فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست بارے سلامتی کونسل میں پیش قرارداد پر سیاسی وعوامی حلقوں کا شدید ردعمل

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست بارے سلامتی کونسل میں پیش ...

 لندن (این این آئی)فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام بارے محمود عباس کی سلامتی کونسل میں پیش قرارداد پر فلسطین کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس نے سلامتی کونسل کی قرارداد میں قوم کے دیرینہ مطالبات اور حقوق کے حوالے سے پسپائی اختیار کی ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں مرکز برائے امور فلسطین کے زیراہتمام شروع کی گئی تازہ مہم کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور قومی حقوق پر پسپائی اختیار کرنے پر جوڈیشل ٹرائل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مرکز امور فلسطین کی جانب سے تیارکی گئی مفصل یاداشت پر فلسطینی اور دوسرے شہریوں سے دستخط لئے جا رہے ہیں۔ یاداشت میں کہا گیا ہے کہ صدر محمود عباس نے سلامتی کونسل میں ایک ناقص قرارداد پیش کرکے نہ صرف فلسطینی قوم کے دیرینہ مطالبات اور بنیادی حقوق اور اصولوں پر پسپائی اختیار کی ہے بلکہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے نہایت کمزر ایمان کا مظاہرہ کیا ہے، قرارداد کے بعد صدر محمود عباس کی اپنی حیثیت متنازعہ ہوچکی ہے،یاداشت میں واضح الفاظ میں کہا گیاہے کہ فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق اور مسلمہ مطالبات پر جو بھی سودے بازی کرے یا افراط و تفریط سے کام لے اسے فلسطین میں اقتدار کے مزے لوٹنے کا کوئی حق نہیں، فلسطینی قوم اپنی گردنوں سے ایسے رہنماؤں کو اتار پھینکیں جو قوم کے بنیادی اصولوں اور مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے دشمن کوسہولت مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر