شدید دُھند اور گیس کی قلت سے پریشانی

شدید دُھند اور گیس کی قلت سے پریشانی

دھند نے ڈیرے ڈال دیئے، محکمہ موسمیات نے موسم میں کسی اچھی تبدیلی کی نوید نہیں دی۔ فی الحال یہی بتایا گیا کہ اگلے 72گھنٹوں تک بھی میدانی علاقے دھند کی لپیٹ میں رہیں گے۔ موسم خشک اور سرد رہے گا۔ اس صورت حال نے معمولات زندگی متاثر کر رکھے ہیں، آمد و رفت میں دِقت تو موسمی امراض نے بھی گھیر رکھا ہے جبکہ کمزور صحت والوں اور غریبوں کے لئے مشکل وقت آیا ہوا ہے۔ پرانے کپڑے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔اس صورت حال میں بجلی کا بحران تو موجود تھا، اب گیس کا بھی پیدا ہو گیا ہے۔یہ شدید ترین ہے، گیس کے دباؤ کی شکایات تو تھیں اب گیس آ ہی نہیں رہی لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ سوئی ناردرن والے اچھی اور بہتر صورت پیدا کرکے عوام کو خوشخبری سنانے کی بجائے مزید ڈرا رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گیس مل نہیں رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ گیس ہیٹر اور گیزر نہ چلائے جائیں۔ کوئی ان حضرات سے پوچھے کہ سالن اور روٹی پکانے کے لئے چولہا نہیں جلتا تو ہیٹر اور گیزر کیسے کام کریں گے؟ البتہ یہ ممکن ہے کہ یہ محکمہ والے جن مراعات یافتہ علاقوں کو گیس دیتے ہیں۔یہ ان کے لئے ہو، لیکن ان کی پڑتال کرنے والوں کے تو پرجلتے ہیں، سوال تو عام آدمی کا ہے جسے کوئی ریلیف نہیں۔عوام تو پوچھ رہے ہیں کہ وزیر قدرتی وسائل محترم خاقان عباسی کہاں ہیں، ان کو حالات کنٹرول کرنا چاہیے تھے لیکن وہ تو پہلے ہی گیس نہ ہونے کا مژدہ سنا چکے ہیں۔ اب اگر وہ غائب ہیں تو حق بجانب ہیں کہ کون جواب دہی کرے۔ حکمران طبقے اگر صرف دہشت گردی ہی کے پیچھے پڑ گئے ہیں توان کو اس دہشت گردی کا بھی خیال کرنا چاہیے۔جہاں تک گیس کی شدید قلت کا سوال ہے تواس کا شکار صوبہ پنجاب کے لوگ ہیں۔ سندھ اور خیبرپختونخوا والے اتنے دکھی نہیں ہیں، حیرت ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی چپ ہیں وہ اپنے صوبے کے عوام کی فریاد کو سن کر وفاقی والوں سے بات کیوں نہیں کرتے، مہنگائی نے مارا تو اب گیس کھانا نہیں کھانے دیتی۔ اس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔

مزید : اداریہ


loading...