جب سے ہوئے شہید وہ معمار دیس کے

جب سے ہوئے شہید وہ معمار دیس کے
جب سے ہوئے شہید وہ معمار دیس کے

  


قوم حالت جنگ میں ہوتو غیرمتوقع واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور چونکا دینے والی باتیں، ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی رہتی ہیں۔ سانحۂ پشاور کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مجرموں سے شہید بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پھانسی کی سزا پر پابندی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت وہ خود کریں گے۔ یہ اعلانات اسی وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے کئے گئے، جن کے بارے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ جب دہشت گردوں نے انہیں، ان کے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں تو انہوں (وزیراعظم نواز شریف) نے پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا تھا۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے، اس پر بحث کی ضرورت نہیں، اہم بات یہ ہے کہ دشمن نے ہمارے دل پر وار کرکے مشکل اور جرأت مندانہ فیصلوں کی راہ ہموار کردی ہے ،اسی وجہ سے اہم اور غیر متوقع واقعات سامنے آرہے ہیں ۔ اس حوالے سے دو مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ پہلی مثال یہ ہے کہ عمران خان نے جب پشاور میں آرمی پبلک سکول کا دورہ کیا تو وہاں شہید بچوں کے کچھ ورثاء نے انہیں روک کر انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ہم نے آپ کو تبدیلی کے لئے ووٹ دیئے تھے، آپ کون سی تبدیلی لے کر آئے ؟ ہمیں یہ تباہی اور آنسو ہی ملے ہیں۔ ہمارے بچے اس دنیا سے چلے گئے، آپ اور کون سی تبدیلی لائیں گے ؟؟ ان دکھی اور غمزدہ والدین کو عمران خان تسلی کے سوا کچھ نہ دے سکے، مگر ’’وہ آپ روپڑا، مجھے حوصلہ دیتے ہوئے‘‘ والی کیفیت تھی۔

اسی طرح جب عمران خان نے پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردوں سے نمٹنے اور آئی ڈی پیز کی مناسب دیکھ بھال کے لئے فوری طورپر مالی امداد دی جائے تو اس کے فوراً بعد وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے میڈیا کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور معاملات کے لئے 30ارب روپے خرچ کرچکی ہے۔ عمران خان نے مزید مالی مدد کے لئے کہا ہے تو وزیراعظم نواز شریف نے مزید 26ارب روپے مہیا کرنے کی منظوری دی ہے۔ سانحہ پشاور اور دھرنا ختم کرنے سے پہلے اس قسم کے ’’کوئیک رسپانس‘‘ کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ پشاور کے سانحۂ عظیم نے پوری قوم کو متحد کردیا ہے ۔حالات کا تقاضا یہی ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بناکر دہشت گردی کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی جائے۔ عوام نے جو صدمہ برداشت کیا ہے،اسے پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے مؤثر اقدامات ہونے چاہئیں کہ لوگ محسوس کریں کہ شہید بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جارہا ہے اور سول حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واقعی قیادت کررہی ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ جذباتی نعروں اور خوبصورت مکالموں سے بات نہیں بنے گی۔ ہم سب کو عملی طورپر اس جنگ میں دہشت گردوں کو ناکام بنانے کی ضرورت کا احساس ہونا چاہئے۔ وقت تیزی سے گزررہا ہے، زیادہ دیرتک دشمن خاموش نہیں بیٹھے گا اور دکھی قوم غمزدہ حالت میں چپ نہیں رہے گی۔ آج عمران خان سے غمزدہ اور صدمے سے ہوش کھو بیٹھنے والے والدین چبھتے ہوئے سوالات کرسکتے ہیں تو آنے والے دنوں میں حکمرانوں اور سیاستدانوں سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ آپ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر قوم کو جو پیغام دیتے رہے ہیں، اس کا عملی ثبوت کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ دوسرے لفظوں بقول شاعر :

