دو قومی نظریہ : ایک سیاسی نعرہ

دو قومی نظریہ : ایک سیاسی نعرہ
دو قومی نظریہ : ایک سیاسی نعرہ

  


مجھے ڈر ہے کہ پاکستان، اسلام اور دو قومی نظرئیے کے خود ساختہ محافظ مجھے گردن زدنی نہ قرار دے دیں، کیونکہ میںَ ایسے موضوع پر قلم اُٹھا رہا ہوں جو میری حُب الوطنی اور میری مسلمانی پر سوال اُٹھا سکتا ہے۔ میرے اس مضمون کو سمجھنے کے لئے آج کے پاکستان میں رائج نعروں کو سننے کی ضرورت ہو گی۔ جب ہم سندھی ، بلوچ، سرائیکی ، پٹھان اور مہاجر قوم کے نعرے سنتے ہیں۔ ان قومیتوں کی معقولیت کے بارے میں تقریریں سنتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں ، تو کسی بھی ذی شعور کے ذہن میں سوال اُٹھے گا کہ قوم کی تعریف کیا ہے۔ پاکستان بننے کے صرف چند سال بعد سب سے پہلے مشرقی پاکستانیوں نے اپنے الگ تشخص اور اپنی الگ زبان کا نعرہ لگایا تھا جو 1971 میں بنگلہ دیش کی شکل میں مُنتج ہوا ۔ اس کے لئے جو چاہیں تو جیہات دیں لیکن بنیادی طور پر بنگلہ دیش کا بننا دو قومی نظرئیے کی بنیاد (جو صرف مذہب اسلام تھی ) کی نفی ہو گئی۔ اب پچھلے 15-20 سالوں سے بلوچ ، سندھی اور سرئیگی اپنے آپ کو الگ قوم کہتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں ۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے مذہب کے نام پر قوم کی اصطلاح دراصل مناسب ہی نہیں تھی۔ قوم کا لفظ قرآن مجید میں 62 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ کبھی یہ لفظ اُمت کی شکل میں کبھی قوم کی شکل میں اور کبھی گروہ یا عامتہ الناس کی شکل میں استعمال ہوا ہے۔ قرآنی مطالب سے قوم کے Concept کو اس طرح بھی لیا جاسکتا ہے کہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھنے والے اور ایک ہی خطہ میں رہنے والے لوگوں کی قوم جیسے قومِ عاد، قومِ ثمودیا قومِ لوط۔ اُمت کے قرآنی مطاِلب زیادہ وسیع ہیں، اس کا تعلق ایک عقیدے کے ماننے والے لوگوں سے ہے۔ اس میں جغرافیائی یا خطہ کی کوئی قید نہیں ہے۔ اُمت کا تصّور نسل، زبان، جنس اور تقافت کی یکسانیت سے بھی مُبرا ہے۔ آپ اسے ایک بھائی چارہ یا fraternity کہہ سکتے ہیں۔ مغربی تصورِ قومیت اُمت کے نظرئیے کی نفی ہے۔ قومیت کے بت کی پوجا شرک کے زمرے میں سمجھی جاتی ہے۔ اسی لئے علاّمہ اقبال نے جب یہ شعر لکھا کہ

