نواز شریف کو باہر بھیج کر غلطی کی، چاہے حکومت چلی جائے ملک لوٹنے والوں کو این آر او نہیں دوں گا: عمران خان 

 نواز شریف کو باہر بھیج کر غلطی کی، چاہے حکومت چلی جائے ملک لوٹنے والوں کو ...

  

   اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ  وہ ملک لوٹنے والوں کو کسی صورت  این آر او نہیں دے سکتے اور اس حوالے سے وہ اپنے منشور پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، غریب عوام کی فلاح وبہبود ان کی اولین ترجیح ہے  اس لئے احساس پروگرام کے تحت شروع کئے گئے منصوبوں کا فوکس غربت کی چکی میں پسنے والے افراد ہیں، علماء کرام مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں، وہ  ممتاز مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی سے بات چیت کررہے تھے جنہوں نے ان سے جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کی۔  حافظ طاہر اشرفی نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے اوریکساں نصاب کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں کو سراہا اورکہا کہ دینی مدارس کے طلباء بھی جدید علوم سیکھ رہے ہیں تاکہ عصر حاضر کے تقاضوں کا مقابلہ کرسکیں۔ اس موقع پر وزیراعظم  عمران خان نے کہا کہ اس وقت ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اس سے نبرد آزماہونے کیلئے ان کی حکومت تمام تر وسائل استعمال میں لارہی ہے۔ کورونا وباء میں کمی کے بعد معاشی صورتحال میں بہتری آرہی ہے اوراب وہ غریب افراد کا معیار زندگی بہتر بنانے کی جانب توجہ دے رہے ہیں۔ اسی لئے احساس پروگرام کے تحت اربوں روپے میرٹ پر تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک لوٹا وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ایسے لوگوں کو وہ کسی صورت این آر او نہیں دینگے بلکہ کرپٹ افراد کے خلاف تیزی سے کارروائی ہونی چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے منشور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ان منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے جس سے عوام کو زیادہ فائدہ ہو۔ اس موقع پر وزیراعظم نے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دیا اور کہا کہ علماء کرام بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔وزیر اعظم نے جیلوں میں قید خواتین کی حالت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کر دی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ معمولی جرائم میں قید خواتین کو گھر کے قریب جیلوں میں رکھا جائے۔ وزیراعظم سے گزشتہ روز وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ملاقات کی اور جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے سفارشات پیش کیں۔ عمران خان نے جیلوں میں قید خواتین کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے شیریں مزاری کو ہدایت کی کہ سفارشات پر فوری عملدرآمد کے لیے اٹارنی جنرل سے مشاورت کی جائے۔عمران خان نے کہا ہے کہ مہذب معاشروں کی پہچان انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے سے ہوتی ہے، قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کوفون کیا اورصوبہ میں حالیہ بارشوں کے باعث نقصانات پرتشویش کا اظہارکیا۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ کو ریلیف کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے، پانی میں پھنسے لوگوں کو کھانا پہنچایا جائے اورلوگوں کی محفوظ مقامات پر جلد منتقلی کا انتظام بھی کیا جائے۔

