سعودی حکومت نے ایک اور اہم شخصیت کو حراست میں لے لیا

سعودی حکومت نے ایک اور اہم شخصیت کو حراست میں لے لیا
سعودی حکومت نے ایک اور اہم شخصیت کو حراست میں لے لیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعد الجبری سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے،اب الجزیرہ نے اس حوالے سے ایک اور انتہائی اہم خبر دے دی ہے۔ وہ شہزادہ محمد بن سلمان کے مخالف شہزادے کے قریبی ساتھی تھے چنانچہ شہزادہ محمد کے ولی عہد بننے اور اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ ملک چھوڑ کر فرار ہونے اور کینیڈا میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی عدالت میں ایک مقدمہ بھی دائر کروایا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی حکومت نے 2درجن کے لگ بھگ کرائے کے قاتل کینیڈا بھیجنے کی کوشش کی جنہیں سعد الجبری کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا تاہم یہ تمام قاتل کینیڈین بارڈر فورس نے گرفتار کر لیے۔ 

الجزیرہ نے سعد الجبری کی فیملی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے الجبری کے ایک اور سسرالی رشتہ دارکو حراست میں لے لیا ہے۔ سعدالجبری کے بیٹے خالد الجبری نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ ان کے رشتہ دار کو ریاض میں سعودی سٹیٹ سکیورٹی آفس میں طلب کیا گیا تھا جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سعد الجبری نے امریکی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں یہ بھی بتایا تھا کہ سعودی حکومت ان کے بچوں اور رشتہ داروں کو گرفتار کرکے انہیں واپس سعودی عرب آنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ 

واضح رہے کہ سعد الجبری سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے قریبی ساتھی تھے۔ 2017ءمیں سعودی شاہی محل میں ہونے والی بغاوت میں انہیں ہٹا کر شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد بنا دیا گیا تھا۔ رائٹرز نے رواں سال جون میں اپنی ایک رپورٹ میں 4ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ سعد الجبری کے پاس انتہائی حساس معلومات ہیں اور شہزادہ محمد کو خوف لاحق ہے کہ وہ یہ معلومات افشاءکر سکتے ہیں۔ 

مزید :

عرب دنیا -