کرائسٹ چرچ حملہ، مجرم ٹیرنٹ کو آسٹریلیا واپس بھیجنا چاہیے،آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن بھی بول پڑے

کرائسٹ چرچ حملہ، مجرم ٹیرنٹ کو آسٹریلیا واپس بھیجنا چاہیے،آسٹریلوی ...
کرائسٹ چرچ حملہ، مجرم ٹیرنٹ کو آسٹریلیا واپس بھیجنا چاہیے،آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن بھی بول پڑے

  

میلبورن(آئی این پی)آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملوں میں ملوث مجرم کی سزا پر نیوزی لینڈ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں کہ آیا برینٹن ٹیرنٹ کو اپنے آبائی ملک میں سزا پوری کرنی چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم نے چینل سیون کو بتایا کہ مجرم کی منتقلی کے لیے نیوزی لینڈ کی جانب سے ان کو باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم جمعرات کو برینٹن ٹیرنٹ کو سزا سنائے جانے کے بعد نیوزی لینڈ کے ڈپٹی پرائم منسٹر نے مجرم کی آسٹریلیا منتقلی سے متعلق تجویز دی تھی۔

سکاٹ موریسن نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن مجرم کی منتقلی سے متعلق متاثرہ خاندانوں کی رائے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔میں جانتا ہوں کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے شہری اس کردار کو ہمیشہ کے لیے سلاخوں کے پیچھے بند دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ دوبارہ کبھی دن کی روشنی نہ دیکھے۔ میں اس سے متفق ہوں، خواہ وہ نیوزی لینڈ میں ہو یا آسٹریلیا میں وہ اپنی سزا پوری کرے۔گذشتہ برس مارچ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملوں میں ٹیرنٹ نے 51 افراد کو قتل، 40 کو قتل کی کوشش اور دہشت گرد حملے کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -