کراچی بارشوں سےکھربوں روپے کا نقصان ہوا،تمام ٹیکس معاف،بلا سود قرضہ اور پیکیج دیا جائے۔۔۔ حکومت سے بڑا مطالبہ سامنے آگیا 

کراچی بارشوں سےکھربوں روپے کا نقصان ہوا،تمام ٹیکس معاف،بلا سود قرضہ اور ...
کراچی بارشوں سےکھربوں روپے کا نقصان ہوا،تمام ٹیکس معاف،بلا سود قرضہ اور پیکیج دیا جائے۔۔۔ حکومت سے بڑا مطالبہ سامنے آگیا 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مون سون کی بارشوں نے کراچی کو تباہ کر دیا ہے جبکہ مرکزی صوبائی اور شہری حکومت کے محکموں کی نا اہلی کو بھی روز روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے،نکاسی کا انتظام نہ ہونے کے سبب بارش کا پانی کارخانوں،گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا ہے،جس سے عوام اور کاروباری برادری کومجموعی طور پرکھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے،حکومت اس شہر کو آٖفت زدہ قرار دے، ہر قسم کے ٹیکس ایک سال کے لئےمعاف اورکاروبار وں کودیوالیہ ہونےسےبچانے کےلئے بلا سود قرضےاور پیکیج دئیے جائیں۔

میاں زاہد حسین نےکاروباری برادری سے بات چیت کرتےہوئےکہاکہ زیرتعمیرمنصوبوں کوبھی بارش سےبہت نقصان پہنچاہے،گوداموں میں پڑا ہوااربوں روپےکاتعمیراتی سامان، اشیائےخوردو نوش کےذخیرے،برآمدی اشیاءاوردیگرچیزیں ضائع ہو گئی ہیں، بجلی اور گیس بند ہے، گٹر اُبل رہےہیں،واٹر بورڈ کاکام معطل ہےجبکہ صنعتیں،ایکسپورٹ اورامپورٹ بندپڑی ہے،مرکزی صوبائی اورشہری ادارےمسائل حل کرنے سے زیادہ الزام تراشی میں دلچسپی لےرہےہیں اوراپنی عدم کا رکردگی کاجواز90سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کو بتا رہے ہیں جس سے شہریوں کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں گورننس کا نظام کئی دہائیوں سے مسلسل انحطاط کا شکار ہے،ملک کے سب سے اہم شہر کراچی کے لئے ہمیشہ ایمرجنسی اقدامات کئے جاتےہیں مگرمسائل کامستقل اوردیرپاحل نظرانداز کردیاجاتاہےجوملکی معیشت سےکھلواڑکےمترادف ہے،کراچی کے حالات اس حد تک بگاڑےگئےہیں کہ ریکارڈبارش توکیامعمولی بارش بھی کروڑوں کی آبادی کےاس شہرکومفلوج کردیتی ہے،جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ جبکہ ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے،بارشوں کے نقصانات اور چالیس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد صوبائی حکومت نے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو نا قابل عمل ہے کیونکہ وہ کام تو اس وقت کریں گے جب اپنے دفتر پہنچیں گے کیونکہ تمام سڑکیں دریا بن چکی ہیں اور شہر کا زیادہ تر حصہ زیر آب ہے،جب تک پی ٹی آئی، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے سیاستدان الزامات کی سیاست کے بجائے متحد ہو کر لوٹ مار کے کلچر کو ختم اور کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہترنہیں بناتے شہر کی حالات خراب ہی رہے گی،موجودہ انفراسٹرکچر بارش برداشت نہیں کر سکتا اور اسکی کمزوری سے ملکی معیشت مسلسل متاثر ہوتی رہے گی،کراچی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اعلیٰ حکام کی جانب سے ہر بار وضاحتیں پیش کرنا اب آپشن نہیں رہا ہے۔ 

مزید :

بزنس -