”یہ قوم ضروری کام سے سو رہی ہے“

”یہ قوم ضروری کام سے سو رہی ہے“
 ”یہ قوم ضروری کام سے سو رہی ہے“

  

شورش کاشمیری سے ایک بار پوچھا گیا....اچھے شعر کی پہچان کیا ہے؟اُنہوں نے انتہائی مختصر جواب دیا....”اچھے شعر کی پہچان یہ ہے کہ پہروں بے خودی طاری کردے“....ہماری ادبی سوجھ بوجھ واجبی سی ہے،لہٰذا بھرم قائم رکھنے کے لئے مدتوں سے اچھے شعر اور اچھی نثر جانچنے کے لئے یہ پیمانہ اپنایا ہوا ہے۔ادبی انحطاط کے عمومی تاثر کے برعکس ہمیں اکثر ایسے اشعار اور نثر پارے پڑھنے کو مل جاتے ہیں تو بے خودی کا مانوس ذائقہ چکھ لیتے ہیں۔

24دسمبر کو روزنامہ پاکستان کے شوبز صفحات پر ایک دوکالمی سرخی نے ہم پر کچھ ایسی ہی بے خودی طاری کردی ....”یہ قوم ضروری کام سے سو رہی ہے“۔یہ ایک ٹی وی ڈرامے کا عنوان ہے، جس کی تفصیل شوبز کے صفحے پر درج تھی۔یہ عنوان فقط ایک ٹی وی ڈرامے کے لےے ہی کیا ہمارے مجموعی قومی رویوں کے لئے بھی جامع ترین عنوان ہے.... یہ قوم ضروری کام سے سو رہی ہے!! کاموں کی درجہ بندی جاگنے کے دوران تو سنی تھی۔ضروری، غیر ضروری، لاحاصل کام وغیرہ۔ یہ الگ قضیہ ہے کہ اکثر دن کے اختتام پر ہمیں منیر نیازی کی سی رائیگانی کا سامنا رہا ہے....اَج دا دِن وی ایویں ای لنگیا، کوئی وی کم نہ ہویا،لیکن ضروری کام سے سونا سمجھ نہیں آیا۔

 تسلیم کہ سونا زندگی کی تازگی کے لئے ایک معمول ہے۔نیند نہ آنا البتہ ایک غیر معمولی امر سمجھا جاتا ہے اور ہے بھی۔عشاق، شاعر اور ایسے ہی دیگر غمزدہ نیند نہ آنے کے عمل سے اپنے جذبے کی سچائی کی سند لاتے ہیں۔ نیند نہ آنا ایک بیماری ہے،اِس کا اندازہ ہمیں چند سال قبل بنکاک ائیر پورٹ پر ایک سکھ ہم سفر سے گفتگو کے دوران ہوا۔ اُس نے اپنے اِس دُکھ کا ہم سے تذکرہ کیا کہ اُس کا بیٹا مسلسل بے خوابی کا مریض ہے۔ دُنیا بھر کے ڈاکٹروں کو دکھا چکے ہیں، لیکن مرض کا سرا کسی کے ہاتھ نہیں آیا۔ اُس کا بیٹا دن کے وقت عام لوگوں کی طرح تروتازہ ہونے کی بجائے تھکاوٹ سے چُور رہتا تھا۔اکثر ہلکے بخار میں مبتلا رہتا۔اﷲ کا شکر ادا کیا کہ ہمیں نیند آتی ہے، بلکہ خوب آتی ہے۔گھوڑے پالنے کا رواج متروک ہوچکا ہے، ورنہ ہم بھرپور نیند کی تصدیق کے لئے گھوڑے بیچنے سے بھی دریغ نہ کرتے۔

سو،نیند زندگی کا ایک لگا بندھا معمول ہے، لیکن کسی ضروری کام سے ”سونے“کا انکشاف ہمیں یہ عنوان پڑھ کر ہوا۔نیند میں ضروری کام کی کوشش میں ہم اِس حد تک ضرور گئے ہیں کہ صبح کو کسی اُدھورے خواب کو مکمل کرنے کی خواہش میں ہم نے پھر سے نیند کی کوشش کی یا پھر کسی ذہنی اذیت یا ڈپریشن سے بچنے کے لئے جاگنے کے عذاب کو ٹالنے کے لئے نیند میں محو رہنے کی کوشش۔بہت سوچ بچار کے باوجود بھی ہمیں اِس کے علاوہ کوئی دیگر ضروری کام سمجھ نہیں آئے جس کے لئے نیند درکار ہو۔ ٹی وی ڈرامے کا یہ عنوان کہ ”یہ قوم ضروری کام سے سو رہی ہے“ ہمارے لئے ایک عجیب سی اُلجھن کھڑی کر گیا ہے۔