مَیں نے تو تن بدن کا لہو، نذر کردیا

اے شہر یار !تو بھی کچھ اپنا حساب دے

آزادی کے بعد سے اب تک ہم سب سیاست ہی کرتے رہے ہیں۔ پوائنٹ سکورنگ بہت ہوگئی۔ اب ملکی سلامتی اور قوم کے مورال کا سوال ہے۔ یہ زندگی اور موت کی جنگ ہے ۔ اس موقع پر یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ فلاں بات مان لی گئی تو فلاں کی ’’واہ واہ‘‘ ہوگی ،بلکہ اس بات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے کہ کون سی بات ملک اور قوم کے مفاد میں ہے۔ حوصلہ افزأ بات یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت اور دینی تنظیم اپنی فہم وفراست کے مطابق تجاویز پیش کررہی ہے۔ حکومتی سطح پر ہرمفید اور قابل عمل تجویز کو اہمیت دے کر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کٹھن حالات سے گزرتے ہوئے لوگوں کے ذہنوں میں عزم وہمت کے چراغ بدستور روشن ہیں، پھر بھی یہ سوال بار بار ابھرتا ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان درپیش چیلنج کو قبول تو کررہے ہیں، کیا حالات پر قابو پا سکیں گے؟

خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف عمران خان بھی کھل کر بول رہے ہیں، یہ مثبت تبدیلی ہی دراصل حالات اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ اس سے پہلے عمران خان، طالبان سے مذاکرات پر زور دیا کرتے تھے۔ سانحۂ پشاور کے بعد انہوں نے آٹھ نکاتی پروگرام پیش کرتے ہوئے پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغانوں کو واپس افغانستان بھیجنے پر زوردیاہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ طورخم پر روزانہ 500ویزے دیئے جاتے ہیں اور پندرہ سے بیس ہزار افغانی سرحد پار کرتے اور واپس آتے ہیں۔ ایساکیوں ہے ؟ ایف سی، خیبر پختونخوا کوواپس دینے، قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو زیادہ تعداد میں پولیس میں بھرتی کرنے پر بھی عمران خان نے زور دیا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے غیر ممالک سے امداد اور تعاون حاصل کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ ایسی تجاویز قومی مفاد میں اور حب الوطنی کے تحت ہی دی جاتی ہیں، انہیں قابل عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

اسے جذبۂ حب الوطنی ہی کہا جائے گا کہ سخت علیل ہونے اور دیار غیر (امریکہ) میں زیرعلاج ڈاکٹر طاہر القادری بھی اس موقع پر خاموش نہیں بیٹھے ۔ انہوں نے چودہ نکات پیش کرکے اپنا قومی فرض ادا کیا ہے ۔ طاہر القادری نے جو تجاویز پیش کی ہیں، وہ اگرچہ حکومتی حلقوں کے لئے پسندیدہ نہیں، لیکن ان پر غور کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ ویڈیو کانفرنس میں طاہرالقادری نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ان کے فتوے سے کئی ممالک استفادہ کررہے ہیں، مگر پاک وطن سے دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لئے اس سے کوئی مدد نہیں لی گئی ۔ طاہرالقادری نے اس کام کے لئے اپنے اداروں سے ماہرین مہیا کرنے کی پیشکش بھی کی۔یہ بھی کہا کہ مدارس، سکولوں اور کالجوں کے لئے یکساں نصاف تعلیم منظور کیا جائے، اسی طرح جو ممالک سیاسی اور مذہبی تنظیموں کو مالی امداد دیتے ہیں، وزارت خارجہ کے ذریعے ان ملکوں کی حکومتوں سے کہا جائے کہ وہ یہ سلسلہ فوراً ختم کردیں ۔ اگر پھر بھی فنڈنگ جاری رہے تو پھر ان ملکوں کے نام ظاہر کردیئے جائیں۔ طاہر القادری کا موقف ہے کہ دہشت گردوں کو پھانسی دینے پر یورپی یونین اور امریکہ کی پروا ہرگز نہ کی جائے۔ اس وقت امریکہ کی 35 ریاستوں میں سزائے موت موجود ہے اور باقاعدہ سزائیں دی جاتی ہیں۔

مزید : کالم