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اُس کی یہ گلستاں ہمارا

اُنہوں نے فوراً ہی اُمت کے تصور کا احساس کرتے ہوئے اپنا یہ شعر لکھا۔

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

اب ہم آتے ہیں دو قومی نظرئیے کے نعرے کی طرف۔ اس نعرہ کا تعلق نہ اسلام سے ہو سکتا تھا کیونکہ ہمارے ہاں قومیت کا مغربی تصور ہے ہی نہیں۔ یہ محض ایک سیاسی نعرہ تھا جو انگریز کو قائل کرنے کے لئے آئر لینڈ کے دانشور رائٹ پیک سے مستعار لیا گیا ،جس نے 1895ء میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ ٓائرلینڈ میں رہنے والے پروٹسٹنٹ اور کیتھولک 2 الگ قومیں ہیں(مذاہب نہیں) باقاعدہ اس نظریہ کانام دو قومی نظریہ رکھا گیا حالانکہ آئرلینڈ کے تمام باشندے نسلی طور پر ایک تھے یعنی Celts اور Gaelics ۔ زبان بھی ایک تھی ،یعنی آئرش۔ محض مذہب کو قومیت کی بنیاد بنا کر آئر لینڈ کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے پہلی مرتبہ ایک سیاسی نعرہ بنایا تھا جو نا کام ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ کے اکابرین نے جب ہندو کی نیت بھانپ لی کہ کانگریس جدُاگانہ انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی بے تحاشہ اکثریت کے دباؤ میں رکھے گی اور متحدہ ہندوستان میں مسلمان عوام خسارے میں رہیں گے تو اس لئے مسلم لیگ کے لیڈروں کو مسلمانوں کی جدُا گانہ حیثیت منوانے کے لئے یہ تصور پیش کرنا پڑا کہ ہندو ستان میں رہنے والے مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ الگ قومیت کی بنیاد مذہب اسلام کو بنایا گیا۔ حالانکہ ہم انڈین مسلمان اسلامی نقطہء نظر سے اور نہ ہی مغربی نقطہ ء نظر سے ایک الگ قوم تھے۔

دراصل دو قومی نظریہ کو ہندوستان میں پہلی مرتبہ غیر سیاسی طور پر پیش کرنے والے سر سید احمد خان تھے۔ اُنہوں نے انگریزوں کے سامنے یہ تصور پیش کیا کہ شمالی ہند میں رہنے والے مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں۔ سر سید کے دو قومی نظریئے کے مطابق بنگال اور ساؤتھ انڈیا کے مسلمان الگ قوم نہیں تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے دو قومی نظرئیے کا ذکر کسی بھی جلسے یا قرار داد میں نہیں کیا۔ البتہ قائد اعظمؒ اور دوسرے مسلم لیگی اکابر اپنی تقریروں میں یہ زور دے کر کہتے رہے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ قوم ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنے 1930 کے خطبے میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کی تلقین تو ضرور کی اور الگ وطن کی بنیاد کو مذہب ہی بنایا تھا، لیکن یہی علامہ جب کہتے ہیں کہ

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

تو اِن کا یہ شعر دو قومی نظرئیے کی نفی بھی کرتا ہے۔ یہ تو پاکستان بننے کے بعد دو قومی نظرئیے کا ذکر ملتا ہے جس کو خلیق الزمان، جو پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر تھے ، نے اپنی تقریروں میں استعمال کیا۔ اس نظرئیے کی سب سے پہلے مخالفت حسین شہید سہروردی نے کی اور کہا کہ محض مذہب کے حوالے سے پاکستانیوں کو ایک قوم نہیں کہا جا سکتا۔ جس طرح نظریہ پاکستان کی اِصطلاح کو خاموشی سے ہمارے مدرسوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں ڈال دیا گیا اسی طرح دو قومی نظریہ کو پاکستان بننے کے بعد پذیرائی ملی۔ جنرل ضیاء کی حکومت کے زمانے میں جماعت اسلامی کو بھی کچھ عرصہ کے لئے حکومت کرنے کا موقع ملا جس کے دوران دو قومی نظرئیے اور نظریہ پاکستان کی ترکیب مدرسوں اور کالجوں میں نصاب کے حصے کے طور پر پڑھائی جانے لگی، بلکہ یہ کہیے کہ پاکستان کی تاریخ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا۔پاکستان بننے کے بعد مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔ ہم اُس علیحدگی کی خواہ جو بھی تاویلیں دے دیں، مغربی پاکستان کی نوکر شاہی کو موردِالزام ٹہرا دیں، بنگال کے ہندوؤ ں کو وِلن بنا دیں، فوجی ایکشن یا بھٹو کی سیاست کو ذمہ دار بنا دیں، بنگلہ دیش کے بننے سے دو قومی نظرئیے کی رہی سہی فراست بھی ختم ہوگئی تھی۔ آج کے پاکستان میں جس طرح قومیتوں کے نعرے لگ رہے ہیں وہاں نہ ہی دو قومی نظریہ او ر نہ ہی نظریہ پاکستان کام آرہے ہیں۔