 اِنہی کالموں میں ہم نے اکثر رونا رویا ہے کہ زمانہ آئے دن قیامت کی چال چلتا رہتا ہے،لیکن ہم بضد ہیں کہ ”زمیں جنبد نہ جنبد، گل محمد“.... زمانے بھر میں علم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اصلاحات مرکزِ نگاہ ہیں۔اداروں کی مضبوطی، اُن کی تطہیر اور مستقبل کی پیش بندی میں حکومتیں اور عوام مرے جارہے ہیں، لیکن اِن تمام معاملات کی طرف التفات کا ہمارے ہاں رواج ہی نہیں۔تمام تر مسائل کا الزام دھرنے کے لئے سازشی تھیوریوں کے کئی دیوان موجود ہیں۔اِن تھیوریوں کے نمایاں کرداروں میں امریکہ،یہود اور ہنود شامل ہیں۔ کرپشن ہو،بدنظمی ہو،میرٹ کی بھد اُڑ رہی ہو،اداروں کی دھما چوکڑی ہو،قیادت مایوس کررہی ہو، نوکر شاہی شتر بے مہار ہو،اداروں کے ڈانڈے اِن کرداروں سے انفرادی یا اجتماعی طور پر ملا کر ہم بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔

ٹی وی اینکرز اور کالم نگاروں کو دانش کا اضافی کوٹہ الاٹ ہونے کی وجہ سے وہ اُن مسائل کے حل ڈھونڈنے کے لئے اپنی تمام تر اضافی دانش بروئے کار لاتے ہیں۔سرکار کی جوتم پیزاراور کالموں میں دُور سے دُور کی کوڑی لانے والے یہ احباب عموماً دونکاتی حل تجویزکرتے ہیں.... اب انقلاب ہی واحد حل ہے....ایک مسیحادرکار ہے جو چٹکی بجانے کے فن کا ماہر بھی ہو....کئی دہائیوں سے جاگتی آنکھوں نے بے چینی،مایوسی او رپریشانی کے باوجود قوم میں ایک عجیب طرح کا سکون دیکھ کر ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جاگتی آنکھوں سے درد کے یہ کانٹے دیکھنے کے بعد قوم اب شاید انقلاب اور مسیحا کے ”دیدار“ کے ضروری کام سے سو رہی ہے!!

ریاست اپنوںاورپرایوں کی وجہ سے زخم زخم ہے،بلکہ غریب کی جورو کی مانند کمزور بھی۔دُنیا بھر میں سیاست ایک تدریجی عمل ہے ،لیکن ہمارے ہاں صرف ایک تاریخی جلسہ فیصلہ کردیتا ہے کہ اب سونامی شروع ہوچکا ہے یا نظام کی تبدیلی کے لئے اڑھائی ہفتے کا الٹی میٹم ہی آخری وارننگ ہے۔اِن مہربانوں کی مہربانی کہ لاکھوں کا مجمع اکٹھا کرنے کی حجت تمام کرکے وہ ایسی وارننگ دیتے ہیں ورنہ اِسی دیس میں تو یہ چلن ہی عام ہورہا ہے کہ دلیل کی جھنجھٹ کی بجائے بندوق اُٹھاﺅ، لبلبی دباﺅ اور ٹھائیں.... اِدھر اُدھر کے سوال وجواب کے دانت کھٹے کرنے کے لئے بندوق پر مذہب یا مفاد کا سائیلنسر لگا دو۔اﷲ اﷲ خیر صلا۔

 الیکشن کی آمد آمد ہے۔کروڑوں،بلکہ اربوں روپے سرکاری خزانے سے مختلف منصوبوں پر لٹائے جارہے ہیں۔اِدھر لاہو ر میں”خادم اعلیٰ“ باز نہیں آرہے، اُدھر وفاقی حکومت کا خزانے پر ہاتھ ہے کہ رُکے نہیں رکتا۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے گھٹ کر سات لاکھ رہ گئی ہے۔ بچتوں کی شرح دس فیصد رہ گئی ہے ،جبکہ خطے میں دیگر ملکوں میں یہ شرح20 سے30 فی صد تک ہے۔زرمبادلہ کے ذخائز دس ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ واشنگٹن میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، آئی ایم ایف سے نئے قرضوں کے لئے منت ترلا کرکے لوٹے ہیں، لیکن ہم سینہ پھلا پھلا کر یہ کہتے نہیں تھکتے کہ روزانہ اربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے، لیکن ہم اِس کے باوجود کچھ کر نہیں پارہے.... شاید اِس لئے کہ قوم کسی ضروری کام سے سو رہی ہے۔

ہم نے تو بہتیرا سرپٹکا کہ آخر قوم کون سے ضروری کام سے سو رہی ہے؟سر ہی لہولہان ہوا،سمجھ نہیں آیا۔ حال ہی میں سنا بھی اور پڑھا بھی کہ سائنس دانوں نے ایسے آلات ایجاد اور تجربات کئے ہیں جن کی مدد سے سوئے ہوئے شخص کی ذہنی کیفیات اور اُس کے خوابوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔اگر دستیاب ہوسکیں تو شاید اِن آلات اور تجربات کی مدد سے ہماری اُلجھن سلجھ سکے کہ آخر یہ قوم کس ضروری کام سے سورہی ہے۔ اِس کے علاوہ ایک دوسرا گمان یہ بھی ذہن میں آتا ہے جس کا ذکر شعیب بن عزیز نے کیا ہے:

ہم نیند کے شوقین زیادہ نہیں ، لیکن

کچھ خواب نہ دیکھیں تو گزارا نہیں ہوتا

ہمارا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ جاگتے رہنا عذاب ہوجائے تو نیند میں خواب کے بل بوتے پر ہی گزارا ممکن ہے اور گزارے سے زیاد ہ ضروری کام بھلا اور کیا ہوگا؟ ٭

مزید :

کالم -