"انسانی زندگی کا مقصد"

"انسانی زندگی کا مقصد"

  

میرا ایک سوال ہے ہم کون ہیں؟ اس دنیا میں کیوں ہیں ؟تو جواب ملے گا کہ ہم اللہ کی عبادت کے لئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہم کھاتے بھی ہیں۔ جاگتے بھی ہیں۔  کاروبار بھی کرتے ہیں۔ تو یہ سب تو عبادت نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ایسا بھی ہوگا۔صرف نماز روزہ زکوٰۃ ہی عبادت نہیں ہیں۔ جب ہم رزق کی تلاش کے لیے نکلتے ہیں۔ تو یہ بھی عبادت ہے اللہ کی رضا کے لیے کسی کی مدد کرتے ہیں تو یہ بھی عبادت ہے۔نفس کے ساتھ جہاد بھی عبادت ہے۔تو بات کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی کے مقصد کو جاننے کا۔ کہ ہم کیوں ہیں۔کیا ہیں۔اور کس لیے ہیں.

امام مالک کہتے ہیں انسان کی دو پیدائشیں ہیں۔ایک جب وہ دنیا میں آتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنی زندگی کا مقصد پہچان جاتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں ہماری زندگی کا دارومدار  صرف کھانا پینا مسلوں میں الجھنا فساد برپا کرنااور سونا ہے ۔ہم نے اپنی ضابطہ حیات کو بدل دیا ہے۔ تو کیسے ہمیں سکون حاصل ہوگا۔ کیسے ہم زندگی سے مطمئن ہو گئے۔ کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد یہ چیزیں نہیں ہیں۔ اپنی زندگی میں سیلف ایکچلزیشن کو اپنائیں۔ یہ ایک ایسا درجہِ ہے جس میں آپ کو کس چیز کی طلب نہیں ہوتی۔ آپ خود کو جانتے ہیں۔ آپ اپنے کام سے مطمئن ہوتے ہیں۔ اور اپنے کام کو عبادت کی طرح کرتے ہیں۔اس سیلف ایکچلزیشن پہ پہنچنے والا انسان مائیکل آنجیلو پندرہ دن تک پینٹنگ کرتا ہے کھڑے ہو کے نہ کھانے کی ہوش نہ پینے کی اور جب پندرہ دن بعد جوتا اتارتا ہے۔ تو چمڑی بھی ساتھ ہی اتر جاتی ہے۔ اپنے کام سے محبت کریں۔کوئی بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ بس کرنے پہ منحصر ہوتا ہے۔ہم زندگی میں چھوٹے مسلوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اور ان کو حل کرتے کرتے ہماری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ہمیں شکایتیں ہوتی ہیں کہ فلاں نے مجھے یہ کہا فلاں نے یہ میرے پاس گھر نہیں ہے۔گاڑی نہیں ہے۔ بھئی چھوڑ دیں یہ سب میدان میں آئے بڑی منزل کے مسافر بنے۔ اپنے حصے کا دیا جلائے۔ اچھی زندگی آپ کی منتظر ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -