چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی ہے۔ ہیڈ مرالہ میں پانی کی آمد 2لاکھ 12ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام آباد میں سملی ڈیم اور راول ڈیم کی سطح بلند ہونے پر سپل ویز کھولنے پڑ گئے۔سواں دریا میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ میرپور آزاد کشمیر میں ندی نالے بپھر گئے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔ مظفر آباد میں دریائے نیلم میں سیاح پھنس گئے، مقامی افراد نے ریسکیو کیا۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بارشوں کاسلسلہ جاری ہے۔ بارشوں سے خضدار، قلات اور ڈیرہ بگٹی میں ایک خاتون اور بچے سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 31 گھروں اور 4 سڑکوں اور ایک پل کو نقصان پہنچا ہے۔ کراچی کے علاقے جوہڑ موڑ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے رہائشی اپارٹمنٹ کی دیوار منہدم ہو گئی جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔پولیس حکام کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ آسمانی بجلی جوہر موڑ کے قریب رہائشی اپارٹمنٹ کی بیرونی دیوار پر گری۔پولیس کے مطابق رہائشی اپارٹمنٹ کی بڑی باؤنڈری وال آسمانی بجلی گرنے سے منہدم ہو گئی جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر  تین مرد، دو خواتین اور ایک بچہ جاں بحق ہو گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیوار کے ملبے تلے مزید افراد دبے ہوئے ہیں، پولیس، کنٹونمنٹ بورڈ اور ریسکیو ادارے ملبہ ہٹانے کا کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک شخص گاڑی میں پانی بھر جانے سے جاں بحق ہوا جب کہ دیگر حادثات میں مزید تین افراد جاں بحق ہوئے۔

بارش ہلاکتیں 

مزید :

صفحہ اول -