متحدہ ہندوستان میں دو قومی نعرے نے پاکستان نہیں بنایا ،بلکہ یہ تو نہرو ، پٹیل اور کچھ کچھ گاندھی کی شرارت تھی جس کی وجہ سے قائدِاعظمؒ کو متحدہ ہندوستان کے خیال کو تج کرنا پڑا ورنہ وہ تو کیبنٹ مشن کی آمد تک متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کا تو لاہور کی 1940 کی قرار داد میں بھی نام نہیں ملتا۔ جن دنوں مسلمانوں کو مذہبی حیثیت دے کر ہندوستان کی ایک الگ قوم ثابت کیا جارہا تھا۔ ہم ایک دوسری قسم کی برائی کو جنم د ے رہے تھے۔ ہندوؤں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو دھرم میں واپس لانے کے لئے شدّھی کی تحریک شروع کی۔ شدّھی کی منفی تحریک نے سکھوں کو بھی مسلمانوں سے متنفر کر دیا۔ اکالی دَل جو سکھوں کی تسلیم شدہ سیاسی پارٹی تھی اُس کا سربراہ ماسٹر تارا سنگھ اپنے وعدے سے پھر کر ہندوؤں سے جا مِلا جس کا بھیانک نتیجہ ہم نے پنجاب کی خونی ہجرت کی شکل میں دیکھا۔ ہندوستان میں گذشتہ سالوں سے جب سے بی۔جے۔پی نے زور پکڑنا شروع کیا تو ایک اور مخالفانہ مہم ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف تیار ہو گئی ہے۔ اُنہیں کہا جارہا ہے چونکہ تم ہم ہندوؤں سے الگ قوم ہو اس لئے یا تو ہندو ستان چھوڑ دو یا اپنے آبائی دھرم میں واپس آجاؤ یعنی ہندو بن جاؤ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک موجودہ حاکموں نے کرنا شروع کر دیا ہے۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ جذبہِ قومیت یا تو کسی سیاسی اور سماجی معاہدہ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے یا پھر کسی غیر ملکی حکمران کے خلاف جنگ و جدل اور لڑائی جھگڑے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کی پیدائش میں انگریز کے خلاف خون خرابے کی نوبت نہیں آئی تھی۔سچی بات تو یہ ہے کہ اگر قرار دادِ لاہور کے مطابق مسلمان اکثریت والے صوبوں اور علاقوں کو Home Rule دے دیا جاتا اور اُنہیں Dominions کا درجہ دے کر آزادی دے دی جاتی تو 1947ء کی خونریزی کا منظر دیکھنے میں آتا اور نہ ہی 1971 کا مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوتا اور نہ ہی آج جو نفاق ہمیں نظر آ رہا ہے پاکستان کی سر زمین پر ، وہ ہی ہوتا۔ آج کا پاکستان جس طرح نسلی، لسانی اور مسلکی طور پر بٹا ہوا ہے، مشکل ہے کہ ہمارے اندر پاکستانی قومیت کا جذبہ پیدا ہو۔ آج بھی اگر ہمارے تمام سیاست دان اتفاق کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کا صحیح طور پر نفاذ کر دیں تو پاکستان سالم اور محفوظ رہ سکتا ہے۔ پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوگا۔ تو بیرونی طور پر بھی مضبوط ہوگا، زیادہ سے زیادہ مقامی حکومت دینے سے صوبوں کے مز ید حصے بخرے کرنے کا مسئلہ بھی نہیں پیدا ہوگا۔

مزید : کالم