عمران خان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو خیر سگالی کے تحت باہر بھیجا لیکن یہ غلطی ہوئی، شہباز شریف نے اپنے بھائی کی واپسی کی ضمانت دی تھی۔ ن لیگی قائد بیمار تھے لیکن لندن جا کر سیاست شروع کر دی۔نجی ٹیلی وڑن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیماری پر ایسا ماحول بنایا گیا کہ وہ نہیں بچیں گے، اس لئے ہم نے سارا معاملہ کابینہ میں رکھا۔ نواز شریف کو بیرون ملک بھیج کر غلطی ہوئی۔ میڈیکل بورڈ اگر یہ نہ کہتا کہ ان کی جان خطرے میں ہے تو کبھی اجازت نہ دیتا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نظریاتی کارکن ہیں۔ یاسمین راشد اور ڈاکٹر فیصل نے بھی کہا تھا کہ نواز شریف کو تین سے چار بیماریاں ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ نواز شریف کو این آر او نہیں دیا۔ نظریے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گا اور ہی سیاسی استحکام کے نام پر کسی کو رعایت دوں گا۔ جتنا مرضی بلیک میل کر لیں، این آر او نہیں دوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو لندن میں سیاست کرتا دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، حکومت چلی جائے منظور ہے لیکن این آر او نہیں دوں گا۔ این آر او دے دوں تو 5 سال آسانی سے پورے کر سکتا ہوں لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کو بھی جواب دینا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرویز مشرف نے اپنی کرسی بچانے کیلئے این آر او دے کر جرم کیا۔ اس کی وجہ سے قرضوں میں 4 گنا اضافہ ہواپاکستانی کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ پہلا سال بڑا مشکل تھا لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ ملکی معیشت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ کورونا کے باوجود جولائی میں ریونیو توقع سے زیادہ رہا۔ اس کے علاوہ سیمنٹ اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان صیح سمت میں جا رہا ہے، لوگوں کو اب امید نظر آ رہی ہے۔قومی احتساب بیورو کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب کا چیئرمین پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے مل کر لگایا تھا۔ اپوزیشن کے تمام کیسز سابق دور کے ہیں۔ ہمارے دور میں صرف ٹی ٹیز کیس بنا۔ کیا عبدالعلیم خان اور سبطین خان کو میں نے جیل میں ڈلوایا؟ عثمان بزدار کو جس کیس میں نیب نے بلایا، مجھے اس پر تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مفاد شفاف حکومت جبکہ اپوزیشن کا مقصد چوری بچانا ہے۔ یہ نیب میں پھنسے ہوئے ہیں، وہاں جا کر جواب دیں۔ میں نے 60 سال کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروایا جبکہ دوسری جانب نواز شریف نے جعلی قطری خط پیش کیا۔ وہ پیسہ چوری کرکے باہر لے کر گئے، ایک دستاویزات نہیں دی۔ نواز شریف آج تک ایک منی ٹریل نہیں دے سکے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے انتہائی اہم معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلا جائے۔ اپوزیشن کو اس چیزکا پتا ہے پھر بھی ایسا کر رہی ہے۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان گرے لسٹ میں کیوں گیا؟ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ایسا ہوا۔ اب اگر پاکستان بلیک لسٹ میں گیا تو عالمی پابندیاں اور روپے کی قدر گر جائے گی۔ جب روپے کی قدر کم ہوگی تو بجلی اور گیس سمیت سب کچھ مہنگا ہو جائے گا۔ تباہ حال معیشت اور ریکارڈ خسارے ورثے میں ملے۔ اب اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان صیح سمت میں جا رہا ہے۔ بلیک لسٹ میں چلے گئے تو بہت تباہی ہوگی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ میری کوشش ہوگی مشترکہ اجلاس میں فیٹف قانون پاس کرا لیں، تاہم اگر اپوزیشن نے اسے ڈیفیٹ کیا تو یہ پھر سب ذمہ دار ہونگے دریں اثناوزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ  وہ ملک لوٹنے والوں کو کسی صورت  این آر او نہیں دے سکتے اور اس حوالے سے وہ اپنے منشور پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، غریب عوام کی فلاح وبہبود ان کی اولین ترجیح ہے  اس لئے احساس پروگرام کے تحت شروع کئے گئے منصوبوں کا فوکس غربت کی چکی میں پسنے والے افراد ہیں، علماء کرام مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں، وہ  ممتاز مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی سے بات چیت کررہے تھے جنہوں نے ان سے جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کی۔  حافظ طاہر اشرفی نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے اوریکساں نصاب کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں کو سراہا اورکہا کہ دینی مدارس کے طلباء بھی جدید علوم سیکھ رہے ہیں تاکہ عصر حاضر کے تقاضوں کا مقابلہ کرسکیں۔ اس موقع پر وزیراعظم  عمران خان نے کہا کہ اس وقت ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اس سے نبرد آزماہونے کیلئے ان کی حکومت تمام تر وسائل استعمال میں لارہی ہے۔ کورونا وباء میں کمی کے بعد معاشی صورتحال میں بہتری آرہی ہے اوراب وہ غریب افراد کا معیار زندگی بہتر بنانے کی جانب توجہ دے رہے ہیں۔ اسی لئے احساس پروگرام کے تحت اربوں روپے میرٹ پر تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک لوٹا وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ایسے لوگوں کو وہ کسی صورت این آر او نہیں دینگے بلکہ کرپٹ افراد کے خلاف تیزی سے کارروائی ہونی چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے منشور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ان منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے جس سے عوام کو زیادہ فائدہ ہو۔ اس موقع پر وزیراعظم نے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دیا اور کہا کہ علماء کرام بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔وزیر اعظم نے جیلوں میں قید خواتین کی حالت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کر دی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ معمولی جرائم میں قید خواتین کو گھر کے قریب جیلوں میں رکھا جائے۔ وزیراعظم سے گزشتہ روز وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ملاقات کی اور جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے سفارشات پیش کیں۔ عمران خان نے جیلوں میں قید خواتین کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے شیریں مزاری کو ہدایت کی کہ سفارشات پر فوری عملدرآمد کے لیے اٹارنی جنرل سے مشاورت کی جائے۔عمران خان نے کہا ہے کہ مہذب معاشروں کی پہچان انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے سے ہوتی ہے، قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کوفون کیا اورصوبہ میں حالیہ بارشوں کے باعث نقصانات پرتشویش کا اظہارکیا۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ کو ریلیف کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے، پانی میں پھنسے لوگوں کو کھانا پہنچایا جائے اورلوگوں کی محفوظ مقامات پر جلد منتقلی کا انتظام بھی کیا جائے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -